جب ملالہ گریٹا سے ملیں

ماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکن گریٹا ٹونبرگ نے نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی سے برطانیہ کی معتبر یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں ملاقات کی اور ان کے ساتھ تصویر بنوائی۔

ملالہ نے گریٹا کے ساتھآکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک بینچ پر بنائی گئی تصویر شیئر کی (ملالہ/ ٹوئٹر)

ماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکن گریٹا ٹونبرگ نے نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی سے برطانیہ کی معتبر یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں ملاقات کی اور ان کے ساتھ تصویر بنوائی۔

خواتین کی تعلیم کے لیے مہم چلانے والی پاکستانی کارکن ملالہ یوسف زئی یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں زیر تعلیم ہیں۔

22 سالہ ملالہ نے گریٹا کے ساتھ کیمپس کے ایک بینچ پر ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈالے ہوئے بنائی گئی تصویر اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’شکریہ گریٹا۔‘

ماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم 17 سالہ گریٹا برطانیہ میں موجود ہیں جنہوں نے جمعے کو برسٹول کے ایک سکول میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کی۔

دونوں نوجوان خواتین نے بڑے عالمی مسائل ماحولیات میں تبدیلی اور خواتین کی تعلیم کے لیے اپنی آواز بلند کرنے کی وجہ سے پوری دنیا میں شہرت حاصل کی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کے لیے سویڈن میں ہر جمعے سکول سے چھٹی کر کے پارلیمان کے باہر احتجاج کے بعد گریٹا ٹونبرگ ایک جانی مانی شخصیت بن گئی ہیں جب کہ پاکستان میں لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت دینے کی مہم چلانے پر ملالہ کو طالبان نے نشانہ بنایا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2014 میں ملالہ کو ان کے عزم کے لیے نوبیل امن انعام سے نوازا گیا اور وہ یہ انعام جیتنے والی دنیا کی سب سے کم عمر خاتون تھیں۔ وہ دنیا بھر میں ظلم کے خلاف اور خواتین کی مزاحمت کی علامت بن گئی ہیں۔

ٹونبرگ کو بھی 2019 اور 2020 میں امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان دونوں نوجوان خواتین نے آکسفورڈ کالج کے لیڈی مارگریٹ ہال میں اپنی سرگرمیوں کے حوالے سے تبادلہ خیال بھی کیا۔

تھنبرگ نے کچھ طلبہ سے موسمیاتی تبدیلی اور اس حوالے سے ہونے والے احتجاج پر بھی بات کی۔

کالج ماسٹر ایلن رسبرجر نے اپنے ذاتی انسٹاگرام اور ٹوئٹر اکاؤنٹس پر بھی ٹونبرگ کی ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں تھنبرگ کی میزبانی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے اور وہ شکر گزار ہیں کہ انہوں نے طلبہ سے بات کرنے کے لیے وقت نکالا۔

ملالہ نے یہ تصویر ٹوئٹر پر بھی پوسٹ کی اور اس پر تبصرہ کیا: ’یہ میری واحد دوست ہے جن کے لیے میں کلاس چھوڑ سکتی ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین