’ایک سیاستدان کے ساتھ جو سکینڈل بنایا گیا اس نے بہت تکلیف دی‘

برسوں پاکستان فلم انڈسٹری پر راج کرنے والی ریما خان کا کہنا ہے کہ شوبز میں کام کرنے والوں کے سچے جھوٹے سکینڈلز بنائے جاتے ہیں۔

اداکارہ ریما خان  ایک انٹرنیشنل پراجیکٹ کرنے جا رہی ہیں جس میں مختلف لوگوں کے انٹرویوز ہوں گے (اے ایف پی)

پاکستانی اداکارہ اور ہدایت کار ریما خان کا کہنا ہے کہ ان کی سیاست میں صرف اتنی ہی دلچسپی ہے کہ نیشنل اور انٹرنیشنل لیول کی سیاست میں کیا ہو رہا ہے اور وہ کسی کو اپنا فیورٹ بنا کر اس کے حق اور کسی دوسرے کے خلاف باتیں نہیں کرتیں۔

ریما خان کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں ایک ایماندار لیڈر قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے اداکارہ ریما خان کا کہنا تھا کہ وہ ایک انٹرنیشنل پراجیکٹ کرنے جا رہی ہیں جس میں مختلف لوگوں کے انٹرویوز ہوں گے۔ ان کے مطابق اس سے پہلے بھی وہ امریکی سیاستدانوں کے انٹرویوز کر چکی ہیں جو ان کے لیے بہت اچھا تجربہ رہا۔

ریما خان کا کہنا تھا کہ شوبز میں کام کرنے والوں کے سچے جھوٹے سکینڈلز بھی بنائے جاتے ہیں۔ ’میرے بھی بنے لیکن ایک سیاستدان کے ساتھ جو میرا سکینڈل بنایا گیا اس نے مجھے بہت تکلیف دی۔ میں اس سیاستدان کا نام نہیں لوں گی لیکن آج بھی سوچوں تو افسوس ہوتا ہے کہ میرے ساتھ یہ غلط کیا گیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ جس صحافی نے سکینڈل بنایا تھا اس کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ریما نخرے کرتی ہے انٹرویو نہیں دیتی ہمارے ساتھ اٹھتی بیٹھتی نہیں ہے۔

اپنے فلمی کریئر پر بات کرتے ہوئے ریما نے اپنی پاکستانی اداکار شان کے ساتھ جوڑی کے بارے میں کہا کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ ہم دونوں نے ایک ساتھ اس طرح سے کام نہیں کیا جس طرح کرنا چاہیے تھا۔ ہمارے لاکھ اختلافات رہے ہوں لیکن جو بات سچ ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ وہ یہ کہ شان آج بھی سپر سٹار ہے اس کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’شان اور ریما فلم انڈسٹری کی ٹین ایج جوڑی تھی ہمیں آتے ہی شہرت مل گئی راتوں رات سٹار بن گئے کم عمر ہونے کی وجہ سے ہم دونوں امیچور بھی تھے ایک دوسرے کے خلاف بات کر جایا کرتے تھے‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم دونوں کے پاس کوئی صحافی آجاتا تھا تو وہ کہتا تھا شان نے یہ کہہ دیا یا شان سے کہتے تھے کہ ریما نے یہ کہہ دیا یوں ہم دونوں نادانی میں ایک دوسرے کے خلاف کمنٹ کر دیتے تھے یوں وہ ہیڈلائن بن جایا کرتی تھی۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے اللہ نے بیٹے سے نوازا ہے۔ بیٹے کا نام سید محمد اذلان شہاب ہے۔ بہت لاڈلا ہے میرا سارا وقت میرا بیٹا لیتا ہے، اس کے سارے کام میں خود کرتی ہوں۔

تاہم ریما کا کہنا ہے کہ وہ پرائیویسی کا بہت زیادہ خیال رکھتی ہیں۔ ’میں میڈیا پر اپنے بیٹے کو نہیں لے کر آتی میری بہنیں بہت خوبصورت ہیں لیکن میں کبھی ان کو بھی میڈیا پر نہیں لے کر آئی کیونکہ ایسے ہی کوئی کسی طرح کا بھی کمنٹ کر دے یا بات لکھ دے تو معاملات بگڑ جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیشہ پرسنل لائف کو میڈیا سے دور رکھا۔‘

’میں جب ہیروئین تھی تب والی زندگی کا اپنا مزہ تھا اب ایک بیوی ہوں تو اس زندگی کا اپنا مزہ ہے۔ پہلے کسی بات کی فکر نہیں ہوتی تھی اب ہر کام کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں لوگ اور سسرال والے یہ نہ کہیں کہ شوبز کی لڑکیاں گھر بسانے والی نہیں ہوتیں۔‘

ریما خان جو کہ اداکاری کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری بھی کر چکی ہیں کا کہنا ہے کہ بطور اداکارہ کام کرنا آسان ہوتا ہے کیونکہ اس میں آپ نے اپنے آپ پر توجہ دینی ہوتی ہے لیکن بطور ڈائریکٹر آپ کو ہر شعبے کو دیکھنا ہوتا ہے میرے دونوں تجربے بہت ہی یادگار رہے ہیں۔

’میر ی خوش نصیبی ہے کہ محمد علی، ندیم اور معین اختر نے میری فلم کی اوپننگ کی۔ مجھے شمیم آرا کی ڈائریکشن میں کام کرنے کا موقع ملا۔ میں نے ایک ڈرامہ کیا تھا جس کے بعد وقت کی کمی کی وجہ سے مزید ڈراموں میں کام نہیں کر سکی۔‘

انگریزی زبان پر تبصرہ کرتے ہوئے ریما نے کہا کہ یہ میرا یا آپ کا نہیں بلکہ پوری سوسائٹی کا کمپلیکس ہے۔ اگر کوئی غلط انگلش بول دے تو اس کا مذاق بنایا جاتا ہے لیکن اگر کوئی انگریز غلط اردو بولے تو دیکھا ہے کہ کسی نے مذاق بنایا ہو؟

’انگریزی میں گالی دی جائے تو اتنا برا نہیں مانا جاتا لیکن اگر پنجابی میں کوئی گالی دے تو انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ہمیں اپنی زبان کو لے کر شرمندگی محسوس نہیں کرنی چاہیے نہ ہی کسی کا مذاق بنانا چاہیے۔‘

ریما نے موجودہ فلم انڈسٹری اور بننے والی پاکستانی فلموں کے بارے میں کہا کہ جو فلمیں بن رہی ہیں ان میں فلم کی کمی نظر آتی ہے۔ آج فلم بنانا اتنا مشکل نہیں جتنا اسے ہٹ کرانا مشکل ہے۔ بھیڑ چال فلمی صنعت کے زوال کا باعث بنی۔

ساتھ ہی انہوں نے اس وقت پاکستانی سٹارز مہوش حیات اور ماہرہ خان کو مشورہ دیا کہ انہیں چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر بھی ضرور دھیان دیں لیکن اپنی گریس کا بھی خیال ضرور رکھیں جو وہ رکھتی بھی ہیں۔

’اب ہر دوسرا فنکار سوشل میڈیا پر ہر وقت موجود ہے اپنی پل پل کی تصویر اور خبریں اپلوڈ کر رہا ہوتا ہے تو ایسے میں اگر ان کی فلم لگے گی تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ لوگوں کو کتنی دلچسپی ہوگی اسے دیکھنے میں۔ تب ہی تو کہتی ہوں کہ آج فلم بنانا مشکل نہیں اس کو ہٹ کروانا مشکل کام ہے۔‘

ریما نے کہا کہ ’ہمارے دور میں آرٹسٹ اگر ایک سے دوسرا ری ٹیک کرواتا تھا تو اس کو ڈانٹ پڑتی تھی اور ایک سے زیادہ ری ٹیک کروانے والوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ اس کی شہرت خراب ہو جاتی تھی اور پروڈیوسر کا باقاعدہ منہ بن جاتا تھا لیکن آج میں اس حوالے سے مختلف ماحول دیکھ رہی ہوں۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب تھیٹر بہت اچھا ہوتا تھا معین اختر اور عمر شریف اس کی ایسی مثالیں ہیں کہ جن کے مقام کو چھونا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

’مجھے یاد ہے کہ آج سے 20، 25 برس پہلے مجھے 15دن کا تھیٹر کرنے کی آفر ہوئی تھی اس کے لیے ایک کروڑ دیا جا رہا تھا لیکن میں نے منع کر دیا اس لیے نہیں کہ تھیٹر کو برا سمجھتی ہوں بلکہ اس لیے مجھے جاوید فاضل کی ایک بات یاد تھی کہ ’ستارے آسمان پر چمکتے ہیں لوگ انہیں صرف دیکھ سکتے ہیں چھو نہیں سکتے‘ مجھے ان کی یہ بات بہت اچھی لگی اس لیے میں نے اسے پلے باندھ لیا۔‘

جیسا کہ کئی پاکستانی اداکار اور اداکارائیں بھارتی فلموں میں کام کر چکے ہیں، اس بارے میں جب ریما خان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے بھارت سے متعدد بار کام کی آفر ہوئی میں نے شاہ رخ خان، پریتی زنٹا کے ساتھ سٹیج شیئر کیا۔ میں بھارت اس وقت گئی جب پاکستان میں ان کی فلموں کا طوطی بول رہا تھا۔ وہاں گئی تو بہت عزت افزائی ہوئی۔ بھارت شاہ، رتن کمار، یش جوہر اور رمیش سپی نے مجھ سے خود ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ہم ملے بھی مجھے فلموں میں کام کرنے کی آفر بھی دی گئی لیکن میں نے عزت احترام سے منع کر دیا کیونکہ میں سمجھتی تھی کہ میں ان کی فلموں میں لباس پر کمپرومائز نہیں کر سکوں گی۔‘

’مجھے یاد ہے کہ عامر خان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ کی فلمیں اپنی شناخت بھول گئی ہے آپ کی ہیروئین اور آئٹم گرل میں فرق ہی نظر نہیں آتا۔‘

آخر میں ریما خان نے نے کہا کہ وہ شان کو پہلے، فہد مصطفیٰ کو دوسرے، ہمایوں سعید کو تیسرے اور فواد خان کو چوتھے نمبر پر ریٹ کرتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم