کورونا سے بیروزگار دیہاڑی دار کی آپ بیتی

کیا وزیر اعظم عمران خان کے تین ہزار روپے کی اعلان کردہ امداد سے دیہاڑی دار کا گزارا ممکن ہے؟

کراچی میں ایک امدادی تنظیم لوگوں میں کھانا تقسیم کر رہی ہے۔ بعض فلاحی تنظیمیں متحرک ہوئی ہیں لیکن وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں (اے پی)

ماسوائے انتہائی ضروری کام کے مسلسل کئی روز ازخود آئسولیشن میں رہنے کے بعد ایک دیہاڑی دار دوست سے فون پر ان کے حالات پوچھنے کو دل چاہا۔ بدقسمتی سے یہ دوست واٹس ایپ پر آن لائن نہ تھا تو میں نے موبائل فون پر نمبر ملایا لیکن آگے سے آواز آئی آپ کا بیلنس پانچ روپے سے کم ہے لہذا ریچارج کروائیں۔

دوست کو مسڈ کال دی لیکن اس وقت ان کا جواب نہیں آیا۔ موبائل لوڈ کی غرض سے اپنے سے چھوٹے بھائی کو ساتھ لیا اور بازار کی طرف نکلنے کی تیاری پکڑی، تاکہ کچھ خریداری کے ساتھ ساتھ شہر کا جائزہ بھی لے لیں۔

 بھائی بولا ڈبل سواری بند لیکن آپ تو صحافی ہیں نا، میں نے جواب دیا کیا صحافی قانون سے بالاتر ہوتے ہیں؟ تو وہ خاموش ہوگیا۔ پھر پیدل نکل پڑے۔

ہم نے تو سوچا تھا کہ روڈ سنسان ہوں گے لیکن لوگوں کی وہی رونکیں، محفلیں، آنا جانا اور تو اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی بھی جیسے ہمارے جیسے لوگوں کے لیے ہو۔ باقی سب تو ایسے بےنیاز جا رہے تھے جیسے انہیں اس پابندی کا علم ہی نہ ہو۔ البتہ پولیس زبردستی دکانیں بند کروا رہی تھی ماسوائے اشیا خوردنوش اورادویات کے۔ اس کے علاوہ لوگوں میں ماسک بھی تقسیم کر رہی تھی۔

خیر آدھا شہر گھومنے کے بعد ایک موبائل لوڈ کی دوکان ڈھونڈ لی جہاں پر ایک نوجوان خوبصورت داڑھی، سر پر ٹوپی اور ہاتھ میں قرآن مجید پکڑ کر تلاوت کر رہا تھا۔ دل میں خیال آیا ہم بدبخت گھر میں بھی تلاوت کی زحمت نہیں کرتے اور ان جیسے اللہ کے پیارے لوگ کام کے دوران بھی کوئی فارغ موقع قرب الہی حاصل کیے بغیر نہیں جانے دیتے۔ یہی بخشے جائیں گے اور ہم گناہ گار نہیں معلوم روز محشر ہمارا کیا بنے گا؟

 خیر ان سے ایزی لوڈ کا پوچھا تو اس نے بڑی خوش اخلاقی سے ’جی ہاں‘ میں جواب دیا۔ انہیں لوڈ کرنے کو کہا اور نمبر بتا دیا لیکن جب انہوں نے پوچھا کتنا بیلنس بھیجنا ہے؟ تو بتایا سو روپے۔ یہ سنتے ہی جیسے یہ حافظ صاحب یکدم بدل سے گئے اور بڑے سخت انداز میں کہا پانچ سو سے کم نہیں ہوگا۔

 ساتھ کھڑے چھوٹے بھائی نے کہا ایسی قوم کا کرونا کیا کرے گا جو لوگوں کی مجبوری میں بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں؟ ایسے لوگوں کو پتا ہوتا ہے کہ یہ چیز ان کے سوا اور کہیں ہے نہیں اور یہی اچھا موقع ہے دگنی کمائی کا۔

راستے میں تھا کہ پیارے دوست محمد عرفان کی کال آگئی۔ انہوں نے بتایا آپ کی مسڈ کال سے پہلے ہی میں نے سوچ رکھا تھا کہ آج آپ کو کال کروں گا کیونکہ ٹی وی پر سنا ہے وزیر اعظم عمران خان نے دیہاڑی دار طبقہ کو تین ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ آپ نے میری ایک اپیل ان تک پہنچانی ہے۔

 اور پھر انہوں نے بتایا کہ میٹرک پاس کرنے کے بعد گھریلوں ذمہ داریوں نے گھیر لیا تو فوج، رینجر، پولیس یہاں تک کہ ہر جگہ سرکاری نوکری کے لیے کوششیں کی لیکن سب بےسود اور اب ایک شاپ پر کام کرتا ہوں۔ والد بوڑھے ہیں، چھوٹے بہن بھائی پڑھ رہے ہیں اور وہ جہاں کام کرتے ہیں وہاں روزانہ کی بنیاد پر ڈھائی سے تین سو روپے نقد ملتے تھے۔ ان کے دوسرے بھائی بھی اسی طرح  کسی شاپ پر کام کرتے اور انہیں بھی اسی طرح کا کچھ معاوضہ ملتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 دونوں بھائی مل کر گھر چلاتے ہیں۔ ایک کے ذمہ مکان کا کرایہ، بجلی اور گیس بل تو دوسرے کے ذمہ اشیا خوردنوش اور باقی ضروریات زندگی ہیں۔ گھر کا ماہوار کرایہ چھ ہزار روپے ہے۔ بجلی، گیس بل ملا کر آٹھ سے نو ہزار روپے تک ماہوار خرچ بنتا ہے، جو ایک بھائی ادا کرتا ہے۔

 محمد عرفان نے مزید بتایا کہ پہلے بھی بمشکل گزارہ ہو رہا تھا لیکن جب سے کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن شروع ہوا تو وہ شدید پریشانی میں ہیں کیونکہ ان کی آمدنی بند ہوگئی ہے اور گھر کا راشن بھی ختم ہونے والا  ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صبح کا ناشتہ بھی چھوڑ دیا ہے، اب صرف ایک وقت میں مختصر سا کھانا بناتے ہیں اور پھر اس میں بھی کوشش ہوتی ہے کہ دوسرے وقت تک کے لیے بھی یہی بچا کر رکھیں، تاکہ گھر کا خرچ جتنا کم کرسکیں اتنا ہی اچھا ہے۔

 میں نے انہیں کچھ ایسے مخیر حضرات کے نمبر دیئے جو راشن تقسیم کر رہے ہیں۔ وہ مسکرائے اور مجھے بھی سمجھ آگئی کہ اب ان کی  سب سے بڑی پریشانی گھر کا کرایہ ہے۔ ان کے مطابق اگر گھر کا کرایہ وقت پر ادا نہیں کیا تو مالک مکان گھر سے نکال دے گا اور پھر وہ چھوٹے بہن، بھائیوں اور بوڑھے والدین سمیت کہا جائیں گے؟ ہاں یاد آیا وزیر اعظم عمران خان نے تو بےگھر افراد کے لیے آسان اقساط پر گھر دینے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن جب عرفان جیسے بےگھر افراد نے یہ گھر لینے کے لیے درخواست فارم پر درج شرائط پڑھیں تو ان کا ان پر پورا اترنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگیا۔ اس کے لیے جو ماہوار قسط رکھی گئی تھی وہ کرایہ، بل سمیت گھر کے پورے خرچ سے بھی کہیں زیادہ تھی۔ شاید ان شرائط پر تو کوئی اعلی افسر یا پھر امیر شخص ہی پورا اتر سکتا ہے۔

خیر ابھی تو اسے روزانہ کے خرچے کی فکر کھائے جا رہی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ