پشاور: آوارہ کتوں کی نس بندی کے لیے جدید آپریشن تھیٹر

عوام کو پاگل کتوں کے جراثیم ’ریبیز‘ سے محفوظ رکھنے کے لیے پشاور میں ایسے 22 کتوں کی سرجری کی مدد سے نس بندی کی جا چکی ہے۔

عوام کو پاگل کتوں کے جراثیم ’ریبیز‘ سے محفوظ رکھنے کے لیے پاکستان میں پہلی مرتبہ آوارہ کتوں کی نس بندی کر کے ان کی افزائش نسل روکی جا رہی ہے۔

آوارہ کتوں کی افزائش نسل روکنے کے لیے ان کے تولیدی نظام کی سرجری کے عمل کا آغاز صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور سے ہوا جہاں اس مقصد کے لیے ایک جدید آپریشن تھیٹر قائم کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر معصوم علی کے مطابق آپریشن کے ذریعے آوارہ کتوں کی نس بندی کرنے کا یہ عمل پورے جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے، جس کے تحت وہ اب تک 22 آپریشن کر چکے ہیں۔

انھوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کے دوران بتایا کہ ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر کی ہدایات پر پورے پشاور میں آوارہ کتوں کا سروے کرنے پر پتہ چلا کہ اِس وقت ان کی تعداد سات ہزار کے لگ بھگ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا: ’آوارہ کتوں کو پکڑنے کے لیے ہمارے پاس ایک ٹیم ہے جو پشاور ڈیلوپمنٹ اتھارٹی اور واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور نے سپانسر کی ہوئی ہے۔ وہ ایک جال کی مدد سے کتوں کو پکڑتی ہے، جنھیں ہسپتال لا کر بے ہوشی کی دوا دی جاتی ہے اور سرجری کے عمل سے گزارنے کے بعد ان کے کانوں پر ایک مہر لگا دی جاتی ہے تاکہ آئندہ اگر انھیں دوبارہ پکڑا جائے تو ان کی شناخت ہوسکے۔

انھوں نے بتایا: ’یہی نہیں بلکہ ان کے گلے میں ایک پٹہ بھی ڈال دیا جاتا ہے جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اب یہ کتا حکومت کی پراپرٹی ہے۔ دوسرا اس پٹے کا ایک مقصد یہ ہے کہ تاریکی میں چمکنے سے وہ کتوں کو حادثات سے بچائے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ سرجری کے علاوہ ان آوارہ کتوں کو اینٹی ریبیز ویکسین بھی دی جاتی ہے، جس کے بعد نہ صرف ان کی جارحانہ حِس ختم ہوجاتی ہے بلکہ جنسی خواہش بھی بیدار نہیں ہوتی۔

’سرجری کے بعد ہم ان کتوں کو چار گھنٹے آبزرویشن میں رکھتے ہیں، تاکہ یہ بے ہوشی کی حالت سے مکمل طور پر نکل آئیں۔ اس دوران ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کہیں خون تو نہیں بہہ رہا۔ ان کتوں کو درد اور زخموں سے بچانے کے لیے ہم انھیں طویل مدت کا اینٹی بائیوٹک انجیکشن لگا دیتے ہیں، لہذا بعد میں انھیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔‘

ڈاکٹر معصوم علی کا کہنا تھا کہ مستقبل میں آوارہ بلیوں کو بھی اس عمل سے گزارنے کی تجویز پر غور ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اس سے قبل آوارہ کتوں کو بڑے پیمانے پر زہر دے کر ان کی نسل کشی کی جا رہی تھی، جس کی وجہ سے جانوروں کے حقوق پر کام کرنے والے رضاکاروں اور اداروں نے اس کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا