غیر ملکی جنہوں نے سعودی عرب میں وبا کے دن گزارنے کو ترجیح دی

'بعض دوسرے ملکوں کے برعکس سعودی عرب نے شروع میں ہی فوری اقدامات کیے جن میں بین الاقوامی پروازوں کی معطلی، غیرملکیوں کے مکہ میں داخلے پر پابندی، عوامی مقامات کی بندش اور کرفیو کا نفاذ شامل ہے۔'

جیسیکا رملہو کا کہنا تھا کہ انہوں نے 24 گھنٹے کے کرفیو کے دوران اپنے کام اور بعد کے وقت میں توازن کا طریقہ تلاش کر لیا ہے۔  (عرب نیوز)

کرونا (کورونا) وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی اپنے ملک واپس جانے کی بجائے یہی رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد سعودی  حکام نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے وائرس پھیلاؤ کو روکنے اور شہریوں کی سلامتی یقینی بنانے کے اقدامات کیے۔

حکومتی سطح پر ان تمام اقدامات کا نتیجہ تھا کہ بہت سے غیرملکیوں نے  واپس جانے کی بجائے سعودی عرب میں ہی قیام کو ترجیح دی۔

کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ایونٹ مینیجرالیکسس ڈیبیری نے عرب نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا: 'میں سعودی عرب میں رہنے والے تمام لوگوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کیے جانے پر بہت متاثر ہوں۔'

'موجودہ حالات میں کیے جانے والے فیصلے اور عوام کو دی جانے والی سہولیات کی اطلاع تمام لوگوں تک پہنچانے کا نظام بہترین ہے ۔'

سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے 30 مارچ کو حکم جاری کیا تھا کہ کرونا (کورونا) وائرس کے علاج کی سہولت تمام افراد تک پہنچائی جائے جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا ویزہ ختم ہو چکا ہے۔ یہ حکم ان بہت سے اعلانات میں سے ایک ہے جو سعودی حکومت نے ملکی آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے کیے ہیں۔

ڈیبیری نے مزید کہا: 'سعودی حکومت  نے جس فراخ دلی کا مظاہرہ کیا وہ بہت متاثر کن ہے۔ ہمیں یہ یقین دلایا گیا ہے کہ کرونا (کورونا) وائرس کا شکار ہونے والے کسی بھی فرد کو علاج کے لیے مالی لحاظ سے پریشان نہیں ہونا پڑے گا۔ یہاں معاملات کو جس انداز میں سنبھالا جا رہا ہے میں اس پر مطمئن ہوں اور گھر پر رہنے کی درخواست پر عمل کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔'

امریکی شہری ڈیبیری کا خاندان امریکہ میں ہے لیکن خود انہوں نے سعودی عرب میں رہنے کا فیصلہ کیا کیوںکہ انہیں ڈر تھا امریکہ واپس جاتے ہوئے وہ کرونا (کورونا) وائرس کا شکار ہو گئیں تو ان کا خاندان بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ ان کا  کہنا تھا: 'میرے لیے یہیں اور محفوظ رہنا ہی بہترین عمل ہے۔ مجھے ضرورت کی اشیا یہاں باآسانی دستیاب ہیں۔'

حال ہی میں سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں امریکی سفیر جان ابی زید نے سعودی عرب میں مقیم امریکی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ صحت کے اس عالمی بحران کے موقعے پر امریکہ واپس جانے کی بجائے سعودی عرب میں رہیں، وہ محفوظ ہیں۔ یہاں خوراک کی فراہمی اچھی، ایمرجنسی سروسز عمدہ اور طبی نظام درست کام کررہا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایل پی سی اومنیا انٹرنیشنل فرانس کا ایک مشاورتی اور نیٹ ورکنگ سے متعلقہ ادارہ ہے۔ سعودی عرب میں اس ادارے کی سینیئر کنسلٹنٹ جیسیکا رملہو کا کہنا تھا کہ انہوں نے 24 گھنٹے کے کرفیو کے دوران اپنے کام اوراس کے بعد کے وقت کے درمیان توازن کا طریقہ تلاش کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سعودی عرب میں کام کا بہترین ماحول میسر ہے۔ سعودی حکام نے بڑی تیزی سے شیڈول میں تبدیلی کی تاکہ ہم پابندیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے کام میں توازن رکھ سکیں۔

رملہونے عرب نیوز کو انٹرویو میں کہا: 'بعض دوسرے ملکوں کے برعکس سعودی عرب نے شروع میں ہی فوری اقدامات کیے جن میں بین الاقوامی پروازوں کی معطلی، غیرملکیوں کے مکہ میں داخلے پر پابندی، عوامی مقامات کی بندش اور کرفیو کا نفاذ شامل ہے۔'

جدہ میں رٹزکارلٹن ہوٹل کے جرمن جنرل مینیجرالیگزینڈرسیل نے عرب سے گفتگو میں کہا کہ کرونا (کورونا) وائرس کی وبا پر قابوپانے کے لیے اکثر ملکوں کے مقابلے میں سعودی عرب نے آغاز میں جو احتیاطی تدابیر اختیار کیں وہ ان سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔

سرکاری احکامات سخت لیکن ضرورت کے عین مطابق تھے۔ شروع میں اقدامات کچھ زیادہ لگے لیکن بعد میں درست ثابت ہوئے۔ معاشرے نے صورت حال کو قبول کر لیا ہے اورمتحد ہو ان کی حمایت کر رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا