سائنس دان وقت کو پیچھے لے جانے میں کامیاب

اس دریافت کو 'ٹائم مشین' کا نام دیا گیا۔ کمپیوٹر پر وقت کو پیچھے لے جانے کے اس عمل کو ہر وہ شخص دیکھ رہا تھا جو اُس وقت ان کوانٹم کمپیوٹرز پر موجود تھا۔

تصویر: آئی بی ایم

سائنس دان وقت کو اُلٹی سمت میں چلانے کے تجربات میں کامیاب ہو چکے ہیں، جو ایک کوانٹم کمپیوٹر کی مدد سے ممکن ہوا۔

یہ حیران کن تحقیق بظاہر طبیعات کے بنیادی قوانین سے متصادم دکھائی دیتی ہے اور کائنات کے بارے میں ہمارے پرانے خیالات کو للکارتی بھی ہے۔

اسے آسان الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے جیسے بلئیرڈ کی میز پر آپ گیندوں کے سیٹ کو ضرب لگائیں اور وہ سب بکھر جائیں، پھر آپ کسی بھی طرح اس عمل کو الٹا کرنے میں کامیاب ہو جائیں، یعنی وہ ساری گیندیں خود بہ خود اسی چال سے واپس اپنی جگہ پر آ جائیں۔ قدرتی طبیعات اور جوہری ذروں کی عجیب و غریب دنیا میں یہ تجربہ کمپیوٹروں کی مدد سے ممکن ہوا۔

ماسکو انسٹیٹیوٹ آف فزکس کے ماہرین نے یہ تحقیق سوئٹزرلینڈ اور امریکہ میں موجود دوسرے طبیعات دانوں کی مدد سے کی۔ کمپیوٹر پر وقت کو پیچھے لے جانے کے اس عمل کو ہر وہ شخص دیکھ رہا تھا جو اُس وقت ان کوانٹم کمپیوٹرز پر موجود تھا۔ محققین کے مطابق اس تجربے میں بہتری کی ابھی بہت گنجائش موجود ہے۔

ڈاکٹر گورڈے لزوک اس ادارے کے سربراہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہوا جب انہوں نے تجرباتی طور پر ایسا ماحول پیدا کیا، جس میں وقت کے قدرتی بہاؤ کی مخالف سمت میں حرکت ممکن تھی۔

اس دریافت کو 'ٹائم مشین' کا نام دیا گیا۔ یہ ٹائم مشین ایک سادہ کوانٹم کمپیوٹر پر مشتمل تھی جسے 'کیوبٹ' کہا جاتا ہے۔ کیوبٹ الیکٹرانوں سے بنایا جانے والا کوانٹم کمپیوٹر ہے۔

کوانٹم کمپیوٹر ایک ایسی مشین ہوتا ہے جو عام پرزوں کی جگہ جوہری ذرات مثلا الیکٹرانز پر انحصار کرکے بنایا جاتا ہے۔ اس کی سادہ ترین مثال ہمارے موبائل فونز میں پایا جانے والا جی پی ایس سسٹم ہے۔ ایک بٹن دبا کر ٹھیک ٹھیک راستوں سے ہوتے ہوئے کسی منزل پر پہنچ جانا کوانٹم طبیعات کا ہی کمال ہے۔

ایک عام کوانٹم کمپیوٹر، جو ناسا وغیرہ کے استعمال میں ہو، عموماً اس کا حجم ایک کمرے کے برابر ہوتا ہے۔ بالکل ویسے ہی جس طرح پرانے زمانے کے دیوہیکل کمپیوٹر ہوا کرتے تھے۔ گوگل اور ناسا کی حالیہ تحقیقات کے درمیان یہ امر بھی سامنے آیا ہے کہ ایک کوانٹم کمپیوٹر 'ڈی ویو 2' کی رفتار ہمارے گھر والے کمپیوٹروں سے دس کروڑ گنا زیادہ ہے۔

کوانٹم کمپیوٹر استعمال کرنے کی ایک اہم وجہ تو یقینی طور پہ اس کی تیز رفتاری ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس میں ہمارے موجودہ زمان و مکان کی طرح ایک متوازی مصنوعی دنیا بنا کر اس کے اندر وقت سے متعلق تجربات بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔ جیسے یہی تجربہ جو وقت کو اُلٹی سمت میں چلانے سے متعلق تھا، یہ کوانٹم کمپیوٹر کی متوازی کائنات میں ہی عمل پذیر ہوا۔ جیسے عام کمپیوٹر کی رفتار 'ہرٹز' میں ناپی جاتی ہے، اسی طرح کوانٹم کمپیوٹر کی کارکردگی جانچنے کے لیے 'کیوبٹس' کا پیمانہ استعمال کیا جاتا ہے۔

اس تجربے میں کائنات کے ارتقائی عمل جیسا ایک مصنوعی پروگرام بنایا گیا اور وہ اس قدر پیچیدہ تھا کہ کوانٹم کمپیوٹر کے کیوبٹس اپنے عمومی راستے/مدار سے ہٹ کر اسے نبھانے کے قابل ہوئے۔ ان کی اصولی ترتیب بالکل اسی طرح بگڑی تھی جیسے بلئیرڈ کی گیندیں بکھر جاتی ہیں۔

پھر ایک اور پروگرام کی مدد سے ان سب کیوبٹس کو دوبارہ سلجھا دیا گیا اور وہ اپنی بکھری ہوئی ترتیب سے واپس پہلے والے مقام پر آگئے۔ اب چونکہ کیوبٹس الیکٹرانز پر مشتمل ہوتے ہیں اور الیکٹران بہرحال زمان و مکان کے اندر موجود رہنے کے پابند ہیں، تو جب وہ الیکٹران اپنی پرانی جگہ پر واپس آ گئے تو سائنس دان اس نتیجے پر پہنچے کہ وقت کو واپس پیچھے لے جایا جا چکا ہے۔  

ایسا ویڈیو میں تو ممکن ہے کہ آپ بلئیرڈ کی گیندوں کے ایک مرتبہ بکھر جانے کے بعد ویڈیو ریکارڈنگ الٹی چلا کر ان سب کو خود بخود واپس جاتے دیکھ لیں مگر کائنات کے عام اصول بہرحال اس کی اجازت نہیں دیتے۔ یہی معاملہ کیوبٹس کے الیکٹرانوں کا تھا۔

کوانٹم کمپیوٹر کے معاملات اور تجربہ گاہ کے دیگر حالات میں مزید بہتری لانے کے بعد سائنس دانوں کو امید ہے کہ وہ اس تجربے کو زیادہ بہتر طریقے سے دہرا سکیں گے۔

اس تجربے کے بعد کوانٹم کمپیوٹروں کو مزید بہتر اور جدت کی راہ پر لانا بھی نسبتاً زیادہ تیزی سے ممکن ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق