پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور اور اس کے نواحی علاقوں میں کتوں کے شہریوں کو کاٹنے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوچکاہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سو سے زائد افراد روزانہ کتوں کا شکار ہونے لگے ہیں۔
شکایات پر ضلعی انتظامیہ نے کتے مار مہم شروع کررکھی ہے جس کے تحت روزانہ سو سے ڈیڑھ سو کتے مارے جارہے ہیں۔
دوسری جانب جانوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے آوارہ کتوں کو مارنے کی مہم فوری روک کر انہیں جنگلات میں چھوڑنے اور ویکسین دینے کا مطالبہ کیاہے۔ انہوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے جانوروں کو تحفظ دینے سے متعلق قوانین پر عمل نہ کیاتو وہ قانونی چارہ جوئی کریں گے۔
جب کہ شہریوں کی جانب سے وزیر اعظم سیٹیزن پورٹل اور ضلعی حکومت کے دفاتر میں آوارہ کتوں کو ختم کرنے کے لیے مسلسل شکایات درج کرائی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اینٹی ریبیز سینٹر کی سربراہ ڈاکٹر عائشہ نواب کے مطابق لاہور اور گردونواح سے روزانہ سو سے زائد افرادکتے کاٹنے سے زخمی ہوکر ویکسین کے لئے سینٹر آتے ہیں جن میں مرد،خواتین اور بچے شامل ہوتے ہیں۔ بعض مریض زیادہ زخمی ہونے کے باعث ہسپتال پہنچتے ہیں، یہ معاملہ آئے روز سنگین ہوتاجارہاہے۔
ضلعی حکومت کی جانب سے آوارہ کتوں کو مارنے کی مہم کے لیے بنائی گئی ٹیم کے سربراہ محمد جبران نے انڈپینڈنٹ اردوسے بات کرتے ہوئے کہاکہ ان کی ٹیم شہریوں کی جانب سے مختلف علاقوں کے رہائشیوں کی درخواست پر آپریشن کرتی ہے۔ زیادہ تر دیہی علاقوں میں کتے کاٹنے کی شکایات موصول ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاہور شہر اور نواحی علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر آپریشن جاری ہیں روزانہ سو سے ڈیڑھ سو کتے مارے جارہے ہیں۔
یہ آپریشن آوارہ کتوں کے خلاف کیاجاتاہے جب کہ پالتو کتے رکھنے والوں کے پاس لائسنس ہونا ضروری ہےاور ان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے پالتو کتوں کو باقاعدہ ویکسین دلوائیں تاکہ کسی کو کاٹنے سے نقصان نہ ہو۔
دوسری جانب جانوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے والی ساراگنڈاپورنے انڈپینڈنٹ سے گفتگومیں کہاکہ کتے بھی جاندار ہیں، ان کی جان کا تحفظ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ لوگوں کوکاٹتے ہیں تو ان کو مار دینا مسئلے کاحل نہیں بلکہ حکومت کو چاہیے کہ جانوروں کے تحفظ سے متعلق ریاستی ذمہ داریوں میں متعین طریقہ کارپر عمل کریں۔
انہوں نے کہاکہ آوارہ کتوں کو ویکسین دے کر خطرناک ہونے سے بچایاجاسکتاہے۔ اسی طرح انہیں پکڑ کر دوردراز جنگلوں میں چھوڑاجاسکتاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے کتوں کو مار کر ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے اور مرے کتوں کو کھلے عام مار کر پھینکنے سے کئی وبائی بیماریاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا ریاست مدینہ میں جانوروں کی جان کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ سارا گنڈا پور نے دھمکی دی کہ اگر کتے مار مہم بند نہ ہوئی تو وہ قانونی کارروائی کےلیے عدالتوں سے رجوع کریں گی۔