سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جب کہ امریکی صدر نے سعودی عرب کو اہم غیر نیٹو اتحادی ملک کا درجہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ولی عہد محمد بن سلمان کے اعزاز میں دیے گئے سرکاری عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: ’آج رات مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم سعودی عرب کو باضابطہ طور پر اہم غیر نیٹو اتحادی قرار دے رہے ہیں، جو ان کے لیے بہت اہم ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اعلان پہلی بار عوام کے سامنے کیا جا رہا ہے کیونکہ سعودی قیادت چاہتی تھی کہ یہ خبر آج رات کے لیے راز رہے۔
امریکہ کی جانب سے سعودی عرب سے پہلے صرف 19 ممالک کو غیر نیٹو اتحادی درجہ دیا گیا تھا۔
اس سے قبل سعودی ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے قائم سٹریٹجک شراکت داری اور نو دہائیوں سے زیادہ پر محیط تاریخی تعلقات کے فریم ورک کے تحت سامنے آیا ہے۔
یہ ایک اہم پیش رفت طویل المدتی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے اور خطے میں امن، سکیورٹی اور خوشحالی کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
معاہدہ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ قابل اعتماد سکیورٹی شراکت دار ہیں، جو علاقائی اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجز اور خطرات کا مل کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ معاہدہ طویل المدتی دفاعی ہم آہنگی کو مزید گہرا کرتا ہے دفاعی صلاحیتوں اور تیاری کو بہتر بناتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی صلاحیتوں کی ترقی اور انضمام کی معاونت کرتا ہے۔
یہ معاہدہ ایک مضبوط فریم ورک بھی فراہم کرتا ہے جو مسلسل اور پائیدار دفاعی شراکت داری کو یقینی بناتا ہے اور دونوں ممالک کی سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
منگل ہی کی شب منگل کی شب صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا جس میں ایلون مسک سمیت متعدد معروف شخصیات نے شرکت کی۔
مسک کی شرکت کو ٹیسلا کے سی ای او اور امریکی صدر کے درمیان کشیدہ تعلقات میں ممکنہ مفاہمت کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عشائیے میں پرتگال کے فٹبال سٹار کرسٹیانو رونالڈو اور این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ بھی موجود تھے۔
قبل ازیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’سعودی عرب، امریکہ میں سرمایہ کاری کو ایک ٹریلین ڈالر تک بڑھا دے گا جبکہ پہلے 600 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا گیا۔‘
ولی عہد نے مزید کہا کہ ’مجھے یقین ہے جناب صدر، آج اور کل، ہم یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ سرمایہ کاری کو ایک ٹریلین ڈالر تک بڑھانے جا رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا ’ہم ابراہم معاہدے کا حصہ بننا چاہتے ہیں لیکن ہم یہ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہم دو ریاستی حل کے واضح راستے کو محفوظ بنائیں۔‘
’ہم اسرائیلیوں کے لیے امن چاہتے ہیں، ہم فلسطییوں کےلیے امن چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ خطے میں پرامن طریقے سے ایک ساتھ رہیں اور ہم اس تک پہنچنے کی پوری کوشش کریں گے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف کی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ سعودی عرب کے ساتھ سویلین جوہری معاہدے ہوتا دیکھ رہے ہیں، مملکت کے ساتھ دفاعی معاہدے پر پہنچ چکے ہیں۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ ’سعودی عرب کے ساتھ جوہری اور قابل تجدید توانائی میں تعاون کیا جائے گا۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’شہزادہ محمد بن سلمان، امریکہ کے قریبی دوست ہیں، امریکہ سے کیے گئے معاہدے کے تحت سعودی عرب کو ایف 35 طیارے حاصل کرنے کا حق ہے۔‘
’ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں سمجھتا ہوں کہ دونوں اس سطح پر ہیں کہ جہاں انہیں اعلی ترین درجے کے (ایف 35) ملنے چاہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب ایک اہم شراکت دار اور اتحادی ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شام کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘