سمادھی جہاں ہندوؤں کے چلے جانے کے بعد بھی چراغ جلتے رہے

انڈپینڈنٹ اردو پر شائع ہونے والے ایک بلاگ کے بعد سربراہ ہندو کونسل پاکستان ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے ٹیری میں مندر بحالی اور اس سے منسوب واقعات پر روشنی ڈالی۔

انڈپینڈنٹ اردو پر شائع ہونے والے ایک بلاگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ ہندو کونسل پاکستان ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کا کہنا تھا کہ ٹیری میں موجود ایک چھوٹے سے مندر کی جب میں نے ڈویلمپنٹ کروائی تو اس پر انڈپینڈنٹ اردو کی طرف سے بہت اچھا رسپانس نظر آیا، انہوں نے اس خبر کو واضح اہمیت دی اور خوبصورتی سے شائع کیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ ٹیری ایک چھوٹا سا مندر تھا جسے میں نے دوبارہ آباد کرنے کی کوشش کی۔ انڈپینڈنٹ اردو کی وجہ سے دنیا بھر میں لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس مندر کی اہمیت کیا تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس واقعے کا پس منظر بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’شری پرم ہنس جی مہاراج کی وفات ایک سو برس پہلے ہوئی۔ ان کی سمادھی ٹیری میں تھی۔ ان کے متعقدین میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی چونکہ وہ حافظ قران تھے۔‘

’ہندوؤں کے پاکستان سے جانے کے بعد بھی ایک عرصے تک وہاں چراغ جلائے جاتے تھے۔ ضیا دور میں وہاں چند لوگوں نے قبضہ کر لیا اور بعد میں سمادھی توڑ دی گئی۔ 2014 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میں وہاں پر گیا اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ مل کر اسے دوبارہ آباد کیا۔‘ 
ان کا کہنا تھا کہ اب ہم اس علاقے میں موجود سڑکوں اور انفراسٹرکچر پر بھی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی درگاہیں جہاں پر ہوتی ہیں وہاں خدا کی رحمت ہوتی ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا