لوگ جام شیریں کہہ کر بلاتے ہیں نام تبدیل کیا جائے: شربت خان

پشاور کے رہائشی شربت خان  نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ تعلیمی اسناد سمیت سرکاری ریکارڈ میں ان کا نام ذیشان علی آفریدی سے تبدیل کیا جائے کیونکہ موجودہ نام سے وہ ذہنی طور پر دباؤ کا شکار ہیں۔

شربت خان نے درخواست میں کہا کہ  ان کے دوست اور دفتر کے ساتھی  انہیں مختلف مشروبات جیسا کہ فانٹا، کوکاکولا اور جام شیریں کے ناموں سے پکارتے ہیں جس سے  وہ تنگ آگئے  ہیں (تصویر: کلچ اِٹ ڈاٹ کام)

پشاور کے ایک رہائشی ملک شربت خان نے لوگوں کی جانب سے مختلف مشروبات کے ناموں سے پکارے جانے سے تنگ آکر اپنا نام تبدیل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا۔

شربت خان نے تبدیلی نام کی اس درخواست میں ڈائریکٹر جنرل نادرا، چیئرمین ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ اور ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کو فریق بنایا ہے۔

مقامی عدالت میں دائر اپنی درخواست میں شربت خان  نے موقف اختیار کیا کہ وہ پشاور کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا نام ان کے دادا کے نام کی وجہ سے رکھا گیا تھا۔

شربت خان کے مطابق انہوں  نے اتنا عرصہ اس نام کو برداشت کیا کیونکہ وہ اسے دادا کی ایک نشانی سمجھتے تھے تاہم زمانہ طالب علمی سے لے کر اب تک لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

انہوں نے لکھا: ’میرے دوست اور دفتر کے ساتھی مجھے مختلف مشروبات جیسا کہ فانٹا، کوکاکولا اور جام شیریں کے ناموں سے پکارتے ہیں جس سے میں تنگ آگیا ہوں، اس لیے میری تعلیمی اسناد سمیت سرکاری ریکارڈ میں میرا نام ملک شربت خان کی بجائے ذیشان علی آفریدی سے تبدیل کیا جائے کیونکہ موجودہ نام سے میں ذہنی طور پر دباؤ کا شکار ہوں۔‘

درخواست گزار  نے عدالت سے استدعا کی کہ چونکہ قانونی طور پر ان کو نام تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے، اس لیے عدالت متعلقہ اداروں کو احکامات صادر کر کے ان کا نام تبدیل کرے۔

شربت خان کے وکیل سیف اللہ محب کاکاخیل  نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے موکل کی جانب سے درخواست آج دائر کی گئی، جس پر سماعت سول جج نازیہ پروین نے کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیف اللہ محب کاکاخیل نے بتایا کہ جج کی جانب سے متعلقہ محکموں کو جواب جمع کرانے کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے تاکہ تبدیلی نام کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جاسکے۔

انہوں  نے مزید بتایا کہ ان کے موکل کو مختلف جگہوں پر مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنا نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

وکیل سیف اللہ کاکاخیل نے بتایا کہ ایسی درخواستوں میں عموماً نام تبدیلی کی درخواست قبول کی جاتی ہے، اگر اس میں کسی دوسرے شخص کو نقصان نہ ہو۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ نام کی تبدیلی سے کس دوسرے شخص کو نقصان ہو سکتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ اگر شربت خان اپنا نام ذیشان علی آفریدی رکھ رہے ہیں اور کسی دوسرے شخص کا بھی یہی نام ہے اور ان کے والد کا بھی نام شربت خان کے والد کے نام سے ملتا جلتا ہے تو وہ دوسرا شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ان کی جائیداد ان کے نام پر ہے اور اس شخص کی نام تبدیلی سے ان کو نقصان ہو سکتا ہے۔

وکیل نے مزید بتایا کہ ’یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ تعلیمی اسناد میں بھی اس طرح کا مسئلہ پیش نہ آئے، یعنی ذیشان علی آفریدی اور ان کے والد کے نام سے اگر پہلے سے کوئی شخص ہے تو پھر نام کی تبدیلی کی درخواست منسوخ کردی جاتی ہے کیونکہ پھر یہ شبہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ کوئی شخص جعلی اسناد بنانے کے لیے نام تبدیل کر رہا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان