سندھ کی لوک ہیروئن ماروی کا اصل گاؤں کون سا ہے؟

ایک لوک روایت اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ کسی زمانے میں اس علاقے میں رباری قبیلے کے 12 گاؤں آباد ہوا کرتے تھے، بھالوا کے قریب ملیر نامی بستی تھی، جہاں ماروی نے جنم لیا تھا۔

(بھارومل)

ہاکڑو دریا صحرا کے ریت پر سر رکھ کر سو گیا لیکن اپنے پیچھے تاریخ اور تہذیب کے عظیم آثار، قصے اور کہانیاں چھوڑ گیا، جن کی نقش آج بھی سندھ کے فن و ثقافت پر موجود ہیں۔

سندھ کے ضلع تھرپارکر میں تاریخی مقام بھالوا تاریخی اور سیاحتی اعتبار سے ہاکڑا وادی کا ایک پرکشش سیاحتی مقام ہے۔ مٹھی سے ننگرپارکر جانے والی سڑک پر جین مندروں کے قریب قدیم زمانے سے آباد تھرپارکر کی تاریخ، تہذیب وتمدن سے جڑا ہوا یہ گاؤں بھالوا انتظامی طور تحصیل ننگرپارکر کا حصہ ہے۔

 اس گاؤں کو پہلے کس نے آباد کیا؟ بھالوا کا نام بھلی واء سے بنا ہے یا بھیل واء سے، ان دونوں الفاظ سے اور بھی اس گاؤں کے نام کا ماخذ نکالا جا سکتا ہے، تاہم اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضروت ہے۔ اس وقت یہاں خاص خیلی، مینگھواڑ اور بھیل قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ واء تھر میں کنویں کو بھی کہتے ہیں، بھالوا کی شہرت اور مقبولیت میں حب الوطنی کے عظیم کردار ماروی سے منسوب کنویں کا اہم کردار ہے۔

 کہا جاتا ہے کہ سندھ کی مشہور لوک داستان عمر ماروی کی ابتدا یہاں سے ہوئی، اکثر محققین کے مطابق شاہ عبدالطیف بھٹائی کی سورمی حب الوطنی کے عظیم کردار ماروی کا آبائی گاؤں بھالوا ہے، لیکن کچھ محقق اس رائے سے اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ماروی کا گاؤں تلھا یا تلواڑا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک لوک روایت اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ کسی زمانے میں اس علاقے میں رباری قبیلے کے 12 گاؤں آباد ہوا کرتے تھے، بھالوا کے قریب ملیر نامی بستی تھی، جہاں ماروی نے جنم لیا تھا۔ تھر کی تاریخ اور لسانیات کے ماہر کہتے ہیں کہ ملیر ایک گاؤں کا نام نہیں بلکہ ساون رت میں سبز تھر کو ملیر کہا جاتا ہے۔

 لوک روایت کے مطابق پالنو پنہوار نے اپنی بیٹی کی سگائی رسم و رواج کے تحت کھیت سین سے کی تو پھوگ نامی شخص کو بڑی تکلیف ہوئی، اس کے اندر کی آرزو تھی کہ ماروی کا رشتہ مجھے ملنا چاہییے۔

غصے میں آ کر پالنو سے بدلہ لینے کے لیے سومرا دور کے درالحکومت شہر عمرکوٹ پہنچا، جہاں حاکم عمر سومرو کو ماروی کے حسن کی داستانیں سنائیں۔

حاکم عمر سومرو ماروی کے حسن کی تعریف سن کر بے چین ہو گیا، اور اس نے ماروی کو حاصل کرنے کی ٹھان لی۔ ایک مرتبہ ماروی اپنی سہلیوں کے ساتھ کنویں سے پانی بھر رہی تھی کہ عمر سومرو نے زبردستی ماروی کو اٹھا کے عمرکوٹ کے محل میں قید کر لیا۔

اس نے ماروی کو طرح طرح کے لالچ دیے لیکن ماروی کا ایک ہی جواب تھا، ’میں مارو قبیلے کی بیٹی ہوں، کھیت سین میرا خاوند ہے، میں تیرے ریشمی اور اطلس کے کپڑوں سے ملیر کی لوئی کو عظیم مانتی ہوں۔‘

ماروی کی ان جذبات کو شاہ عبدالطیف نے اپنی شاعری میں بڑے کمال کے آرٹ سے پیش کیا ہے۔ جدید سندھی شاعری کے بڑے نام شیخ ایاز نے ’رسالہ شاہ عبدالطیف بھٹائی‘ کے اردو ترجمے میں سر ماروی کے اشعار کچھ اس طرح دیے ہیں کہ:

اپنے گھر کی رنگی ہوئی لوئی کیوں نہ رشک اطس و کمخواب
اے عمر اس کے سامنے کیا ہے، مخملی بافتے کی آب و تاب

 ـ

اوڑھ کر سر پہ پھر حیا کی شال، مارووں کو گلے لگاؤں میں
چھوڑ دے مجھ کو سومرا سردار، پھر انہیں جھونپڑوں میں جاؤں میں

ـ

اے عمر تیری خلعت زرتار، میری لوئی کے سامنے بیکار
ریشمی لمس سے نہ کم ہو گا، دل سے ان پیارے مارووں کا پیار

اکثر محققین ماروی کے قصے سے منسوب سومرا حاکم عمردوم کو کرتے ہیں، لیکن کتاب کھاروڑو چت آیو کا مصنف ڈاکٹر عبدالعزیر رحمانی سومرا دور کے آخری حاکم ہمیر کے بھائی محمد کے بیٹےعمر کو منسوب کیا ہے۔شاہ عبدالطیف کی شاعری میں ہمیر اور عمر دونوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ شاھ عبدالطیف کے کلام ‘ شاھ جو رسالو’ میں کسی شعر میں بھالوا کا نام نہیں ملتا، لیکن تھر کے سگھڑوں کے پاس ایسے شعر سننے کے لیے جاتے ہیں جن میں بھالوا کا ذکر ہے۔

بھالوا میں ابھی تک ماروی سے منسوب کنواں موجود ہے، جس کے قریب ایک جھوٹی سا حوض ہے، جسے ماروی کی کونڈی کہا جاتا ہے، ماروی سے منسوب کنویں کے پاس حکومت سندھ کے کلچر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ایک ماروی میوزیم، ثقافتی کمپلیس اور ریسٹ ہاؤس تعمیر کیا گیا ہے۔

بارش کے موسم میں پاکستان بھر سے لوگ تھرپارکر میں بھالوا کے مقام پر سیر اور سیاحت کے لیے آتے ہیں اور ماروی کے گاؤں ماروی کے حب الوطنی کے قصے سنتے ہیں۔ لوک فنکاروں سے شاہ عبدالطیف کی شاعری کا سر ماروی سنتے ہیں اور تھرپارکر کے فطری حسن کو آنکھوں میں بھر لیتے ہیں۔

بھالوا میں چھ مارچ 1967 کو ڈسٹرکٹ کایونسل تھرپارکر کی جانب سے میر حاجی محمد بخش کی سربراہی میں پہلی مرتبہ ماروی کا میلہ منقعد کیا گیا۔ بعد میں حکومت سندھ کی جانب سے 1997، 2003، 2008 کو ماروی کا میلہ سجایا گیا۔

پھر دو مرتبہ علاقہ مکینوں اور مٹھی کے سرکردہ شاعروں ادیبوں اور صحافیوں کی جانب سے میلہ منقد ہوا لیکن پھر تسلسل قائم رہا نہیں سکا۔

ضرورت اس عمل کی ہے کہ ہر سال یہ ماروی کا میلہ شایانہ شان طریقے سے منایا جائے، جس سے تھرپارکر میں سیر و سیاحت کو فروغ ملنے کے ساتھ مقامی فنکاروں اور ہنرمندوں کو اپنا فن پیش کرنے کے مواقع میسر ہوں گے۔

                         

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ