ڈاکٹر مبشر حسن: سیاسی جماعتوں سے بالاتر شخصیت

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی ڈاکٹر مبشر حسن 98 برس کی عمر میں آج لاہور میں انتقال کرگئے۔

ڈاکٹر مبشر حسن نہ صرف پیپلز پارٹی کے پہلے سیکرٹری جنرل تھے بلکہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر خزانہ بھی رہے۔ (تصویر: ٹوئٹر)

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن ڈاکٹر مبشر حسن 98 برس کی عمر میں آج لاہور میں انتقال کر گئے۔ وہ نہ صرف پیپلز پارٹی کے پہلے سیکرٹری جنرل تھے بلکہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر خزانہ بھی رہے۔

ڈاکٹر مبشر حسن کے سیاسی شاگرد حسن جعفر زیدی، جو ایک محقق اور مورخ بھی ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’بنیادی طور پر ڈاکٹر مبشر سول انجینیئرنگ میں پی ایچ ڈی تھے اور انجینیئرنگ یونیورسٹی، جو 60 کی دہائی میں انجینیئرنگ کالج ہوا کرتی تھی، میں سول انجینیئرنگ کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے اسے یونیورسٹی بنوانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا لیکن جب پروفیسروں کی بجائے ایک بیوروکریٹ کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگا دیا گیا تو اس پر وہاں کے پروفیسروں نے ہڑتال کی اور تب کے گورنر امیر محمد خان نے ان کو یونیورسٹی سے نکال یا۔ اس کے بعد ڈاکٹر مبشر حسن  نے اپنی ایک کنسلٹنسی کمپنی کھول لی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ 1967 میں سیاسی طور پر منسلک ہو گئے اور تب ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی۔‘

حسن جعفر زیدی نے بتایا کہ ’مبشر حسن پیپلز پارٹی کے پہلے سیکرٹری جنرل بھی تھے اور بھٹو کی کابینہ میں وزیر خزانہ بھی۔ اس دوران انہوں نے بہت سے کام کیے اور بہت سے کام کرنے کی کوشش کی جو ہمارے بیوروکریٹک سسٹم نے کرنے نہیں دیے۔‘

اپنی کتاب ’دی میراج آف پاور‘ میں انہوں نے تحریر کیا ہے کہ ریاستی مشینری کس طرح سے آپ کو کام نہیں کرنے دیتی۔ اس کے بعد انہوں نے وزارت خزانہ سے استعفیٰ دے دیا اور  صرف پارٹی کے کام میں مصروف ہو گئے۔ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے انہوں نے پارٹی کارکنوں کی تربیت بھی شروع کی اور 1977 کے بعد جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا لگایا تو ڈاکٹر مبشر حسن بھی زیر عتاب آئے۔

ضیاء الحق کے دور کے بعد ڈاکٹر مبشر حسن سیاسی طور پر متحرک رہے لیکن پیپلز پارٹی کے دوسرے دھڑے یعنی غنویٰ بھٹو گروپ کے ساتھ۔ حسن جعفر زیدی کہتے ہیں کہ ’ڈاکٹر مبشر حسن کی اپنی سیاسی حیثیت بہت بلند تھی، وہ سیاسی جماعتوں سے بہت بالا تر شخصیت تھے۔‘

انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں جن میں ’شاہراہ انقلاب‘، جو دو جلدوں پر مشتمل ہے اور ’رزم زندگی‘ شامل ہے۔ ڈاکٹر مبشر حسن کو ادب سے بہت شغف تھا اور میر تقی میر کو وہ پسند کرتے تھے، چند برس قبل انہوں نے میر کے مجموعے سے ایک مجموعہ تشکیل دیا اور ایک کتابچے کی شکل میں اسے شائع کیا۔

حسن جعفر زیدی نے بتایا کہ ڈاکٹر مبشر حسن نے پاکستان بھارت دوستی کے لیے بھی کام کیا۔’انہوں نے پاک انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کو تشکیل دیا، جس میں پاکستان اور بھارت کے دانشور، سماجی کارکن اور صحافی مل کر کام کر رہے تھے۔‘

ڈاکٹر مبشر حسن کے ایک اور قریبی دوست فرخ سہیل گوئیندی نے بتایا: ’میرا  ڈاکٹر مبشر حسن سے تعلق تب بنا جب میری عمر 17 برس تھی اور میں ایک سیاسی کارکن تھا۔  بھٹو کی حکومت ختم ہوئی تو میں نے ان کو ایک ایسا انسان دیکھا جو انسانی قدروں میں بالکل منفرد تھے۔  وہ ایسے شخص تھے کہ اگر آپ ان کی محفل میں بیٹھے ہیں تو آپ ان سے سوال کر سکتے تھے۔‘

فرخ سہیل نے مزید بتایا: ’میں اس وقت بے شک ٹین ایجر تھا مگر انہوں نے مجھے بھی خود سے اختلاف کرنے کا حق دیا ہوا تھا۔‘

فرخ کہتے ہیں کہ ’ڈاکٹر مبشر حسن میرے والد سے 16 سال بڑے تھے اس کے باوجود ہم آپس میں ایک دوسرے کو دوست کہتے تھے، برابری کا تعلق تھا، انسانی حوالے سے بھی، فکری حوالے سے بھی اور سوشل سٹیٹس کے حوالے سے۔ ان کی ایک خوبی بھی تھی کہ وہ انسان کو اندر سے جان جاتے تھے کہ وہ کتنا انقلابی ہے اور کتنا سچا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر مبشر حسن نے نہ کبھی کسی کی سفارش پر کام کیا اور نہ ہی کبھی کسی کی سفارش کی، ان کا میرٹ پر یقین تھا۔

فرخ سہیل نے مزید بتایا کہ انہوں نے بتایا کہ 74-1973 میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے نیشنل ڈویلپمنٹ والینٹیئر پروگرام (این ٹی وی پی) کے نام سے ایک سکیم شروع کروائی تھی، جس کے تحت ایم اے پاس شخص کو  رجسٹر کیا جاتا تھا اور انہیں سات سو روپے ماہانہ وظیفہ ملا کرتا تھا۔

ڈاکٹر مبشر حسن کے ایک  نظریاتی شاگرد قیوم نظامی، جو 1970 سے پہلے کے پیپلز پارٹی کے کارکن تھے، کے مطابق مبشر حسن پیپلز پارٹی کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ ان کے خیال میں ڈاکٹر مبشر حسن کا شمار پاک دھرتی کے اصل وارثوں میں ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مبشر حسن انسانی حقوق کے ادارے انسانی حقوق کمشن پاکستان (ایچ آر سی پی) کے بانی رکن بھی تھے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان