کیا ایران نے کرونا کے علاج کی دوا دریافت کر لی ہے؟

ایرانی میڈیا کے دعوے کے مطابق جس دوا نے کرونا کے مریضوں کی بحالی میں اہم پیش رفت دی ہے اس کا نام ’ہائڈروکسی کلوروکائن‘ ہے۔

ایران میں کرونا وائرس سے متاثرہ ایک مریض کو طبی امداد دی جارہی ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

گذشتہ روز ایرانی میڈیا کی جانب سے ایک دعویٰ سامنے آیا تھا کہ ایران نے کرونا کے علاج کے لیے ایک دوا تیار کر لی ہے۔

ایک ٹیلیویژن رپورٹ میں ابووریہان فارماسیوٹیکلز کے سی ای او میسم نور محمدی نے اعلان کیا کہ اس دوا کی اپریل یا مئی میں وسیع پیمانے پر مارکیٹنگ کی جائے گی جس میں ایران کی ایک اور کمپنی توفیق دارو بھی ان کے ساتھ ہوگی۔

ابووریہان فارماسیوٹیکل کمپنی اور توفیق دارو ایران کی سوشل سیکیورٹی انویسٹمنٹ سے رجسٹرڈ کمپنیاں ہیں جو وزارت محنت و سماجی بہبود کے ماتحت ہے۔

دوسری جانب وزارت صحت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ محکمہ ایسی کسی بھی دوا کی تیاری سے لاعلم ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی خبر رساں ادارے ’آئی ایل این اے‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزارت صحت میں انسانی اور جانوروں کے امراض کے شعبے کے سربراہ حسین عرفانی نے کہا کہ وہ پوری ذمہ داری سے یہ بیان دے رہے ہیں کہ انہیں ایسی کسی بھی پیش رفت سے آگاہی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج تک ایران اور دنیا کے دیگر ممالک میں کرونا وائرس کا کوئی صحیح علاج دریافت نہیں ہوا ہے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا کے دعوے کے مطابق جس دوا نے کرونا کے مریضوں کی بحالی میں اہم پیش رفت دی ہے اس کا نام ’ہائیڈروکسی کلوروکائن‘ ہے۔

ہائڈروکسی کلوروکائن دنیا بھر میں کئی سالوں سے ملیریا کے علاج کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ ایران اب تک اس دوا کا درآمد کنندہ رہا ہے جبکہ چین کے شہر ووہان میں کرونا پھیلنے کے بعد مریضوں پر ادویات کی جانچ پڑتال کے دوران جس دوا کا شدید علامات والے مریضوں پر نسبتاً مثبت اثر پڑا وہ ہائیڈروکسی کلوروکائن فاسفیٹ ہی تھی۔

اس دوا کے علاوہ اینٹی وائرل دوائیوں میں اوسلٹامویر نے بھی مختلف پیچیدگیاں کم کرنے اور کرونا کے مریضوں کے بہتر علاج میں مدد دی۔ ایران کے وزیر بہبود محمد شریعتمداری نے اس دوا کی پیداوار بڑھانے کا اعلان بھی کیا۔

کرونا وائرس ایران میں پھیل جانے پر ان دونوں دواؤں کی اثر پذیری ثابت ہونے کے بعد یہ دونوں دوائیں ایرانی مارکیٹ میں نایاب ہو چکی ہیں۔ اس وبا سے پہلے یہ دوائیں انفلوئنزا، گٹھیا اور ملیریا کے علاج میں استعمال ہوتی تھیں۔

گذشتہ ہفتے ایران کی سرکاری آڈیو ویژول ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ یونیورسٹی برائے پاسداران انقلاب نے کرونا کے علاج کے لیے جڑی بوٹیوں کا علاج بھی دریافت کیا ہے۔ یونیورسٹی کے سربراہ علی رضا جلالی نے ایرانی نیوز نیٹ ورک کو بتایا کہ جڑی بوٹیوں سے علاج کے علاوہ انہوں نے کرونا کی تشخیصی کٹ بھی تیار کی ہے۔ جلالی نے یونیورسٹی میں کرونا ویکسین پر کام شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے وبائی خطرے نے اس وائرس کے علاج کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو فروغ دیا ہے۔

یاد رہے کہ دنیا میں کسی بھی دواساز کمپنی نے ابھی تک اس مرض کے علاج کے لیے کوئی دوا یا اس کے خلاف کوئی ویکسین تیار نہیں کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت