انتخابات کے نتائج تسلیم نہ ہونے کےباوجودحمایت کی: خالد مقبول

استعفی دیتے ہوئے کنوینر ایم کیو ایم کا موقف تھا کہ 16، 17 ماہ بعد تک ایم کیو ایم کی طرف سے پیش کیے گئے کسی نکتے پر ذرا بھی پیش رفت نہیں ہوئی۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ان کی پارٹی حکومت کی حمایت جاری رکھے گی۔ (سکرین گریب)

ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے اتوار کو کراچی میں سرکردہ پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ان کا حکومت کے ساتھ چلنا مشکل ہوتا جا رہا تھا اور موجودہ حالات میں ان کا وزارت میں بیٹھنا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے وزارت میں رہنے سے کراچی کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ان کی پارٹی 2018 کے عام انتخابات کے نتائج کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتی تھی، نتائج تسلیم نہ ہونے کے باوجود جمہوری عمل کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کی حمایت کی۔

’ہم نے حکومت سے وعدہ کیا تھا کہ حکومت بنانے میں ان کی مدد کریں گے، ہم نے وعدہ پورا کیا، ہم بہت انتظار کرتے رہے لیکن 16، 17 ماہ بعد تک ہماری طرف سے پیش کیے گئے کسی نکتے پر ذرا بھی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم بنانے کے لیے، میرٹ کے قیام اور سندھ کے شہری علاقوں کو حقوق دلانے کے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ ان کے دو معاہدے ہوئے تھے، ایک معاہدہ بنی گالہ جبکہ دوسرا جہانگیر ترین کی موجودگی میں ہوا۔

پی ٹی آئی حکومت سے اتحاد ختم ہونے کے معاملے پر خالد مقبول صدیقی نے کہا: ’ہم نے وزارت قانون و انصاف نہیں مانگی تھی۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ ایم کیو ایم پاکستان نے جو دو نام وزارتوں کے لیے دیے تھے ان میں فروغ نسیم کا نام شامل ہی نہیں تھا۔ ’حکومت کو ایک ایسے وکیل کی ضرورت تھی جو ان کے مقدمات اچھی طرح لڑ سکے اسی لیے انہوں نے فروغ نسیم کو خود منتخب کیا۔‘

پیپلز پارٹی کی جانب سے وزارتوں کی پیشکش کے بارے میں انھوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں ’کہیں اور سے بھی وزراتوں کی بات ہوئی تھی لیکن ہم حکومت سے اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔‘

انھوں نے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا: ’وفاق کا ہر مشکل مرحلے میں ساتھ دیا لیکن سندھ کے شہری علاقوں سے ناانصافی کی جا رہی ہے، ان ساری چیزوں کا پیپلز پارٹی کی کسی آفر سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان