'مسلمان گھر میں نماز پڑھ سکتے ہیں تو ہم بھی ایسٹر گھرمیں منا سکتے ہیں'

کرونا وائرس کی وجہ سے اٹلی میں لاک ڈاؤن مزید تین ہفتے برقرار رہے گا۔ ایسے میں چرچ بند ہونے کی وجہ سے مسیحی برادری اپنا مذہبی تہوار ایسٹر گھروں پر منانے میں مجبور ہے۔

کرونا (کورونا) وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر اٹلی میں لاک ڈاؤن کو ایک مہینہ ہوچکا ہے جو مزید تین ہفتے تک برقرار رہے گا۔ ایسے میں مسیحی برادری کے مذہبی تہوار ایسٹر پر چرچ بھی بند ہیں اور لوگ گھروں میں عبادات کر رہے ہیں۔

اٹلی میں مقیم صحافی عالیہ صلاح الدین بتاتی ہیں کہ اس وقت یہاں 19 ہزار افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں اور اگر لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو مزید 30 ہزار افراد کی ہلاکت کا خدشہ تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عالیہ کے مطابق اتنے طویل عرصے تک لاک ڈاؤن کو برقرار رکھنا آسان نہیں لیکن ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ابھی لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ابھی بھی ایمرجنسی ہے۔

اٹلی میں 100 سے زائد ڈاکٹرز  بھی کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

صورت حال کی سنگینی کو پیش نظر رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں اور دفاتر کے ساتھ ساتھ چرچ بھی بند ہیں۔

اٹلی کی 98 فیصد آبادی کیتھولک عقائد کو ماننے والی ہے۔ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے پوپ نے کچھ دن قبل خالی سکوائر میں کھڑے ہوکر سب کے لیے دعا کی تھی اور اس ایسٹر پر بھی وہ ویڈیو پر اپنے ماننے والوں سے خطاب کریں گے۔

عالیہ کے مطابق اس صورت حال میں گذشتہ دنوں ایک سیاست دان نے کہا کہ ایسٹر پر چرچ کھل جانے چاہییں، جس پر ایک مشہور ٹی وی شخصیت نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ 'ہمیں مسلمانوں سے سیکھنا چاہیے، اگر وہ اپنے گھر میں خانہ کعبہ کی جانب رخ کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں تو ہم بھی ایسٹر گھر میں منا سکتے ہیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا