موسیقار اے آر رحمان کی بیٹی اور تسلیمہ نسرین میں برقعے پر تکرار

گذشتہ سال تھا کہ رحمان کو اسی مسئلے کے لیے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور موسیقار نے جواب دیا کہ ان کے خاندان میں خواتین جو کچھ بھی چاہتی ہیں وہ پہننے کے لیے آزاد ہیں۔

عورت حجاب میں اچھی لگتی ہے: خدیجہ (انسٹاگرام)

معروف بھارتی موسیقار اے آر رحمان کی بیٹی خدیجہ رحمان نے اپنے لباس کے انتخاب کا دفاع کرتے ہوئے بنگلہ دیش نژاد سویڈش مصنفہ تسلیمہ نسرین سے کہا ہے کہ وہ ’اصل فیمنزم‘ کے معنی گوگل سے تلاش کر لیں۔

یہ بات انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کی جہاں برقعے میں ان کی تصویر پر تنقید کی گئی۔ اس ماہ کے اوائل میں تسلیمہ نے ٹویٹ کیا کہ جب انہوں نے اے آر رحمان کی بیٹی کی تصاویر دیکھیں تو انہیں ’گھٹن‘ محسوس ہوئی۔ خدیجہ کی نقاب والی تصویر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ’یہ جاننا واقعی ڈپریسنگ ہے کہ تعلیم یافتہ عورتیں جن کا تعلق ثقافتی خاندان سے ہے اتنی آسانی سے برین واش ہوسکتی ہیں!‘

خدیجہ کی جانب سے گوگل سرچ کی تجویز پر تسلیمہ نے لکھا کہ ’محترمہ خدیجہ اگر آپ گوگل کریں تو آپ کو خواتین کے لیے میری جدوجہد کی بارے میں معلوم ہو جائے گا۔‘

یہ گذشتہ سال تھا کہ رحمان کو اسی مسئلے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور موسیقار نے جواب دیا کہ ان کے خاندان میں خواتین جو کچھ بھی چاہتی ہیں وہ پہننے کے لیے آزاد ہیں۔ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ موسیقی کے ڈائریکٹر اے آر رحمان نے اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کی ایک تصویر ’فریڈم ٹو چوز‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ شیئر کی۔

اب تسلیمہ نسرین کی پوسٹ کے بعد، خدیجہ نے خود انسٹاگرام پر مصنفہ کو جواب دینے کے لیے استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’صرف ایک سال گزرا ہے اور اس مسئلے نے پھر سر اٹھایا ہے۔ ملک میں اتنا کچھ ہو رہا ہے اور لوگوں کو محض اس بات پر تشویش ہے کہ ایک عورت کیا پہننا چاہتی ہے۔ واہ، میں حیران ہوں! جب بھی یہ موضوع آتا ہے میرے اندر کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور مجھے بہت کچھ کہنے پر مجبور کرتی ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران میں نے اپنے کئی ورژن دریافت کیے ہیں۔ میں کزور نہیں ہوں گی اور نہ ہی زندگی میں اپنے پسند کے بارے میں شرمسار ہوں گی۔ میں جو کرتی ہوں اس کے بارے میں خوش اور فخر کرتی ہوں۔ ان کا شکریہ جنہوں نے مجھے جیسی میں ہوں ویسا قبول کیا ہے۔ میرا کام بولے گا، انشا اللہ۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتی۔‘

اپنی اگلی پوسٹ میں خدیجہ نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر لوگوں کی محبت اور حمایت کی معترف ہوئی ہیں اور اس لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ’میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ سب مس تسلیمہ کے خلاف غلط زبان کا استعمال یا نفرت پر مبنی تقریر نہ کریں۔ آئیں ہم ایک وسیع الذہن معاشرہ بننے کی کوشش کریں جہاں اپنے ساتھی انسانوں کی پسند کو تسلیم کریں اور اپنی دعاؤں میں تسلیمہ کو یاد کریں اور انہیں ان کی پسند ناپسند کی بنیاد پر نہ پرکھیں۔‘

آخر میں، آذربائیجان کے باکو شہر میں اپنے والد اور بہن رحمین کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کرنے سے قبل جسے انہوں نے ’خاندان کے ساتھ گھٹن سے دور پرسکون وقت‘ کا عنوان دیا، انہوں نے برقعے میں ایک عورت کی تصویر شئیر کی اور لکھا ’ڈبل سٹینڈرز کیوں؟ اور تشویش محض کسی ایک عقیدے کی خواتین کے لیے ہی کیوں؟ کیا ہم نے پگڑی والے مرد نہیں دیکھے؟ پھر کیوں جب بات ایک مخصوص مذہب کی آتی ہے تو عورتوں کو ان کی پسند کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے؟ کیوں؟ کیوں؟ اور کیوں؟ مجھے سمجھ نہیں آتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سٹائل