امریکی چڑیا گھر کے شیر میں کرونا وائرس کی تصدیق

نادیہ نامی ٹائیگر اور چھ دوسری بڑی بلیوں میں خشک کھانسی کی علامت پائی جا رہی تھی جس کے بعد خیال ہے کہ ان سب کو چڑیا گھر کے کسی ملازم سے وائرس لگا۔

نیویارک کے برونکس چڑیا گھر کی وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی کی جانب سے فراہم کردہ اس تصویر میں نادیہ نامی ٹائیگر ،جس کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے (تصویر اے ایف پی /جولی لارسن مہر/ ڈبلیو سی ایس)

نیو یارک کے برونکس چڑیا گھر میں ایک چار سالہ شیر (ٹائیگر) میں کرونا (کورونا) وائرس کی تصدیق کے بعد امریکہ میں کسی جانور کے اس وائرس سے متاثر ہونے کا پہلا واقعہ سامنے آیا ہے۔

نادیہ نامی ٹائیگر اور چھ دوسری بڑی بلیوں میں خشک کھانسی کی علامت پائی جا رہی تھی جس کے بعد خیال ہے کہ انہیں چڑیا گھر کے کسی ایسے ملازم سے کرونا وائرس منتقل ہوا، جس میں اس کی علامات نہیں تھیں۔

نادیہ کا ٹیسٹ احتیاطی طور پر کیا گیا تھا اور اب ویٹرنری کیئر میں موجود ان تمام جانوروں کی حالت بہتر بتائی جاتی ہے۔

جنگلی حیات کا تحفظ کرنے والی تنظیم وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی کے مطابق نادیہ اور اس کی بہن ازول سمیت دو اور ٹائیگرز اور تین شیروں میں بھی کووڈ۔ 19 کی علامات پائی جا رہی ہیں۔ تنظیم کے مطابق ان ٹیسٹوں کی تصدیق یو ایس ڈی اے (یو ایس ڈی اے) نیشنل ویٹرنری سروسز لیبارٹری نے کی ہے۔

ادارے کے مطابق بھوک نہ لگنے کے علاوہ یہ تمام جانور مکمل طور پر چاک و چوبند، ہوشیار اور اپنا خیال رکھنے والوں سے گھل مل رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تنظیم کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا: 'یہ معلوم نہیں کہ یہ بیماری ان جانوروں میں آگے کیسے چلے گی کیونکہ مختلف جاندار اس نئے وائرس سے مختلف انداز میں متاثر ہو رہے ہیں۔ مکمل صحت یاب ہونے تک ان جانوروں کو نگرانی میں رکھا جائے گا۔'

یو ایس ڈی اے کے مطابق اس ٹائیگر میں کرونا وائرس کی علامات 27 مارچ سے ظاہر ہونا شروع ہوئی تھیں۔

بیان میں مزید کہا گیا: 'یو ایس ڈی اے حکام اور سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پروینشن ' اس صورت حال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مقامی اور ریاستی محکمہ صحت کو مکمل مدد فراہم کی جا سکے۔ جانوروں کے تحفظ کرنے والے ریاستی اور مقامی محکمے اس بارے میں فیصلہ کریں گے کہ اس چڑیا گھر سمیت باقی علاقوں میں موجود جانوروں کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جائیں یا نہیں۔'

یو ایس ڈی اے نے مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی شخص میں کووڈ۔ 19 کی علامات ظاہر ہوتے ہی اسے 'احتیاطی طور پر جانوروں اور پالتو جانوروں سے ویسے ہی سماجی دوری اور رابطوں میں کمی اختیار کرنی چاہیے جیسے انسانوں سے کی جا رہی ہے۔'

گو ابھی تک امریکہ میں پالتو جانوروں کے اس وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں لیکن اس کے باوجود یو ایس ڈی اے نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ 'جانوروں سے اپنے رابطوں میں اس وقت تک کمی لے آئیں جب تک اس وائرس کے بارے میں مزید معلومات سامنے نہیں آ جاتیں۔'

نیو یارک شہر کے چڑیا گھر کو کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد سے بند کر دیا گیا ہے لیکن ضروری عملہ اب بھی چھ ہزار جانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہے۔ شہر میں چار دوسرے چڑیا گھر اور ایکویریمز کو بھی 16 مارچ سے بند کر دیا گیا تھا، جن میں سینٹرل پارک زو، پروسپیکٹ زو، کوئینز زو اور نیو یارک ایکویریم شامل ہیں۔

امریکن ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن نے رپورٹ کیا ہے کہ پالتو جانوروں اور جانوروں میں کرونا وائرس کے مثبت آنے کے زیادہ تر واقعات چین میں سامنے آئے ہیں، لیکن ابھی تک گھریلو بلیوں میں کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی کے مطابق: 'ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ جس میں جانوروں نے لوگوں میں کووڈ۔ 19 کی منتقلی میں کردار ادا کیا ہو، سوائے ووہان مارکیٹ کے ابتدائی واقعے کے اور اس بات کے بھی کوئی شواہد نہیں کہ امریکہ میں کوئی شخص جانوروں کے ذریعے کووڈ۔ 19 سے متاثر ہوا ہو، چاہے ان میں پالتو کتے یا بلیاں شامل ہوں۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ