’مودی بچ نکلا، اس کا کوئی سالا بھی نہیں‘

اب دہلی کی انتخابی ریلیوں میں کھلے عام یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا گیا تو گولی سے اڑا دیا جائے گا جیسا کہ اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ نے اشارہ دیا ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی لکھنو میں بدھ کو ایک دفاعی نمائش میں شرکت کے دوران رائفل سے نشانہ بناتے ہوئے۔ (اے پی)

سیاست ایک بےہودہ کھیل ہے یہ تو ہم جانتے تھے مگر سیاست دہشت گردی کا روپ بھی اختیار کر سکتی ہے یہ ہم اب جان گئے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک میں پرامن مظاہرین پر خوف جمانے کے لیے بندوق برداروں سے کام لیا جانے لگا ہے اور دہشت زدہ اسی برس کی خواتین مظاہرین سے کہا جاتا ہے کہ ’شاہین باغ کو بھول جاؤ اور ہندو بن کر اس ملک میں رہو ورنہ گولی کھانی پڑے گی۔‘

یہ منظر ہے بھارت کی دارالحکومت دہلی کا جہاں چند روز میں ریاستی انتخابات ہو رہے ہیں اور انتخابی ریلیاں غنڈا گردی یا دہشت گردی کا اکھاڑا بن چکی ہیں۔ بھارت میں صرف سیاسی یا آئینی تبدیلیاں رونما نہیں ہو رہی ہیں بلکہ انتخابات کا طریقہ کار، انتخابی کمیشن کی آزادنہ سوچ اور انتخابی نعرے بھی ایک نئی شکل اختیار کرنے لگے ہیں۔ اب روٹی، کپڑا اور مکان کی جگہ گولی، ہندوتوا اور دہشت بٹھانے کے نعرے لگ رہے ہیں۔

سال 2014 سے جو بھی انتخابات بھارتی پارلیمان یا ریاستی اسمبلیوں کے لیے ہوئے ہیں ان میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رام مندر، ٹرپل طلاق، آرٹیکل 370 خاصے اہم موضوع رہے ہیں۔ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والے 40 کروڑ افراد نے مودی سرکار سے امید لگائی تھی کہ کچھ ہو نہ ہو ان کی زندگی میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی جیسا کہ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ یعنی ترقی کا وعدہ کیا گیا تھا مگر نتائج کے فورا بعد بی جے پی نے ہندوتوا کے آٹے میں بنائے جانے والی روٹیاں کھلانا شروع کر دیا۔ افسوس ہندوتوا سے بھوک نہیں مٹی بلکہ بھوک کے ساتھ ساتھ غریبوں کی تعداد بڑھتی رہی ہے۔

ہندوتوا کا پرچم لیے بی جے پی نے دوسری بار مرکزی پارلیمان کے علاوہ تقریبا 16 ریاستوں میں انتخابی کامیابی حاصل کیں اور لیڈرشپ کو محسوس ہوا کہ انہیں اب اگلے 20 برسوں تک کوئی نہیں ہرا سکتا۔ دھیرے دھیرے عوام کے ایک بڑے طبقے کو محسوس ہونے لگا کہ ہندوتوا کی روٹیوں سے پیٹ کی آگ تیز ہو رہی ہے، کاروباری سرگرمیاں ختم ہو رہی ہیں، روزگار کے مواقع ناپید ہو رہے ہیں، عورتیں غیرمحفوظ ہوگئی ہیں دانشور طبقہ عتاب کا شکار ہے اور اپوزیشن کو مختلف کیسوں میں پھنسا کر عامرانہ نظام قائم کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے تو بعض لوگوں نے دھیمے انداز میں سوال کرنے کی ہمت کی۔

ہندو جماعت پر واشگاف ہوگیا کہ اسے اب چند ریاستی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ہندتوا سے شاید لوگ اکتا گئے ہیں، ملک میں جب اندرونی انتشار کا ماحول پیدا ہوا تو ہندو جماعت نے ایسا نعرہ ایجاد کیا کہ جس سے ووٹروں پر دہشت بٹھا کر زور زبردستی ووٹ حاصل کیا جانے لگا جیسے 1996 میں جموں و کشمیر میں دھونس دباؤ سے انتخابات کا ڈراما رچایا گیا تھا۔

اب دہلی کی انتخابی ریلیوں میں کھلے عام یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا گیا تو گولی سے اڑا دیا جائے گا جیسا کہ اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ نے اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے دہلی کی ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا کہ ’جو لوگ بولی نہیں سمجھتے ہیں وہ گولی سمجھ جائیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دہلی میں گذشتہ انتخابات میں آپ پارٹی کے اروند کیجریوال کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے دہلی والوں کو بنیادی سہولیات فراہم کر کے عوام کا دل جیت لیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ اگر کوئی انتخابی گڑبڑ نہ ہوئی تو وہ اس بار بھی انتخابی جیت کا جھنڈا لہرائیں گے۔ اس بات کے پیش نظر بی جے پی کو احساس ہے کہ رام مندر، کشمیر اور شہریت کے قوانین کے بعد اب کوئی ایسا مسئلہ نہیں رہا جس سے عوام کو خریدا جاسکتا ہے تو پارٹی کے بیشتر اراکین نے جلسوں کے دوران نعرہ لگایا ’دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو۔‘ بی جے پی کے مخالفین کو دیش دروہی یا غدار تصور کیا جاتا ہے تب سے ہر دن کوئی نہ کوئی ہندو دہشت گرد بندوق یا پستول لے کر شہریت کے متنازعہ قانون پر احتجاج کرنے والوں کے جلسوں میں پہنچ کر ان کونشانہ بناتا رہا ہے۔

بھارت میں جب سے لاکھوں لوگوں نے شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مختلف علاقوں میں پرامن مورچے سنبھالے ہیں، خاص طور سے دہلی کے شاہین باغ میں ہزاروں عورتوں اور مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا نے اس قانون کے خلاف شدید سردی میں مستقل طور پر کئی ہفتوں سے دھرنا دیا ہے اس سے ایک تو مودی سرکار کی انا کو شدید ٹھیس پہنچی ہے کیونکہ ان کو لگ رہا تھا کہ ہندوتوا کی جادوئی چھڑی کافی دیر تک چلا پائیں گے۔ دوسرا اس نئے نعرے سے خود ہی ہندو رہنما پریشان ہوگئے ہیں جن کو  طلبا اور شاہین باغ کی احتجاجی دادیاں دیش کے غدار تصور کر رہے ہیں جنہوں نے ہندو مسلم کو لڑا کر ایک ابھرتی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا خمیازہ بھارت کے کروڑوں منحت کش بھگت رہے ہیں۔

بقول ایک صحافی شاہین باغ میں تین ہفتوں سے احتجاج میں شامل 70 برس کی ایک حافظہ نے جب یہ گولی مارنے والا نیا انتخابی نعرہ سنا تو وہ ایک رپورٹر کے کان میں کہنے لگی ’یہ مودی یہاں بھی بچ نکلا، اس کا کوئی سالا بھی تو نہیں ہے۔‘

بھارت اس وقت دوراہے پر آ چکا ہے جہاں یا تو سیکولر یا اعتدال پسند طبقہ پھر اس ملک کی نوک پلک سنوارنے میں پہل کرے گا یا ہندوتوا کا بھوت اس کو نگل کر اسے اندرونی خلفشار کے ایک مستقل اکھاڑے میں تبدیل کر دے گا۔ یہ دیکھنے کے لیے ہم سب کو انتظار کرنا پڑے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ