دہلی فسادات، شہریت قانون اندرونی معاملات ہیں: بھارت

ترجمان بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا: ’ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ سی اے اے آئینی طور پر درست اقدام ہے اور ہمیں یقین ہے کہ بھارت کی خودمختاری سے متعلق امور میں کسی بھی غیر ملکی فریق کے پاس مداخلت کا حق نہیں ہے۔‘

24 فروری کی اس تصویر میں دہلی کے  علاقے بھجن پورا  میں فسادات کے دوران نذرآتش کی گئی ایک دکان سے دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)

دارالحکومت نئی دہلی میں مسلمانوں کے خلاف فسادات اور متنازع شہریت قانون کے خلاف عالمی ردعمل پر بھارت کا کہنا ہے کہ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی میں گذشتہ ہفتے سے شروع ہونے والے فسادات میں 48 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں جبکہ مسلمانوں کی سینکڑوں املاک اور چار مساجد کو نذر آتش کیا جا چکا ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، ترکی اور انڈونیشیا کے بعد ایران نے بھی دہلی میں بھارتی مسلمانوں کے خلاف منظم حملوں کی پرزور مذمت کی ہے۔

این ڈی ٹی وی کا کہنا ہے کہ منگل کو ایران کے سفیر علی چیگنی کو بھارتی وزارت خارجہ میں طلب کرکے اپنے ’اندرونی معاملے‘ میں مداخلت پر تہران سے احتجاج کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا: ’دہلی میں ایرانی سفیر کو منگل کو طلب کیا گیا اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے بھارت کے ’داخلی معاملے‘ پر کیے گئے تبصرے پر سخت احتجاج کیا گیا۔‘

پیر کو ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایک ٹویٹ میں بھارتی حکام سے اپیل کی تھی کہ وہ بے حس تشدد کو غالب نہ ہونے دیں۔

جواد ظریف نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ایران بھارتی مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد کی لہر کی مذمت کرتا ہے۔‘

انہوں نے لکھا: ’صدیوں سے ایران ہندوستان کا دوست رہا ہے۔ ہم بھارتی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے تمام شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنائے اور بے حس تشدد کو غالب نہ آنے دے۔ پر امن مذاکرات اور قانون کی حکمرانی ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔‘

دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں فسادات کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے گذشتہ ہفتے بین الاقوامی رہنماؤں اور اداروں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس طرح کے حساس وقت میں غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ دیں۔

’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق اس سے قبل ملائیشیا اور بنگلہ دیش بھی بھارت میں متنازع شہریت بل کی مذمت کر چکے ہیں۔

دہلی میں ہندو بلوائیوں نے اس وقت حملے شروع کیے تھے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ متاثرہ علاقے سے صرف 15 کلومیٹر دور وزیراعظم مودی کے ساتھ تین ارب ڈالر مالیت کے معاہدے پر دستخط کر رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق حقوق انسانی کی عالمی تنظیم کی طرف سے اس غیر معمولی مداخلت پر بھارتی وزارت خارجہ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ یہ قانون بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔

منگل کو جاری ہونے والے بیان میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا: ’ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ سی اے اے آئینی طور پر درست (اقدام) ہے اور یہ (ترمیمی قانون) ہماری آئینی اقدار کے تمام اصولوں پر پورا اترتا ہے۔ یہ تقسیم ہند کے ’سانحے‘ سے پیدا ہونے والے انسانی حقوق کے امور کے سلسلے میں ہماری دیرینہ قومی وابستگی کا عکاس ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ بھارت کی خودمختاری سے متعلق امور میں کسی بھی غیر ملکی فریق کے پاس مداخلت کا حق نہیں ہے۔‘

متنازع شہریت قانون کے باعث لوگوں میں کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ہزاروں افراد گذشتہ کئی ماہ سے دہلی کے شاہین باغ سمیت ملک بھر میں اس قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

احتجاج کرنے والوں کے خیال میں یہ حکومت کی جانب سے بھارت کو ہندو ریاست بنانے کی کوشش ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ وزیراعظم نریندر مودی کی قوم پرست حکومت کی جانب سے ملک کے تقریباً 20 کروڑ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی تازہ کوشش ہے جس نے مسلمانوں میں عدم اعتماد پیدا کر دیا ہے اور یہ ملک کے سیکولر آئین کی خلاف ورزی بھی ہے۔

دوسری جانب نریندر مودی نے اسے انسانی ہمدردی پر مبنی قرار دے کر اس کا دفاع کیا ہے۔

مودی حکومت نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والی مذہبی اقلیتوں کے لیے تیزی سے شہریت حاصل کرنے میں مدد دے گا اور ان میں بھارتی مسلمان شامل نہیں ہیں کیونکہ انہیں ملک میں ایسے تحفظ کی ضرورت نہیں ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا