مہر گڑھ کے راستے پر مغلوں کی باقیات 

بلوچستان کی قدیم تہذیب مہر گڑھ کی طرف سفر کرتے ہوئے راستے میں آثار قدیمہ کی باقیات موجود ہیں، جو ایک دیوار اور دروازے پر مشتمل ہیں۔

مقبرے کی تعمیر میں استعمال ہونے والی  اینٹوں میں کچھ رنگ بھی نظر آتے ہیں جو مغلیہ عہد میں استعمال ہوتے تھے۔ (تصاویر: ہزار خان بلوچ)

بلوچستان جہاں زیر زمین بہت سے خزانے سمیٹے ہوئے ہے وہیں سطح زمین پر بھی اس صوبے کے پاس آثار قدیمہ کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

مہر گڑھ کو ماہرین آثار قدیمہ پرانی ترین تہذیب کا منبع سمجھتے ہیں، جو بلوچستان کے ضلع کچھی میں واقع ہے۔

مہر گڑھ کی طرف سفر کرتے ہوئے ایک ٹیلے پر آثار قدیمہ کے باقیات موجود ہیں جو ایک دیوار اور دروازے پر مشتمل ہیں۔

اس بارے میں جب محکمہ آرکیالوجی سے رابطہ کیا گیا تو ان کے کیوریٹر شاکر نصیر نے بتایا کہ یہ قلعہ نہیں بلکہ ایک مقبرے کی باقیات ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ مغلیہ عہد کا ایک مقبرہ ہے، جس کا باقی حصہ منہدم ہوچکا ہے صرف ایک دیوار اور دروازہ باقی رہ گیا ہے۔

شاکر نصیر کے مطابق یہ دروازہ اسی وقت کا ہے جو مغل حکمران شاہ جہان کا تھا اور یہ تقریباً چار سو سے ساڑھے چار سو سال قدیم ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’اگر اس مقبرے سے دو کلومیٹر آگے چلے جائیں تو وہاں بھی آپ کو مزید ایسے آثار ملیں گے جو مغلیہ عہد میں بنے تھے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ مقبرے کی تعمیر میں اینٹیں یا پتھر استعمال ہوئے ہیں؟ شاکر نصیر نے بتایا کہ ’اس میں اینٹیں استعمال ہوئی ہیں، جنہیں بھٹی میں پکا کر پختہ کیا جاتا تھا جو بظاہر پتھر لگتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ مقبرے کی تعمیر میں استعمال ہونے والی اینٹوں میں کچھ رنگ بھی نظر آتے ہیں جو مغلیہ عہد میں استعمال ہوتے تھے۔ اس میں استعمال ہونے والی اینٹوں کو ٹیراکوٹا برکس کہا جاتا ہے۔

شاکر نصیر کا مزید کہنا تھا: ’چونکہ یہ مقبرہ بہت قدیم ہے اور اس کا زیادہ حصہ منہدم ہوچکا ہے، اس لیے اس کا بچانا مشکل ہے، تاہم بلوچستان میں ایسے آثار قدیمہ جو بہتر حالت میں ہیں ان کو بچانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی تصویر کہانی