عورت مارچ کے خلاف ایک مارچ؟

پاکستان میں گذشتہ برس عورت مارچ پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی۔ اس مرتبہ ابھی مارچ بہت دور ہے لیکن اس کے خلاف ایک نئے گروپ نے جو اپنے آپ کو مسلم سوال سوسائٹی کہتا ہے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سال عورت مارچ کے خلاف اپنی ایک مارچ کریں گے۔

سوشل میڈیا  پر گردش کرتا مسلم سول سوسائٹی کی جانب سے ایک پوسٹر (سوشل میڈیا)

آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر گذشتہ دو سالوں سے ملک کے کئی شہروں میں منعقد کی جانی والی ’عور ت مارچ‘ کے منتظم اس سال بھی مارچ کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں، تاہم اس سال ’مسلم سول سوسائٹی‘ نامی ایک گروپ نے اس مارچ کے خلاف اپنے ایک مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر مسلم سول سوسائٹی کی جانب سے ایسی تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں گذشہ سالوں میں عورت مارچ میں دیکھے جانے والے پوسٹروں پر درج نعروں پر کراس کا نشان لگایا گیا ہے، جس کا مقصد ان نعروں کو مسترد کرنا ہے۔  

یہ تنظیم کیا ہے اور عورت مارچ کے خلاف کیوں ہے، یہ جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے ان سے رابطہ کیا۔ تنظیم کی روح و رواں ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور طاہرہ شاہین کا کہنا تھا کہ وہ عورت مارچ کے خلاف نہیں ہیں، ’یہ ہونی چاہیے، مگر عورت مارچ میں شامل خواتین صحیح کی بجائے غلط راستے پر چل پڑی ہیں۔‘

 ان کا کہنا تھا: ’عورت مارچ میں عورتوں کی غیر مناسب تصاویر اور ’میرا جسم میری مرضی،‘ ’اپنا کھانا خود گرم کرو‘ جیسے نعرے ایک خاتون کو پیش کرنے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کا غلط راستہ ہے۔‘

طاہرہ کے مطابق: ’ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم کس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے حدود و قیود کیا ہیں، اگر وہ حقوق نہیں مل رہے تو آئین کا رخ کریں، قانون کا سہارا لیں۔‘

ان کا الزام ہے کہ عورت مارچ حقوق کے حصول کے لیے کوشاں نہیں بلکہ اس مارچ میں شامل بعض خواتین وہ ہیں جنہیں اس کام کے لیے پیسے دیے گئے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کون پیسے دے رہا ہے تو طاہرہ نے مشہور ڈراما رائٹر خلیل الرحمان قمر کی کسی ٹی وی شو میں کہی ایک بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’انہوں (خلیل الرحمٰن) نے کہا تھا کہ یہ 35 سے 37 عورتیں ہیں جو ہمیں غلط راستے پر لے کر جا رہی ہیں اور یہی میرا جواب ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ جلد اس عورت مارچ کے خلاف نہ صرف ایک مارچ نکالیں گی بلکہ مختلف سیمینار اور ورکشاپیں بھی کرائیں گی جن میں ان کے ساتھ خواتین کے علاوہ مرد اور سول سوسائٹی بھی شامل ہو گی۔

طاہرہ کہتی ہیں: ’ہمارا مطالبہ ہے فیملی ازم، ریجیکٹ فیمنزم۔‘

طاہرہ شاہین کہتی ہیں کہ وہ حقوق نسواں کے لیے مارچ بھی کریں گی مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے لیے کون سا دن مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے ساتھ بہت سے لوگ شامل ہیں مگر انہوں نے کوئی حتمی تعداد بھی نہیں بتائی۔

عورت مارچ کی مخالفت میں طاہرہ نے جو باتیں کیں ان کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے عورت مارچ میں شمولیت کا ارادہ رکھنے والی کچھ خواتین سے بھی بات کی۔

لائبہ زینب صحافی بھی ہیں اور وی لاگر بھی۔ ان کا کہنا تھا: ’عورت مارچ میں ہم نے جن مسائل کے بارے میں آواز اٹھائی وہ معاشرے میں موجود ہیں۔ قران نے ہمیں حقوق دے دیے اسلام نے دے دیے مگر کیا مسلمانوں نے ہمارے حقوق دیے؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لائبہ کا کہنا تھا کہ بازاروں اور عوامی جگہوں میں اکثر مرد خواتین کو گھورتے ہیں یا کوئی اور نازیبا حرکت کرتے ہیں پر ان کو کوئی کچھ نہیں بولتا۔ ’ہمارے جتنے بھی نعرے ہیں یہ صرف الفاط نہیں، ان کے پیچھے پوری پوری کہانیاں ہیں۔ ان خواتین کی کہانیاں جو اس معاشرے میں سختیاں برداشت کر رہی ہیں، جگہ جگہ ہراساں ہو رہی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’عورت مارچ کا مقصد ہی یہ ہے کہ جہاں ہم پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں کہ ہمیں مردوں سے بچانا ہے تو ان مردوں کو گھروں میں کیوں نہ بند کر دیں؟ ہمیں مذہب کا نام لے کر کہا جاتا ہے کہ ہم حیا دار نہیں مگر دین میں حیا مرد کے لیے بھی اتنی ہی ہے، انہیں کوئی کیوں کچھ نہیں کہتا؟ ہم پر دباؤ ڈالنے کی بجائے کیوں نہ مردوں پرمعاشرتی دباؤ ڈالا جائے ایک سال کے لیے پھر دیکھتے ہیں معاشرے میں کیا تبدیلی آتی ہے۔‘

ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ لاہور کی کنوینیر منرویٰ طاہرعورت مارچ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے ایڈووکیٹ طاہرہ شاہین کے اعتراضات کے جواب میں کہا کہ ہر سال عورت مارچ کے نعروں اور پوسٹروں پر شور مچایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عورت مارچ میں اٹھائے جانے والے موضوعات صرف امیر طبقے کے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے اور وہاں سب خواتین کے لیے آواز اٹھائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا: ’اگر معاشرے میں وہی سہولیات اور آزادیاں جو امیر خواتین کو حاصل ہیں وہ محنت کش طبقے کی خاتون کو بھی حاصل ہوتیں تو وہ بھی اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوتی ہے کہ اسے کتنے بچے پیدا کرنے ہیں، پیدا کرنے بھی ہیں یا نہیں کسی کے ساتھ جسمانی تعلق بنانا ہے یا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ داری نظام میں محنت کش طبقے کو پیچھے رکھا جاتا ہے۔ ان کا زندہ رہنا ہی اتنا مشکل بنا دیا جاتا ہے کہ معاشی بحران کا سب سے بڑا بوجھ اسی طبقہ پر جاتا ہے اور اس طبقہ کی خاتون بھی مرد کی طرح پستی ہے بلکہ زیادہ پستی ہے کیونکہ وہ باہر کے ساتھ ساتھ گھر کو اور بچوں کو بھی سنبھال رہی ہے۔ اگر اس طبقے کی عورت کا پہلا مسئلہ معیشت کو نہ بنا دیا گیا ہوتا تو وہ بھی اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرتیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ خیال مزاحیہ ہے کہ ہمیں عورت مارچ کے لیے کوئی پیسے دیتا ہے۔

منرویٰ نے کہا: ’عورت مارچ پر اعتراضات کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ ان کا منشور دیکھیں اور بتائیں کہ انہیں ان کے کون سے مطالبے سے مسئلہ ہے اور آپ جب ان سے یہ سوال کریں گے اسی وقت ان کی محدود نظریاتی سوچ آپ پر آشکار ہو جائے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین