پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان منگل کو ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے خطے کی حالیہ صورت حال اور ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے منگل کو کہا کہ وہ اپنی صوابدید پر یمن میں موجود اس کے باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی اہلکاروں کی تعیناتی کا خاتمہ کر رہی ہے۔
وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج نے طے شدہ سرکاری فریم ورک کے تحت تفویض کردہ مشنز کی تکمیل کے بعد 2019 میں یمن میں اپنی عسکری موجودگی کا اختتام کر دیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’باقی رہ جانے والی موجودگی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے تحت محدود اور خصوصی نوعیت کے اہلکاروں تک تھی، جو متعلقہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی میں انجام دی جا رہی تھی۔‘
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ’حالیہ پیش رفت اور ان کے انسدادِ دہشت گردی مشنز کی سلامتی اور مؤثریت پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر، وزارتِ دفاع اعلان کرتی ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر یمن میں موجود باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی اہلکاروں کی تعیناتی کا خاتمہ کر رہی ہے۔
’تاکہ اہلکاروں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطہ قائم رہے۔‘
’سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کا مکمل احترام کرتے ہیں‘
اس سے قبل منگل کو متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کی جانب سے ’یمن میں تنازع کو ہوا‘ دینے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کا مکمل احترام کرتا ہے۔
حکومتی ترجمان افرا الحمیلی نے ایکس پر لکھا: ’متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ یمنی تنازع کو ہوا دینے سے متعلق الزامات کی مکمل تردید کی تصدیق کرتی ہے۔‘
ان کا اس بیان میں کہنا تھا کہ ’متحدہ عرب امارات یمنی فریقین کے درمیان کشیدگی میں ملوث ہونے کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتا ہے اور کسی بھی یمنی فریق پر دباؤ ڈالنے یا انہیں فوجی کارروائیوں کی ہدایت کرنے کے الزامات کی مذمت کرتا ہے جس سے سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ ہو یا اس کی سرحدوں کو نشانہ بنایا جائے۔‘
ان کا اصرار تھا کہ متحدہ عرب امارات برادر مملکت سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام، اس کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے مکمل احترام اور مملکت یا خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے کسی بھی اقدام کو مسترد کرنے کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
’متحدہ عرب امارات اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور تاریخی تعلقات علاقائی استحکام کی بنیاد ہیں، اور یہ کہ وہ ہمیشہ مملکت میں اپنے بھائیوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔‘
انخلا کی اپیل مسترد
یمن میں علیحدگی پسندوں نے منگل کو سعودی قیادت میں اتحاد کی جانب سے انخلا کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے علاقے کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ’واپسی کے بارے میں سوچنا ضروری نہیں۔ یہ غیر معقول ہے کہ زمین کے مالک سے اپنی زمین چھوڑنے کو کہا جائے۔ صورت حال کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،‘ علیحدگی پسند جنوبی عبوری کونسل (STC) کے ترجمان انور التمیمی نے اے ایف پی کو بتایا۔
’ہم دفاعی پوزیشن میں ہیں، اور ہماری افواج کی طرف کسی بھی پیش قدمی کا جواب ہماری فورسز دیں گی۔‘
ریاست کی بحالی کی جنگ جاری رکھیں گے: یمنی وزارت دفاع
یمن کی وزارتِ دفاع نے واضح کیا ہے کہ مسلح افواج کے تمام اہلکار بلند حوصلے، مکمل پیشہ ورانہ صلاحیت اور اعلیٰ جنگی تیاری کے حامل ہیں اور ہر حال اور ہر طرح کے حالات میں اپنے آئینی اور قومی فرائض کی انجام دہی کے لیے تیار ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سبا‘ کی جانب سے شائع بیان میں کہا گیا ہے کہ یمنی مسلح افواج ریاست کی بحالی کی جنگ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے اپنے پختہ عزم پر قائم ہیں اور حوثی دہشت گرد گروہ اور اس کے ایرانی منصوبے سے ملک کی ایک ایک انچ زمین آزاد کرانے کے لیے پرعزم ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ ان تمام دہشت گرد گروہوں اور تخریبی منصوبوں کا مقابلہ بھی کریں گی جو وطن کے استحکام کو متزلزل کرنے اور سماجی امن کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزارتِ دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ مسلح افواج اعلیٰ قیادت کی جانب سے جاری کردہ فیصلوں اور اقدامات کی روشنی میں انہیں سونپی گئی تمام ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
یو اے ای کی وزارت نے اس بات کی تصدیق کی کہ نشانہ بننے والی کھیپ میں کوئی ہتھیار نہیں تھا، اور یہ کہ جو گاڑیاں اتاری گئی تھیں وہ کسی یمنی فریق کے لیے نہیں تھیں، بلکہ یمن میں کام کرنے والی متحدہ عرب امارات کی افواج کے استعمال کے لیے بھیجی گئی تھیں۔
وزارت اس بات پر زور دیتی ہے کہ اس سلسلے میں گردش کرنے والے دعوے کھیپ کی اصل نوعیت یا مقصد کی عکاسی نہیں کرتے۔ وزارت نے نوٹ کیا کہ ان گاڑیوں کے حوالے سے متحدہ عرب امارات اور مملکت سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطحی ہم آہنگی تھی اور یہ معاہدہ ہوا تھا کہ یہ گاڑیاں بندرگاہ سے نہیں نکلیں گی۔ تاہم متحدہ عرب امارات نے مکلا کی بندرگاہ پر ان گاڑیوں کو نشانہ بنا کر حیران کردیا۔
وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یمن میں متحدہ عرب امارات کی موجودگی یمن کی جائز حکومت کی دعوت پر اور سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے فریم ورک کے اندر عمل میں آئی ہے، جس کا مقصد جمہوریہ یمن کی خودمختاری کا مکمل احترام کرتے ہوئے، قانونی حیثیت کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت کرنا ہے۔
وزارت نے نوٹ کیا کہ متحدہ عرب امارات نے اتحاد کی کارروائیوں کے آغاز سے لے کر اہم قربانیاں دی ہیں اور مختلف مراحل میں برادر یمنی عوام کی حمایت کی ہے۔
وزارت نے کہا کہ یہ پیش رفت اس بارے میں جائز سوالات اٹھاتی ہے کہ ان اور ان کے اثرات سے کیسے نمٹا جائے، ’ایسے وقت میں جس میں القاعدہ، حوثی اور اخوان المسلمون سمیت دہشت گرد گروہوں سے وابستہ موجودہ سکیورٹی چیلنجوں اور خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ کاری، تحمل اور دانش مندی کی ضرورت ہے۔
’یہ سب بین الاقوامی کوششوں کے فریم ورک کے اندر ہے جس کا مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا اور کشیدگی میں کمی اور استحکام کے مواقع کو بڑھانا ہے۔‘
وزارت خارجہ اس بات پر زور دیا کہ حالیہ پیش رفت سے ذمہ داری کے ساتھ نمٹا جائے اور اس طریقے سے کیا جانا چاہیے جس سے قابل اعتماد حقائق اور متعلقہ فریقوں کے درمیان موجودہ ہم آہنگی کی بنیاد پر کشیدگی کو روکا جائے، اس طرح سے جو سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھے، مشترکہ مفادات کا تحفظ کرے، اور یمن میں سیاسی حل اور بحران کو ختم کرنے میں مدد فراہم کرے۔
سعودی عرب نے منگل کو یمن میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کی پیش قدمی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بتاتے ہوئے ابوظبی کے اقدامات کو ’انتہائی خطرناک‘ قرار دیا تھا۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ یمن کی حکومت کے مطالبے پر اپنی تمام افواج 24 گھنٹے میں یمن سے نکال لے۔
سعودی وزارت خارجہ کا یہ سخت بیان اس وقت سامنے آیا جب یمن میں سعودی قیادت میں لڑنے والے اتحاد نے کہا کہ اس نے علیحدگی پسند فورسز کے لیے متحدہ عرب امارات کے ہتھیاروں کی کھیپ پر حملہ کیا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ابو ظبی کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں نے جو سابقہ آزاد ریاست جنوبی یمن کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش میں ہیں حالیہ ہفتوں میں حملوں کے بعد وسیع کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
یمن کی صدارتی کونسل کے رہنما، رشاد العلیمی جو اس حکومت کے سربراہ ہیں، نے متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل کی افواج کی جانب سے علاقے کے بڑے حصے پر قبضے کے بعد ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور ابو ظبی کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ منسوخ کر دیا۔
منگل کو سعودی قیادت میں عرب اتحادی افواج نے یمن کی بندرگاہ مکلا میں ہتھیاروں اور دیگر فوجی سازوسامان کی سمگلنگ کرنے والے دو جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے 'محدود' فضائی کارروائی کی۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد نے منگل کو یمن کے ساحلی شہر مکلا پر اسلحے کی جس کھیپ کو نشانہ بنایا وہ مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ سے یہاں پہنچایا گیا تھا۔
مزید تفصیلات: https://t.co/8JAIgbtl48 pic.twitter.com/fzfQzWP3bn
— Independent Urdu (@indyurdu) December 30, 2025
یہ جہاز متحدہ عرب امارات کے فجیرہ بندرگاہ سے مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے تھے اور اس کے لیے مشترکہ فورسز کمانڈ سے کسی طرح کا سرکاری اجازت نامے حاصل نہیں کیا گیا تھا۔ اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے آنے والے دو بحری جہاز ہفتے اور اتوار کو ’اتحاد کی جوائنٹ فورسز کمانڈ سے سرکاری اجازت نامے حاصل کیے بغیر مکلا کی بندرگاہ میں داخل ہوئے۔‘
سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ مملکت برادر ملک متحدہ عرب امارات پر زور دیتی ہے کہ وہ یمن کی حکومت کے مطالبے پر 24 گھنٹوں میں وہاں سے نکل جائے اور ’یمن کے اندر کسی بھی فریق کی فوجی یا مالی مدد روکنے کی درخواست کو قبول کیا۔‘
’اس سلسلے میں مملکت کو امید ہے کہ دانشمندی، بھائی چارے کے اصول، اچھی ہمسائیگی، خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور برادر یمن کا مفاد غالب رہے گا۔‘
بیان میں اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا کہ اس کی قومی سلامتی کے لیے کوئی بھی خطرہ ایک ’سرخ لکیر‘ ہے اور وہ ایسے خطرات کا مقابلہ کرنے اور انہیں بے اثر کرنے کے لیے کسی بھی طرح کے ضروری اقدامات کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔
مکلا میں محدود فضائی کارروائی
سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد نے منگل کو یمن کے ساحلی شہر مکلا پر ایک محدود فضائی حملے میں علیحدگی پسند فورس کے لیے پہنچنے والی اسلحے کی کھیپ کو نشانہ بنایا۔
Saudi Arabia Expresses Disappointment over Pressure Exerted by UAE on Southern Transitional Council Forces to Conduct Military Operations on Its Southern Borders in Hadramout and Al-Mahara Governorates, Considering It a Threat to National Security.https://t.co/2sD6TVvGQZ#SPAGOV pic.twitter.com/vtDQwdnu5h
— SPAENG (@Spa_Eng) December 30, 2025
یہ امداد مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے یہاں پہنچی تھی۔ امارات کی طرف سے فوری پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ایس پی اے‘ نے منگل کو اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے حوالے سے کہا ہے کہ 27 اور 28 دسمبر کو دو جہاز فجیرہ کی بندرگاہ سے مکلا کی بندرگاہ پر اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان سے کوئی اجازت نامہ لیے بغیر پہنچے تھے۔
میجر جنرل المالکی نے کہا کہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے صدر کی درخواست کی بنیاد پر اتحادی افواج نے وہاں شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری عسکری اقدامات کیں۔ ’یہ اسلحہ امن و استحکام کے لیے خطرہ اور اشتعال انگیزی کا باعث ہے، اتحاد کی فضائیہ نے آج صبح ایک محدود عسکری کارروائی کی۔ اس کارروائی میں ان ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جو دو جہازوں سے بندرگاہ مکلا پر اتاری گئی تھیں۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی مکمل دستاویزی شواہد کے بعد، بین الاقوامی انسانی قوانین اور ان کے رائج اصولوں کے مطابق اس انداز میں کی گئی کہ کسی قسم کا ضمنی نقصان نہ ہو۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اتحادی فضائیہ نے منگل کو علی الصبح ایک محدود فوجی کارروائی کی جس میں ان لوڈ بندرگاہ پر اتارے گئے ہتھیاروں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جنرل ترکی المالکی نے مزید کہا کہ یہ کارروائی ہتھیاروں کی منتقلی کے دستاویزی اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ہونے کے بعد کی گئی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ادارے نے اس معاملے پر متحدہ عرب امارات کا ردعمل جاننے کی درخواست کی لیکن اس فوری جواب نہیں ملا۔
سوشل میڈیا پر اس متعلق ویڈیو بھی سامنے آئی ہیں جو بظاہر نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے طیارے کی مدد سے لی گئی ہے۔
اتحاد کے ساتھ پچھلے معاہدوں کو نظرانداز کرتے ہوئے، جنوبی عبوری کونسل، یا ایس ٹی سی کہلانے والے گروپ نے دسمبر کے اوائل میں ایک وسیع فوجی مہم شروع کی، جس میں حضرموت کے صوبوں کو سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ اور یمن کی عمان کے ساتھ سرحد پر مشرقی صوبے المہرہ کو قبضہ کر لیا۔
متحدہ عراب امارات کی حمایت یافتہ ایس ٹی سی فورسز نے اس دوران سیئون شہر پر قبضہ کر لیا، جس میں اس کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور صدارتی محل شامل ہیں۔ جبکہ انہوں نے پیٹرو مسیلا کے اسٹریٹجک تیل کی کنوؤں کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا، جو یمن کی باقی ماندہ تیل کی دولت کا ایک بڑا حصہ ہیں۔
ایس ٹی سی سے سعودی عرب نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ علاقہ چھوڑ دے اور اس کا کنٹرول سعودی حمایت یافتہ یونٹ کے حوالے کرے۔
عرب اتحاد نے خبردار کیا کہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی فوجی نقل و حرکت سے فوری طور پر نمٹا جائے گا تاکہ شہریوں کی حفاظت کی جا سکے۔
26 دسمبر کو، یو اے ای نے یمن میں سلامتی اور استحکام کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیاتھا۔ یو اے ای کہ سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے ذریعے جاری کردہ بیان میں سعودی عرب کے یمنی عوام کے مفادات کو آگے بڑھانے اور ان کی استحکام اور خوشحالی کی جائز خواہشات کی حمایت میں تعمیری کردار کی تعریف کی گئی۔
یمن کا ایمرجنسی کا اعلان
یمن کی صدارتی کونسل کے رہنما نے منگل کو ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور ابو ظہبی کی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے علاقے پر قبضے کے جواب میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ منسوخ کر دیا۔
ایک بیان میں کہا گیا کہ ’متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کر دیا گیا ہے‘ جبکہ ایک الگ حکم نامے میں 90 دن کی ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا جس میں 72 گھنٹے کی فضائی، سمندری اور زمینی ناکہ بندی شامل ہے۔