کیمل آرٹ: 'ہمیں حجام نہیں بلکہ فنکار کہا جائے'

چولستان میں اونٹوں کی کھال پر پھول اور ڈیزائن بنانے والوں کی نہ کوئی آمدن ہے اور نہ ہی قدر۔

کہا جاتا ہے کہ آرٹ کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے اور وہ مختلف جذبات، معاشرے اور اس کی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے۔

ایک آرٹسٹ علاقائی ثقافت کو جس انداز اور جس آنکھ سے دیکھتا ہے کوئی عام انسان نہیں دیکھ سکتا۔ اسی لیے آرٹسٹ کو معاشرے کا بہترین سفیر بھی قرار دیا جاتا ہے۔

اس کا ایک اندازہ صحرائی چولستان کے اونٹوں پر ہاتھ سے بنے کٹ ورک، جسے اونٹ بال آرٹ بھی کہا جاتا ہے، لگایا جا سکتا ہے۔

اونٹ کی کھال پر بنے دیدہ زیب ڈیزائن کی وجہ سے ایک اونٹ ہزاروں آنکھوں کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ ویسے تو کیمل آرٹ میں بہت سی چیزیں آ جاتی ہیں، جیسے کہ اونٹ کی کھال کے ملتانی لیمپ فن نقاشی کا شاہ کار ہیں اور ان کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ایک سرا مغل اعظم کے دور سے جا ملتا ہے۔

تاہم آج ہم صرف زندہ اونٹ پر انہیں خوبصورت بنانے کے غرض سے 'کٹ ورک' کی بات کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اونٹوں پر ڈیزائن بنانے کی تاریخ کہاں سے شروع ہوئی، اس حوالے سے زیادہ وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم روہی چولستان میں صدیوں سے یہ آرٹ چلا آ رہا ہے۔

اونٹ جسے 'ریگستان کا جہاز' بھی کہا جاتا ہے، اسے خوبصورت بنانے کے لیے اونٹ کا مالک اپنے تہیں ہر وقت کچھ تخلیقی کام کرتا رہتا ہے۔

حال ہی میں صحرائے چولستان جانے کا موقع ملا تو وہاں اونٹوں پر نہایت ہی نفاست سے بنے دیدہ زیب ڈیزائن دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اتنا خوبصورت آرٹ کون اور کیسے بنا لیتا ہو گا۔

اس حوالے سے جب میں نے چولستان کے رہنے والے ایک اونٹ کے مالک محمد خدا بخش سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اونٹ پر جو پھول بنائے جاتے ہیں یا کاٹا گری کی جاتی ہے وہ موسم گرما کے آغاز میں کی جاتی ہے اور اس کی دو وجوہات ہیں۔

ایک اونٹ کو گرمی سے بچانے کے لیے اس کے بالوں کی کٹنگ،  دوسرا دیکھنے میں وہ خوبصورت لگے۔

'میں خود 15 سال سے یہ کام کر رہا ہوں۔ یہ فن کاری زیادہ تر مڑیچی نسل کے اونٹوں پر کی جاتی ہے اور اس کے لیے جو اوزار استعمال ہوتے ہیں وہ خاص قسم کے ہوتے ہیں، یعنیٰ سخت قسم کے لوہے کی قینچی جس کی نوک بڑی تیز اور باریک ہو۔

'ہمارے ہاں ہر سال چنن پیر اونٹوں کا مقابلہ ہوتا ہے اور اس مقابلے میں شرکت کے لیے ہر کوئی اپنے اپنے اونٹ پر کٹ ورک کرکے اسے سنوارتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں جو تصویر اور پھول کا ڈیزائن اچھا لگے اسے اپنے اونٹ پر بناتے ہیں۔ جہاں پر جو ڈیزائن دیکھوں وہ یاد رہتا ہے اور وقتاً فوقتاً بناتا رہتا ہوں۔

اونٹ بال آرٹ بلاشبہ محنت طلب ہے لیکن اس کے باوجود اس فن سے منسلک افراد کی نہ تو کوئی آمدن ہے، نہ شناخت اور نہ ہی اس آرٹ کو باقاعدہ سکھایا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ