کرونا کا ٹیسٹ مفت میں کروانے کہاں جائیں؟

پرائیویٹ لیباٹریاں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے کے لیے 7900 روپے تک فی ٹیسٹ فیس وصول کر رہی ہیں جب کہ کچھ سرکاری ہسپتال یہ ٹیسٹ مفت بھی کر رہے ہیں۔

اس ٹیسٹ کا نتیجہ دو دن میں وصول ہو گا۔(اے ایف پی)

پاکستان میں کرونا سے متاثر مریضوں کی تعداد 22 تک پہنچ چکی ہے اور عالمی ادارہ صحت اسے وبا کا درجہ دے چکا ہے۔ 

حکومتی ہدایات و احکامات کی روشنی میں اگر آپ کو شبہ ہے کہ آپ میں کرونا کی علامات جیسے بخار، خشک کھانسی یا سانس لینے میں کسی دشواری کا سامنا ہے تو آپ فوراً ہیلپ لائن (1166) پر فون کر سکتے ہیں یا اپنے معالج سے رجوع کیجیے۔

پرائیویٹ لیباٹریاں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے کے لیے 7900 روپے تک فی ٹیسٹ فیس وصول کر رہی ہیں جب کہ کچھ سرکاری ہسپتال یہ ٹیسٹ مفت بھی کر رہے ہیں۔ ان ٹیسٹ کا نتیجہ دو دن میں وصول ہو گا۔

بعض ہسپتالوں میں صرف چین، شام یا ایران سے واپس آنے والے افراد کا ہی مفت ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ اس صورت میں ہسپتال کی پالیسی سے تعاون کیجیے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کرونا ٹیسٹ کے لیے سیمپل کلیکشن کی سہولت تمام سرکاری ہسپتالوں میں موجود ہے۔ مختلف علامات جانچنے کے بعد ٹیسٹ کرنے کے فیصلے کی حتمی صوابدید ڈاکٹر حضرات ہی کی ہو گی۔

مختلف شہروں میں یہ ہسپتال کرونا وائرس کے ٹیسٹ کر رہے ہیں:

لاہور:

سروسز ہسپتال

راولپنڈی:

بینظیر بھٹو ہسپتال

ملتان:

نشتر ہسپتال

سیالکوٹ:

علامہ اقبال میموریل ہسپتال

فیصل آباد:

علامہ اقبال میموریل ہسپتال

الائیڈ ہسپتال

رحیم یار خان

شیخ زید ہسپتال

کراچی:

سرکاری ہسپتال

سول ہسپتال

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر

پرائیوٹ ہسپتال: آغا خان یونیورسٹی ہسپتال، ڈاؤ میڈیکل کالج

کوئٹہ:

فاطمہ جناح جنرل اینڈ چیسٹ ہسپتال

اسلام آباد:

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)

گلگت بلتستان:

سول ہسپتال ہنزہ

ڈی ایچ کیو گلگت

ڈی ایچ کیو چلاس

ڈی ایچ کیو اسکردو

ڈی ایچ کیو کریم آباد

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر

عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز مظفرآباد

شیخ خلیفہ بن زید النہایان ہسپتال مظفرآباد (سی ایم ایچ)

سی ایم ایچ راولاکوٹ

ڈی ایچ کیو میرپور

ڈی ایچ کیو کوٹلی

ڈی ایچ کیو نیلم

ڈی ایچ کیو جہلم ویلی

ڈی ایچ کیو باغ

ڈی ایچ کیو حویلی

ڈی ایچ کیو بھمبر

ڈی ایچ کیو سدھنوتی

پشاور

خیبر پختونخوا پبلک ہیلتھ لیبارٹرییز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر یاسر یوسف زئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پشاور میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے زیر انظام چلنے والا لیب واحد مرکز ہے جہاں پر صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے کرونا ٹیسٹ کے لیے خون کے نمونے بھیجے جاتے ہے۔

انھوں نے بتایا کہ محکمہ صحت یا پشاور پولیس سروسز ہسپتال جو یہ نمونے لینے کے لیے مختص ہے خون کا ایک نمونہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے لیب جبکہ ایک اسلام آباد کے این آئی ایچ بھجواتے ہیں۔

اس کے علاوہ صوبے میں کوئی بھی ایسا مرکز نہیں ہے جو حکومت کی جانب سے نوٹیفائی ہوں جہاں کرونا کا ٹیسٹ کیا جائے۔

تاہم انھوں نے بتایا کہ کچھ نجی ہسپتالوں میں یہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے لیکن وہ محکمہ صحت کی جانب سے نوٹیفائڈ مراکز نہیں ہے لیکن اگر نجی طور پر ٹیسٹ کرانا چاہتے ہیں تو وہ وہاں جا سکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا ’ان نجی ہسپتالوں کے ٹیسٹ بھی این آئی ایچ والے ہی کنفرم کریں گے کہ نیگیٹیو ہے یا پازٹیو ہے۔ پشاور کے باقی کسی بھی ہسپتال میں نمونے نہ لیے جاتے ہیں اور نہ وہاں ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اگر کسی کو شک ہے کہ ان میں کرونا وائرس کے علامات ہے تو وہ کسی بھی ہسپتال میں جا کر کسی مستند ڈاکٹر سے معائنہ کروا سکتے ہیں اور اس کے بعد اگر اس میں واقعی علامات موجود ہے اور وہ این آئی ایچ کے اصولوں پر پورا اترتا ہے کہ ان کا ٹیسٹ کیا جائے تو خون کے نمونے لینے کے لیے ان کو پولیس ہسپتال ریفر کردیا جائے گا۔

جب کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ملک کا بنیادی ریفرل سینٹر ہے۔

سندھ بھر میں کرونا کے مشتبہ کیسز کے حوالے سے قائم کی گئی ہیلپ لائن پر ان نمبروں کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے: 99204405-021، 99206565-021، 99203443-021، 99204405-021 اور 0111712-0316

زیادہ پڑھی جانے والی صحت