’تب خواتین جانتی تھیں کہ وہ مردوں کے کمرے میں کیوں گئیں؟‘

اداکارہ کیتھی بیٹس کا کہنا ہے کہ ستر کی دہائی میں جب وہ فلم انڈسٹری میں داخل ہوئیں تو وہ دور مختلف تھا۔

’ہمارے زمانے میں ، اگر کوئی عورت ہوٹلوں کے کمرے میں کسی مرد کے پاس چلی جاتی تھی تو اسے بالکل پتہ ہوتا تھا کہ وہ کیوں جارہی ہے اور ان دنوں یہ سب باہمی رضامندی سے ہوتا تھا۔‘ (اے ایف پی)

امریکی اداکارہ کیتھی بیٹس نے ’می ٹو‘ تحریک پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں اداکاراؤں اور فلم بینوں کے درمیان ہوٹل کے کمروں میں ملاقات ’فریقین کی رضامندی‘ سے ہوتی تھی۔

حال ہی میں فلم ’رچرڈ جوئل‘ میں اپنے کردار کے لیے چوتھی مرتبہ آسکر کے لیے نامزد ہونے والی اداکارہ نے کہا ہے کہ وہ ان خواتین کی حمایت کرتی ہیں جو اپنی جنسی زیادتیوں کی کہانیاں سب کے ساتھ شیئر کرتی ہیں، لیکن 70 کی دہائی میں جب وہ اس میدان میں داخل ہوئیں تو ’وہ دور مختلف تھا۔‘

بیٹس نے برطانوی اخبار گارڈین کو بتایا، ’مجھے ہاروی وائن سٹین جیسے لوگوں اور اداکاروں کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کی داستانوں کے بارے میں ایک اعتراف کرنا پڑے گا۔ ہمارے زمانے میں اگر کوئی عورت ہوٹلوں کے کمرے میں کسی مرد کے پاس چلی جاتی تھی تو اسے بالکل پتہ ہوتا تھا کہ وہ کیوں جا رہی ہے اور ان دنوں یہ سب باہمی رضامندی سے ہوتا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’چیزیں مختلف تھیں۔ لیکن اب میں واقعتاً ان خواتین کی حمایت کرتی ہوں جو اپنی آواز اٹھانے کی ہمت کرتی ہیں۔ لیکن مجھے یہ دیکھ کر خوشی نہیں ہوتی کہ بعض مردوں پر بلاجواز الزام لگایا جاتا ہے۔ جو واقعی قصور وار ہیں، ان کے لیے تو میں دل سے کہتی ہوں کہ اب بھگتو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیٹس نے ہدایت کار کلنٹ ایسٹ وڈ کی نئی فلم رچرڈ جوئل میں اس گمنام شخصیت کی والدہ کا کردار ادا کیا تھا جو اٹلانٹا میں 1996 اولمپکس کے دوران سکیورٹی گارڈ تھے اور جنہیں ایک بیگ میں پائپ بم ملے تھے۔

یہ بم ایرک روڈولف نامی سفید فام بالادستی کے حامی ایک شدت پسند نے نصب کیا تھا، اور جوئل نے دھماکے سے چند منٹ قبل ہی اسے دریافت کیا تھا۔ 

جوئیل نے بم پھٹنے سے پہلے ہی علاقے کو خالی کر دیا جس سے متعدد جانیں بچ گئیں تاہم امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے اسے ہی اس واقعے کا اصل ملزم قرار دیا۔

رچرڈ جوئیل کی یہ فلم برطانوی سنیما گھروں میں 31 جنوری کو نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم