دنیا بھر میں کرونا متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو گئی

کرونا وائرس سے ایک لاکھ افراد کا متاثر ہونا عالمی سطح پر ایک بہت بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں(اے ایف پی)

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرین  کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہو چکی ہے جبکہ 90 ممالک میں پھیل جانے والے اس وائرس میں اب تک 3400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جمعے کو امریکہ میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس نے ویٹیکن کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس وبا کے خدشات نے ایران میں نماز جمعہ کے اجتماعات معطل ہونے سے لے کر بیت الحم میں حضرت عیسی کی جائے پیدائش کی زیارت کرنے والوں کو روکے جانے تک کے علاوہ جاپان میں اولمپکس پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں اور معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا اثر لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر ہو رہا ہے۔

اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں سیاحوں پر لگنے والی پابندی کے بعد بیت الحم کی ہوٹل یونین کے سربراہ الیاس العرجہ کا کہنا ہے کہ ’ہمارے خاندانوں کو کون پالے گا؟‘ خیال رہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے باعث بیت الحم میں واقع عبادت گاہ کو بند کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائرس سے نمٹنے کے لیے 8.3 ارب امریکی ڈالرز کے ایک بل پر دستخط کر دیے ہیں۔ اٹلی نے بھی  وائرس سے نمٹنے کے لیے مختص رقم کو دگنا کرتے ہوئے 7.5 ارب یوروز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جینیوا میں واقع اقوام متحدہ کی ہیلتھ ایجنسی کا کہنا ہے کہ انہیں کرونا کے ممکنہ ٹیسٹس کے حوالے سے 40 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ 20 ویکسینز بھی تیاری کے مراحل میں ہیں جبکہ کرونا  وائرس سے نمٹنے کے لیے کئی ادویات کے تجربات بھی کیے جا رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیدروس ادھانوم گیبرئسیس کا کہنا ہے کہ ’ہم سب اس میں متحد ہیں اور ہم سب کو کرداد ادا کرنا ہو گا۔‘

لیکن ہر طرف سے صرف بری خبریں ہی نہیں آرہیں۔ کرونا وائرس  سے متاثر ہونے والے نصف سے زائد افراد مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ چین اور جنوبی کوریا میں بھی متاثرین میں کمی آرہی ہے۔

ہفتے کی صبح چین کی جانب سے جاری  کردہ  اعداد و شمار میں صرف 99 نئے کیس سامنے آئے ، جو   دسمبر  میں کرونا وائرس کے سامنے آنے کے بعد سے اب تک چین میں ایک دن میں سب سے کم  کیس ہیں۔ ان  اعداد و شمار میں مزید 28 ہلاکتوں کی تصدیق  ہوئی ہے۔

 چین میں اس وقت کرونا  وائرس سے متاثر ہونے والے 22 ہزار سے زائد افراد کا علاج کیا جا رہا ہے جبکہ 55 ہزار سے زائد افراد مکمل طور پر صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتالوں سے واپس جا چکے ہیں۔

جنوبی کوریا نے بھی ہفتے کو 174 نئے کرونا متاثرین کی تصدیق کی۔ ایک جانب جہاں کرونا سے سب سے پہلے متاثر ہونے والے ممالک میں ان کیسوں میں کمی ہو رہی ہے،  وہیں دوسری جانب یہ وائرس نئے ممالک تک پھیلتا جا رہا ہے۔ ٹوگو اور کولمبیا  نے   بھی کرونا متاثرین کی تصدیق کی ہے۔

ایران میں کرونا متاثرین کی تعداد 4700 سے بڑھ چکی ہے جبکہ 124 افراد  ہلاک ہوئے ہیں۔ نقل و حمل  محدود رکھنے کے لیے تہران میں مصروف ترین شاہراہ پر چیک پوائنٹس قائم کر دی گئیں ہیں جبکہ جراثیم کش سپرے بھی کیا جا رہا ہے۔

کرونا سے ایک لاکھ افراد کا متاثر ہونا عالمی سطح پر ایک بہت بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے لیکن اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سارس، مرس اور ایبولا وائرس کے مقابلے میں بہت کم رہی ہے۔ کرونا سالانہ بنیادوں پر پھیلنے والے فلو سے کئی درجے کم پھیلا ہے۔ فلو سے سالانہ 50 لاکھ لوگ شدید متاثر ہوتے ہیں جبکہ اس میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بھی تین سے چھ لاکھ کے درمیان ہوتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت