بھارت میں مودی کے قافلے کی جانب بڑھتے مظاہرین پر لاٹھی چارج

عنیی شاہد کے مطابق دو ہزار کے قریب مظاہرین سٹیڈیم کے باہر جمع ہو گئے اور انہوں نے’فاشسٹ مودی واپس جاؤ‘ کے نعرے لگائے جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان محاذ آرائی ہوئی۔ بعد ازاں ایک سو سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔

احتجاج کے دوران مودی کے پتلے جلائے گئے اور ہوا میں سیاہ جھنڈے بھی لہرائے گئے۔(اے ایف پی)

بھارتی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں پولیس نے وزیراعظم نریندرمودی کے قافلے کی جانب بڑھتے مظاہرین کو روکنے کے لیے ان پر شدید لاٹھی چارج کیا ہے۔

بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہرے دو ماہ کی مدت میں شدید ہوتے جا رہے ہیں۔

کولکتہ میں لاکھوں مظاہرین مودی کے ریاستی دورے کے خلاف رات بھر بھی احتجاج کرتے رہے۔ مزید براں مغربی بنگال کی حکومت شہریت کے متنازع قانون کی سخت مخالف ہے۔

لاٹھی چارج کے بارے میں پولیس کا موقف تھا کہ مظاہرین نے اچانک ہلہ بول دیا اور رکاوٹیں پار کر کے قافلے کی طرف جانے کی کوشش کی تاکہ وزیراعظم کی گاڑی کو سٹیڈیم کے باہر ہی روکا جا سکے۔

سٹیڈیم ہی میں دوران خطاب مودی نے ایک بار پھر متنازع قانون کا دفاع کرتے ہوئے زور دیا کہ اس کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگ گمراہ ہیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ دو ہزار کے قریب مظاہرین سٹیڈیم کے باہر جمع ہو گئے اور انہوں نے’فاشسٹ مودی واپس جاؤ‘ کے نعرے لگائے جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان محاذ آرائی ہوئی۔ پولیس افسر کے مطابق ایک سو سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

احتجاج کے دوران مودی کے پتلے جلائے گئے اور ہوا میں سیاہ جھنڈے بھی لہرائے گئے۔ یاد رہے کہ بھارتی معاشرے میں یہ عمل کافی توہین آمیز خیال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مظاہرہ کرنے والے ایک شخص سمیت نندی کا کہنا تھا ’حکومت ہماری آواز نہیں دبا سکتی۔ ہم ڈرتے نہیں ہیں۔ ہم نے اپنے حق کے لیے لڑنے کا عزم کر رکھا ہے۔ جب تک مودی ہمارے شہر سے جاتے نہیں ہم مظاہرے کرتے رہیں گے۔‘

مغربی بنگال فی الوقت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ریاست کی وزیراعلیٰ ممتابینرجی کے درمیان سیاسی میدان جنگ بن چکا ہے۔ ریاست میں ترینہ مول کانگریس پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ ممتابینرجی ان ریاستی رہنماؤں میں شامل ہیں جو شہریت کا متنازع قانون نافذ کرنے سے انکار کر چکی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کولکتہ میں طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ  شہریت کا ترمیمی بل ان اقلیتوں کے لیے ہے جن پر پاکستان میں ظلم ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جواب دے کہ 70 سال میں وہاں اقلیتوں پر ظلم کیوں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ نیا قانون شہریت ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ شہریت دینے کے لیے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہریت کے قانون کے خلاف سیاسی وجوہات کی بنا پر ابہام پھیلایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم شہریت کے قانون میں ترمیم نہ کرتے تو نہ یہ متنازع ہوتا اور نہ ہی یہ معلوم ہوتا کہ پاکستان میں اقلیتوں پر کس طرح ظلم ہوا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا