جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران کی مشکلات

شام اور عراق سے کرائے کے لاکھوں فوجیوں کی واپسی میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس کے لیے مالی وسائل کی بھی ضرورت ہے جن کی کمی ایران کو سامنا ہے۔

بغداد کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے بڑی ہوشیاری سے گیند خامنہ ای کے کورٹ میں پھینک دی ہے اور اب یہ ان کے صبر کا امتحان بن گیا ہے۔ (اے ایف پی)

کیا القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان 40 سالہ دشمنی آخری نہج تک پہنچ جائے گی؟ یہ وہ سوال ہے جو گذشتہ 24 گھنٹے سے دنیا کے ہر کونے سے پوچھا جا رہا ہے۔

جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیان کو اگر غور سے پڑھا جائے تو اس سوال کا ممکنہ جواب ’نہیں‘ میں ہی ملے گا۔

اس بات کی تصدیق ان امریکی حکام کے بیانات سے بھی ہوتی ہے جو بغداد حملے کے بعد فاتحانہ انداز میں چھاتی پھلا رہے تھے۔ یہ حکام اب امن کی فاختہ بنے مائیک پومپیو کے 12 نکاتی مذاکراتی ایجنڈے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

یہ بات عیاں ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای خلیج عمان میں تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر اور خلیج کی دوسری جانب سعودی عرب کی تیل کی سب سے بڑی تنصیبات کو ڈرونز اور میزائلوں سے تباہ کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صبر کا امتحان لے رہے تھے۔

خامنہ ای کا خیال تھا کہ ڈونلڈٹرمپ امریکہ میں رواں سال ہونے والے صدارتی انتخاب کے تناظر میں باقاعدہ جنگ چھیٹرنے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ شاید ان کا اندازہ درست تھا۔ تاہم ایرانی سپریم لیڈر کو اندازہ نہیں تھا کہ صدر ٹرمپ محدود آپریشنز کے ذریعے بڑے اہداف کو نشانہ بنا کر قومی سلامتی کے لیے تمغے اپنے سینے پر سجا سکتے ہیں۔

بغداد کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے بڑی ہوشیاری سے گیند خامنہ ای کے کورٹ میں پھینک دی ہے اور اب یہ ان کے صبر کا امتحان بن گیا ہے۔

کیا جنرل سلیمانی واقعی اسلام کے عظیم سپاہی تھے؟ کیا جنرل سلیمانی کی ہلاکت اس لمحے خامنہ ای کے لیے ناقابل برداشت تکلیف ہے جو اکثر ان کی قابلیت کی تعریف کرتے دکھائی دیتے تھے۔ یہاں بھی میرا محتاط جواب ’نہ‘ ہے۔ دوسرے لفظوں میں میرا نہیں خیال کہ خامنہ ای جنرل سلیمانی کا بدلہ لینے کے لیے کوئی خطرہ لیں گے۔ آخر کار اپنے بیان میں خامنہ ای نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے لیے تڑپ کا ذکر کیا تھا۔ اور اس وقت جب قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی تمنا پوری ہو چکی ہے تو ان کے ساتھی اور دوست اس اعزاز پر ان سے حسد کیوں کریں گے؟ متعدد عملی اقدامات نے خامنہ ای کے آپشنز کو محدود کردیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خامنہ ای کی سرپرستی میں ایرانی حکمران ایران سے باہر انتقام لینے کے لیے روایتی ذرائع کے طور پر ایران کے لیے لڑنے والے جنگجوؤں پر انحصار کرتے ہیں۔ 1979 سے دنیا بھر میں دہشت گردی کی تین سو سے زیادہ کارروائیوں کا تانابانا اسلامی جمہوریہ ایران سے جا ملتا ہے۔ نصف درجن سے کم ایسی کارروائیوں میں ایرانی شہری ملوث تھے یا کسی عدالت میں ثابت کیا جا سکتا ہے کہ ان کارروائیوں کا منبع ایران کے اندر تھا۔ درجنوں لبنانی، عراقی، فلسطینی اور تیونس کے شہریوں سمیت مختلف ممالک کے لوگ بارہ سے زیادہ مقامات پر ایران کے ایما پر کی گئی ان کارروائیوں کے جرم میں جیل گئے۔

آج اس قسم کے کارڈ کھیلنا آسان نہیں رہا۔ حزب اللہ کی لبنانی شاخ جو دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ایرانی سرمائے سے چلنے والے گروہوں میں سے سب زیادہ تیاری کی حالت میں ہے، اب ایران کے ایما پر انتقامی کارروائیاں کر کے اپنے وجود کو پہنچنے والے بڑے نقصان یا شائد تباہی کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل سلیمانی کی موت کے بعد غصے کی جو کیفیت پیدا ہوئی ان میں سے نسبتاً سب سے کم جارحانہ رویہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا ہے۔

ایران کے لیے شام میں موجود آپشنز بھی بہت محدود ہیں۔ شام میں ایرانی فنڈ سے تقریباً ایک لاکھ فوجی سرگرم ہیں جن میں سے چار ہزار ایرانی شہری ہیں۔ یہ فوج عراقی سرحد کے قریب صحرا کے ایک کونے میں موجود ہے۔ یہ فوجی زیادہ تردفاعی پوزیشن پر ہیں جس کی وجہ شامی باغیوں حتیٰ کہ شامی صدر بشارالاسد کی وفادار کچھ فورسز کے بار بار حملے ہیں۔ کوئی بھی صورت ہو ان کے لیے شام میں ایسے امریکی ہدف کو تلاش کرنا مشکل ہو گا جسے انتقام کے قابل کہا جا سکے۔

ملا عراقی اتحادیوں سے بھی کچھ زیادہ توقع نہیں رکھ سکتے۔ عراق میں ایرانی موجودگی کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غصے کی وجہ سے بہت سے شیعہ عراقی گروپ حالیہ برسوں میں ایران کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کر چکے ہیں۔ ایک حالیہ دورے میں ہم نے دیکھا کہ عراق میں ایران کی پوزیشن ڈرامائی انداز میں تباہی کا شکار ہے۔ اس کی ایک وجہ جنرل سلیمانی کی نااہلیت اوراکڑ تھی۔ دو سال پہلے عراق میں جنگجو گروہوں کے ذریعے امریکہ کے خلاف لڑی والی جنگ ممکن تھی حتیٰ کہ اس کے اخراجات بھی کم تھے۔ تاہم آج طاقت کا توازن ایران کے خلاف ہو چکا ہے۔

خامنہ ای کے ترجمان اخبار کیہان کے مطابق بلاشبہ ایران حزب اللہ اور حماس کو اسرائیل پر کچھ حملوں کا حکم دے سکتا ہے یا بعض عرب ملکوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ تاہم کوئی بھی آپشن اتنا آسان نہیں جتنا دکھائی دیتا ہے۔

اس صورت حال نے امریکہ پر براہ راست ایرانی حملے کا راستہ کھلا چھوڑا ہے۔ مثال کے طور پر قطر میں سینٹ کام کے اڈے یا اومان کے جزیرہ نما میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے امریکہ کو خلیج اور اومان کے سمندر میں ایرانی پاسداران انقلاب کے اڈے کو مکمل طور پر ختم کرنے کا موقع مل جائے گا۔

اس طرح طاقت کا توازن ایران کی باقاعدہ فوج کے حق میں ہو جائے گا جو پاسداران انقلاب اورملاؤں میں موجود انہیں تحفظ دینے افراد کے خلاف خاموش جدوجہد میں مصروف ہے۔

ایران سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی صبر، لچک اور تحمل کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اگر علاقے میں استحکام لانا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ زوال کا شکار وہ سلطنت جو ملاؤں نے عراق، شام اور لبنان میں قائم کی ہے اسے ختم کر دیا جائے۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں جتنا نظر آتا ہے۔

شام اور عراق سے کرائے کے لاکھوں فوجیوں کی واپسی میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس کے لیے مالی وسائل کی بھی ضرورت ہے جن کی کمی ایران کو سامنا ہے۔ لبنان کی حزب اللہ کی غیرملکی فوج سے سیاسی جماعت میں تبدیلی کچھ زیادہ پیچیدہ عمل ثابت ہو سکتا ہے۔

بحران کا ایک حصہ جنرل سلیمانی کی انتہا درجے کی نااہلی ہے جن کی توجہ ہمیشہ اپنی ذات کو نمایاں کرنے پر مرکوز رہی ہے۔ وہ اسلامی، اسرائیلی، مغربی ذرائع ابلاغ اور پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی نام کے ساتھ جوڑی گئی فرضی باتوں پر یقین رکھتے تھے اور اسی کے ساتھ ان کا خاتمہ ہو گیا۔

جنرل سلیمانی خود ہی اپنے استاد تھے اور شوقیہ سپاہی تھے۔ انہوں نے سلطنت کے قیام کی حکمت عملی وضع کرنے کی بجائے زیادہ تر توانائی اپنی ذات کو نمایاں کرنے میں صرف کی۔ انہوں نے جنگ ختم ہونے کے طویل عرصے بعد میدان جنگ کے اچانک دوروں کے موقعے پر سلیفیاں بنائیں۔ ایک طرح سے جنرل سلیمانی عظمت کے شوقین ملاؤں اور ان کے مغربی دشمنوں جنہیں ایک وہمی شخص کی ضرورت تھی، کی جانب سے بنائی ہوئی اپنی ساکھ کا شکار ہوئے۔

جنرل سلیمانی کی جگہ لینے والے جنرل اسماعیل قانی اور بھی زیادہ اوسط درجے کی قابلیت کے مالک ہیں۔ وہ ایک فاتح یا سلطنت قائم کرنے والی شخصیت کی بجائے محض ایک بیورکریٹ ہیں اور یس مین ہیں جنہیں اپنی اوسط درجے کی صلاحیت کا بھی علم نہیں ہے۔ موجودہ صورت حال کے پیش نظر بظاہر یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ ایران کو اس دلدل سے نکالنا زیادہ آسان ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امیر طاہری 13 کتابوں کے مصنف ہیں اور سات برس تک ایران کے مرکزی اخبار روزنامہ کہیان کے ایڈیٹر انچیف رہ چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر