نیوزی لینڈ اور جرمنی نے کرونا کا بہتر مقابلہ کیسے کیا؟

اہم بات سیاسی لیڈر کی صنف نہیں بلکہ ملک کے رہنے والوں میں بہترین صلاحیت کا انتخاب کرنے کی اہلیت ہے۔

(اے ایف پی)

جب کرونا وائرس کی بات ہو تو امریکہ اور نیوزی لینڈ میں کیا فرق ہے یا برطانیہ اور جرمنی کے درمیان کیا چیز مشترک نہیں ہے؟

یہ فرق بحران کے دنوں میں ان کے ردعمل کا ہے، جیسا کہ نیوزی لینڈ کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کو ختم کرنے کے لیے اب تک اس کامیاب حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس میں لاک ڈاؤن جیسی سخت پابندیاں شامل ہیں جب کہ جرمنی نے ٹیسٹنگ کے عمل کو تیز کیا ہوا ہے۔ انتہائی نگہداشت میں بستروں کی تعداد اور ڈاکٹروں کے لیے ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای) کی تعداد کو بڑھایا گیا ہے۔

دوسری جانب اس دوران برطانیہ اور امریکہ دونوں ہی مناسب ردعمل نہیں دے پائے۔ ان ملکوں میں ٹیسٹ صلاحیت کی کمی ہے اور دونوں ممالک میں پی پی ای کی تعداد پریشان کن حد تک کم ہے جس سے فرنٹ لائن پر لڑنے والے ہیلتھ کیئر ورکرز کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور یہ سب یقینی طور پر غیر ضروری اموات کا سبب بن رہا ہے۔

تو ان ممالک کا اس بحران پر ردعمل اتنا مختلف کیوں ہے؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ فرق اس لیے ہے کیوں کہ کرونا وائرس کی وبا کو شکست دینے میں وہ ملک بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جہاں حکومت کی باگ ڈور خواتین کے ہاتھوں میں ہے۔ ان کے مطابق جب بحران کا سامنا ہو تو خواتین کی رہنمائی کا انوکھا انداز ہی اہم ہوتا ہے۔

مجھے پورا یقین نہیں کہ خواتین کی رہنمائی کا یہ مختلف انداز جان بوجھ کر اپنانے کی کوشش کرتی ہیں، تاہم  یہ مختلف انداز بیالوجی سے نہیں بلکہ معاشرتی میل جول سے آتا ہے۔ لڑکیوں کے ساتھ پیدائش سے پہلے ہی مختلف سلوک روا رکھا جاتا ہے جس سے ان کا دنیا اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے ساتھ  میل ملاپ کا طریقہ کار متاثر ہوتا ہے۔

معاشرتی میل جول سے اثر لینے کے بعد خواتین یا مرد کسی بحران کی قیادت الگ طریقوں سے کر سکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خواتین جادوئی مخلوق ہیں جو اپنی کسی خاص پی پی ای (حفاظتی سامان) سے دنیا کو شفا بخش سکتی ہیں۔

ہاں، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن ایک بہترین مقرر اور رابطہ کار ہیں اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو طویل عرصے سے قوم کی ماں کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کو ایک ماں کی طرح تحمل سے اس موجودہ بحران اور گذشتہ کئی بحرانوں سے جرمنی کو نکالتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ 

لیکن سچ بات یہ ہے کہ یہ خواتین مضبوط اور پرعزم سیاستدان بھی ہیں جنہوں نے اپنی امنگ اور عزم سے اپنے پیشے میں عروج حاصل کیا۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے یہ کارنامے ان ممالک میں انجام دیے جہاں ان کی صنف ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ سچ ہے کہ برطانیہ میں دو خواتین وزیر اعظم رہیں ہیں۔ لیکن آخری بار ہم نے حقیقی اکثریت سے کسی خاتون کو 33 سال پہلے وزیراعظم منتخب کیا تھا۔ دوسری خاتون وزیراعظم حیرت انگیز طور پر وہ اکثریت ہار گئیں جو ان کے  مرد پیشرو نے حاصل کی تھی۔

اس اعتراف کے ساتھ کہ ان کی انتخابی مہم ہی کچھ خاص نہیں تھی میں پھر بھی یہ سوچنے سے کترا رہی ہوں کہ اس بحران میں ٹریزا مے کی قیادت کیسی ہوتی۔ اصل بات یہ ہے کہ مے کے ایکس ایکس کروموسوم نے انہیں خصوصی طاقتوں سے نہیں نوازا تھا (مراد خواتین کے جینز کی طاقت)۔ 

تاہم یہ سوال اس وقت زیادہ دلچسپ ہو جاتا ہے جب اسے الٹا دیا جائے۔ جرمنی اور نیوزی لینڈ کے حوالے سے وہ کون سی چیز ہے جو برطانیہ اور امریکہ کے بارے میں سچ نہیں ہے؟ ماضی میں دیکھیں تو وہ کسی قابل امیدوار کا انتخاب کرنے سے پہلے اس شخص کی صنف کو مدنظر نہیں رکھتے۔ کیا ایسا دنیا میں کہیں اور ہوتا ہے؟

جہاں برطانیہ میں آخری انتخابات میں دو مردوں کے درمیان مقابلہ تھا، وہیں ایسا بار بار ہونے کی سب سے عمدہ مثال امریکہ میں ہے۔

ٹیکنوکریٹ، قابل اور تجربہ کار ہلیری کلنٹن کے مقابلے میں غیر سنجیدہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین فرق بہت واضح تھا۔

امریکہ میں کرونا وائرس کی وبا کے اس بحران میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ناکامی سے کئی جانیں گئی ہیں۔ یہاں تک کہ ہلیری سے نفرت کرنے والوں میں سے بھی بہت سے افراد یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ وہ اس وبائی بیماری کا اس طرح مقابلہ کرتیں۔

آج لوگ مر رہے ہیں کیونکہ ماضی میں امریکی ہلیری کلنٹن کو منتخب کرنے کے بارے میں اپنے تعصبات ظاہر کر چکے تھے۔

خواتین بھی مرد قائدین کی طرح مختلف قسم کی سیاست، صلاحیتوں اور انداز کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں اور انہیں ایسا کرنا بھی چاہیے۔ جس طرح جسٹن ٹروڈو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قائدانہ صلاحیتوں کے مابین ایک خلیج ہے اسی طرح جیسنڈا آرڈرن اور انگیلا مرکل کے درمیان بھی ایک وسیع اور واضح فرق ہے۔

لیکن جو اہم بات ہے وہ قائد کی صنف نہیں ہے بلکہ ملک کی بہترین صلاحیت کا انتخاب کرنے کی اہلیت ہے۔ خواہ ان کی جنس کوئی بھی ہو۔ نیوزی لینڈ اور جرمنی نے خواتین لیڈرز کو ان کی قابلیت دیکھ کر، پرکھنے کے بعد اور ان کی قدر کرتے ہوئے ان کو منتخب کیا تھا، ان کی جنس دیکھ کر نہیں۔

یہاں تک کہ قیادت میں جن خصوصیات کی تلاش کی جاتی ہے اس کے تناظر میں بھی صنف کے مابین برابر کے مواقعے بہتر نتائج کا باعث بنتے ہیں اس لیے نہیں کہ انہوں نے خواتین کو منتخب کیا بلکہ اس لیے کہ انہوں نے فعال طور پر یہ سوچ کر انتخاب نہیں کیا کہ وہ خاتون ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین