کیا اسحٰق ڈار کے مکان کو پناہ گاہ بنانا توہین عدالت ہے؟

پنجاب حکومت کے حکم پر لاہور میں سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے مکان ’ہجویری ہاؤس‘ کو محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال نے پناہ گاہ بنا دیا ہے لیکن اس بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟

احتساب عدالت کی جانب سے  اسحٰق ڈار کا  مکان نیلام کرکے رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا

پنجاب حکومت کے حکم پر لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے مکان ’ہجویری ہاؤس‘ کو محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال نے پناہ گاہ بنا دیا ہے۔

اس خبر کے میڈیا پر آنے کے بعد جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب سابق وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے لندن سے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’27 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک بڑا واضح فیصلہ دیا جس کی بنا پر 28 جنوری کو اس گھر کی نیلامی نہیں ہو سکی۔ حکومت نے دراصل اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کی خلاف ورزی کی ہے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس توہین عدالت کے خلاف جلد درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائیں گے۔‘

’1988 سے یہ گھر میرا ہے، ریاستی دہشت گردی کے تحت میرے اس گھر میں جو قدم اٹھایا گیا ہے بہتر ہے موجودہ حکومت اس سے باز آئے اور فوری طور پر اسے ختم کرے۔‘ 

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ عمران خان اور پنجاب حکومت کے گٹھ جوڑ سے انہوں نے میری رہائش گاہ کو  بے گھر لوگوں کے لیے وقف کر دیا ہے اور اس میں 40 لوگ شفٹ کر رہے ہیں۔

اس سارے معاملے کو اگر قانونی طور پر دیکھا جائے تو ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سید افتخار حسین شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو پتایا کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 12 کے تحت ملزم کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کو منجمد کیا جا سکتا ہے۔ وہ اشیا جن کے ایک مخصوص مدت کے بعد ضائع ہونے کا اندیشہ ہو اسے فروخت بھی کیا جاسکتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کو نیب عدالت میں جمع کروایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سیکشن 12 کو اس کی ضمنی شقوں خاص طور پر شق 'ایف' کا جائزہ لیا جائے تو کیس کے حتمی فیصلے تک منجمد کی جانے والی جائیداد سے کسی بھی شکل میں تصرف نہیں کیا جاسکتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس کی سادہ سی توجیہ یوں ہے کہ اگر آئندہ کسی مرحلہ پر کیس کا فیصلہ ملزم کے حق میں ہو جائے تو اس جائیداد کی واپسی کو کیسے ممکن بنایا جاسکے گا؟‘

انہوں نے کہا کہ اسی بنا پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جائیداد کی نیلامی کے خلاف حکم امتناع جاری کیا تھا۔

ایڈووکیٹ سید افتخار حسین کے خیال میں اسحاق ڈار کے گھر کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنا توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا۔ ان کا ماننا ہے کہ منجمد جائیداد سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی نیب عدالت میں جمع کروانا ہوگا۔

جمعہ کے روز ضلعی انتظامیہ لاہور کے محکمہ ویلفئیر کی جانب سے میڈیا کو جاری کی گئی معلومات کے مطابق ہجویری ہاؤس کے باہر پناہ گاہ کا بورڈ لگوا کر اس کے 12 کمروں میں بستر ڈلوا دیے گئے ہیں جبکہ ایک اجتماعی ڈائننگ ہال بھی بنا دیا گیا۔

احتساب عدالت کی جانب سے چار کنال 17 مرلے پر مشتمل اسحٰق ڈار کا یہ مکان نیلام کرکے رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا، جس کی قیمت ساڑھے 18 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔

گذشتہ ماہ 28 جنوری کو نیلامی طے پائی تھی، تاہم اسحٰق ڈار کی اہلیہ کی درخواست پر سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ نیلامی روکتے ہوئے حکم امتناعی جاری کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار پر آمدن سے زائد اثاثہ جات اور کرپشن کے الزامات ہیں اور وہ کافی عرصے سے لندن میں مقیم ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان