جنوبی پنجاب صوبہ — اس شوشے کا مقصد کیا ہے؟

ایسے وقت جب ملک میں کرونا وائرس، معاشی بدحالی اور بدترین طرز حکمرانی پر گفتگو کی ضرورت ہے، عمران سرکار نے اپنی ٹوپی سے جنوبی پنجاب کا کبوتر نکال لیا ہے۔

حالات بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کی اس پُھرتی کا مقصد صوبہ بنانا نہیں بلکہ حقیقی مسائل سے توجہ ہٹاناہے (اے ایف پی)

ایسے وقت جب ملک میں کرونا وائرس، بدترین معاشی بدحالی، آٹے چینی بحران کے ذمہ داروں کے تعین پر خاموشی، بدترین طرز حکمرانی اور مغربی سرحد پر پڑوسی ملک افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات پر گفتگو کی ضرورت ہے، عمران سرکار نے اپنی ٹوپی سے جنوبی پنجاب کا کبوتر نکال لیا ہے۔

حالات بتاتے ہیں کہ اس پُھرتی کا مقصد صوبہ بنانا نہیں بلکہ حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانا اصل مقصد ہے۔

تقریباً 22 ماہ قبل 20 مئی، 2018 کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی نے انتخابات سے پہلے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے سو دنوں کا جو پروگرام دیا تھا اس کا دور دور تک پتہ نہیں۔

اگر ہم اس سے بھی پیچھے جائیں تو نو اپریل، 2018  کو اس وقت ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی خسرو بختیار نے سابق نگران وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی موجودگی میں جنوبی پنجاب متحدہ محاذ بنانے کا اعلان کیا تھا اور اس طرح ن لیگ کو توڑنے اور پی ٹی آئی کو اقتدار دلانے کی کوششوں کو مہمیز ملی تھی۔

ٹھیک ایک ماہ بعد خسرو بختیار نے جنوبی پنجاب محاذ کو پی ٹی آئی میں ضم کردیا تھا۔ انتخابات ہو گئے، پی ٹی آئی کو اقتدار مل گیا۔ رات گئی اور بات گئی۔ اب جبکہ پی ٹی آئی حکومت کو دو سال پورے ہونے کو ہیں، پی ٹی آئی کو اچانک جنوبی پنجاب کا بخار اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

اس معاملے پر ابھی تک بہاولپور صوبے اور جنوبی پنجاب کا تنازع بھی حل نہیں ہوا اور نہ ہی یہ بحث کسی نتیجے پر پہنچی ہے کہ ملتان اور بہاولپور میں سے کون سا شہر اس صوبے کا دارالحکومت بنے گا۔ شنید ہے کہ جہانگیر ترین اپنے علاقے لودھراں کو دارالحکومت بنانے کی بات کر رہے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ بخار کیسے اٹھا ہے۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 239 کی شق نمبر چار کے مطابق پاکستان کے کسی صوبے کی حدود میں ردو بدل، اُس صوبے کی صوبائی اسمبلی کی کم از کم دو تہائی اکثریت کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کے لیے آئین کے آرٹیکل ایک کی شق نمبر دو میں بھی ترمیم کی ضرورت ہے، جس کی خاطر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں الگ الگ دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ ابھی تو صرف قومی اسمبلی میں یہ معاملہ ایک قائمہ کمیٹی کے حوالے کیا گیا ہے۔ فی الحال صرف جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ قائم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

اس وقت پی ٹی آئی کو سینیٹ میں اقلیت اور قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں قلیل اکثریت حاصل ہے۔ ایسی صورت حال میں پی ٹی آئی کے پاس مطلوبہ تعداد نہ ہونے کی وجہ سے یہ بھولا ہوا وعدہ حزب اختلاف اور خاص طور پر ن لیگ کے کھاتے میں ڈال کر آگے بڑھ جانے کا یہ سنہری موقع ہے۔ یہ ایسے وقت ضروری ہے جب بڑے مسائل منہ پھاڑے کھڑے ہیں اور مقامی حکومتوں کے انتخابات سر پر ہیں۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن دونوں نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے الگ الگ بل چند ماہ پہلے قومی اسمبلی ایوان میں پیش کیے جو قانون و انصاف کی کمیٹی کو بھیج دیے گیے تھے۔

ن لیگ کے بل میں ملتان ڈویژن اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن پر مشتمل جنوبی پنجاب صوبے جبکہ بہاولپور ڈویژن پر مشتمل الگ بہاولپور صوبے کے علاوہ ہزارہ صوبہ بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی ٹی آئی کے بل میں ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے 11 اضلاع پر مشتمل جنوبی پنجاب کے نام سے ایک ہی صوبہ بنانے کا کہا گیا ہے۔

پیپلزپارٹی نے البتہ چند ماہ پہلے اپنے پرانے ترمیمی بل میں نئی ترامیم ڈالنے کے بعد اسے دوبارہ سینیٹ میں جمع کروا دیا ہے، جو ابھی تک سینیٹ کے ایجنڈا میں نہیں آیا۔

پی پی پی نے اپنے جنوبی پنجاب بل میں ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے علاوہ سرگودھا ڈویژن کے دو اضلاع بھکر اور میانوالی بھی شامل کیے ہیں جہاں کی اکثریت سرائیکی بولنے والوں پر مشتمل ہے۔

یاد رہے 2012 میں پیپلز پارٹی 13 اضلاع پر مشتمل بہاولپور۔ جنوبی پنجاب کے نام سے نئے صوبے کا ترمیمی بل سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے پاس کروا چکی ہے۔ 2012 میں پیپلز پارٹی کے اس ترمیمی بل کی مخالفت اس وقت صرف مسلم لیگ ن کی تھی۔

2013 اور 2018 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے منشور میں 13 اضلاع پر مشتمل بہاولپور جنوبی پنجاب صوبہ شامل تھا جبکہ 2013 اور 2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے منشور میں جنوبی پنجاب، بہاولپور اور ہزارہ کے الگ الگ صوبے شامل تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے منشور میں کوئی نیا صوبہ بنانا شامل نہیں تھا جبکہ 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے منشور میں 11 اضلاع پر مشتمل جنوبی پنجاب صوبہ اس وقت شامل کیا گیا جب اپریل 2018 میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے درجن بھر کے سیاست دان خسرو بختیار کی قیادت میں ن لیگ چھوڑ کر اس شرط پر شامل ہوئے کہ جنوبی پنجاب صوبہ پی ٹی آئی حکومت 100 دن میں بنائے گی۔ موجودہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بھی 2018 کے انتخابات سے چند ماہ پہلے تک ن لیگ میں شامل تھے۔

اس وقت بہاولپور ڈویژن کے پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی مشترکہ طور پر ایک ہی صوبے جنوبی پنجاب کے حق میں ہیں جبکہ ق لیگ کے اتحادی وزیر طارق بشیر چیمہ بہاولپور صوبے کے حق میں ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن بہاولپور کے ریاض پیرزادہ جیسے ارکان اس معاملے پر خاموش ہیں۔

بہاولپور اور ملتان کا درمیانی فاصلہ 90  کلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔ پی ٹی آئی کے کچھ اہم ارکان جن میں جہانگیر ترین پیش پیش ہیں، بہاولپور اور ملتان کے درمیانی ضلع لودھراں کی حدود میں فرید آباد کے نام سے نئے صوبے کا دارالحکومت بنانے کی  کوشش کر رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کے مطابق اپریل سے فی الحال ایک ایڈیشنل چیف سیکریٹری ملتان میں اور ایک ایڈیشنل آئی جی بہاولپور میں قیام پذیر ہوں گے اور جنوبی پنجاب صوبے کے دارالحکومت کا فیصلہ نئے بننے والے صوبے کی اسمبلی کرے گی۔

ادھر سرائیکی قوم پرستوں کی طرف سے پی ٹی آئی کو جنوبی پنجاب صوبے کا ادھورا جغرافیہ، سرائیکی شناخت نہ دینے اور صوبائی دار الحکومت کے معاملے پر الجھاوؐ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 100 دنوں میں صوبہ بنانے کے طعنے سوشل میڈیا پر زبان زد عام ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ ن کو تخت لاہور کے محافظ  اور جنوبی پنجاب صوبے کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے۔

یہ وہ صورتحال تھی جس کی وجہ سے ن لیگ 2018 کے انتخابات میں اسے خطے سے قومی اسمبلی میں سب سے کم یعنی صرف دو نشستیں ملیں جبکہ پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب صوبے کے نام پر 50 میں سے 35 قومی اسمبلی کی نشستیں جیتیں۔ پیپلزپارٹی کو، جسے کسی زمانے میں اس علاقے میں اکثر نشستیں ملتی تھیں، اس دفعہ قومی اسمبلی کی صرف پانچ نشستیں مل سکیں۔

آج اس زرعی علاقے جنوبی پنجاب میں معاشی بحران کی شدت نے لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ اس وجہ سے پی ٹی آئی عوام کی شدید  ناراضگی کا ہدف بن گئی ہے۔ خاص طور پر کالعدم جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے سربراہ خسرو بختیار، نصراللہ دریشک، میر بلخ شیر مزاری سمیت وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پرشدید تنقید ہو رہی ہے۔

100 دنوں میں صوبہ بنانے کا وعدہ وفا نہ کرنے، زرعی اجناس کی قیمتیں گرنے اور مہنگائی کی وجہ جنوبی پنجاب کے علاقوں کے عوام میں عمران سرکار کے خلاف بہت غم و غصہ ہے۔ شاید اسی وجہ سے پی ٹی آئی 11 اضلاع پر مشتمل جنوبی پنجاب صوبے کا دوسرا بل لے کر آ رہی ہے۔ کچھ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے اس بل کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ عین ممکن ہے کہ ن لیگ اس بل کی مخالفت کرے۔

اگر ن لیگ نے ایسا کیا تو ناکامی کا تمام نزلہ اسی پر گرنے کا احتمال ہے۔ پی ٹی آئی، جو اس وقت متعدد مسائل میں گری ہوئی ہے، جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ایک لالی پاپ  دینے کی کوشش کرے گی۔ وہ کوشش کریں گے کہ اس ناکامی کا سارا ملبہ ن لیگ پر گرایا جائے۔

جو بات یقینی ہے وہ یہ کہ پی ٹی آئی اپنے عہد حکومت میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے میں ہرگز دلچسپی نہیں رکھتی۔ اس وقت صوبے کی تقسیم کا مطلب صوبے کے سب سے ترقی یافتہ اور خوشحال حصے کو تھالی میں رکھ کر ن لیگ کے حوالے کرنا ہو گا کیونکہ اس حصے میں ن لیگ کو بھاری بھرکم اکثریت حاصل ہے۔

یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب پورے صوبے کا اختیار آپ کے پاس ہو تو اسے چھوڑ کر آپ صوبے کے پسماندہ حصے کی حکمرانی قبول کر لیں؟ اگلے انتخابات کے بعد ایسا کوئی نسخہ تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اس وقت سوائے ’سفید دھواں‘ چھوڑنے کے اور کوئی مقصد ہو نہیں سکتا۔

اگر پی ٹی آئی اس میں سنجیدہ ہوتی تو اس معاملے کے بقیہ مضمرات پر بھی بحث ہوتی۔ مثال کے طور پر سب سے بڑا معاملہ سینیٹ میں تمام صوبوں کی نمائندگی کا ہے۔ اس وقت ہر صوبے کے 23 سینیٹر ایوان بالا میں موجود ہیں۔ اگر جنوبی پنجاب صوبہ بنتا ہے تو کیا اس کے بھی 23 سینیٹر ایوان بالا میں ہوں گے یا اس کے آدھے ارکان ہوں گے۔

یہ ایسا معاملہ ہے جو وجہ نزاع بن سکتا ہے۔ کیا سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا اس بات کو تسلیم کریں گے کہ جنوبی پنجاب اور شمالی پنجاب کے بھی 23 سینیٹر ہوں؟ اس ممکنہ تبدیلی کے قومی مالیاتی کمیشن، اس کے فارمولے اور مشترکہ مفادات کونسل کی ساخت پر بھی اثرات پڑیں گے۔ کیا اس پر کوئی رائے عامہ ہموار کی گئی ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔

بات صرف یہ نہیں ہے۔ پاکستان جو اس وقت متعدد بحرانوں کا شکار ہے، اس وقت اس بحث سے ہزارہ صوبے، بلوچستان کی لسانی اعتبار سے تقسیم اور سندھ میں کراچی صوبہ بنانے کی خواہش رکھنے والوں کو بھی تقویت ملے گی۔ کیا پاکستان اس نئی محاذ آرائی کے لیے تیار ہے؟

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر