صحرائے تھر میں کسانوں کا روایتی تہوار بھی کرونا سے متاثر

کسانوں کا تہوار آج سے صحرائے تھر میں شروع ہو رہا ہے جس میں ہندو آبادی کے کسان گھر کے آنگن میں اناج کا ڈھیر بنانے سے لے کر کھیتوں کی طرف جانے تک شگن کی رسمیں ادا کریں گے، لیکن کرونا کی وجہ سے گاؤں کی بیٹھک میں رہان کی رسم نہیں منائیں گے۔

سندھ کے ثقافت کے اپنے رنگ ہیں(روئٹرز)

 سرسوتی اور ہاکڑو ایک دریا کے دو نام ہیں یا دو علیحدہ علیحدہ دریا ہیں، اب تک کوئی حتمی رائے مل نہیں سکی لیکن اس بات پہ اتفاق رائے ہے کہ برصغیر کے ریگستان والےعلاقے میں جب دریا بہتا تھا تو ہر طرف ہرے بھرے کھیت لہلاتے تھے۔ تب یہاں خوشحالی، شادمانی، رقص و کیف کے میل ملاپ سے تہذیب پروان چڑھتی گئی۔

اسی دوران فنون لطیفہ اور موسمی تہواروں کے بڑے میلے منقعد ہوتے گئے۔ ہاکڑو وادی کے زرعی سماج نے بہار کی آمد پہ پھولوں کی رنگت کا تہوار ہولی متعارف کروایا۔ یہاں کی زبان کے اسم ’پھرگنہ‘ سے پھاگن یا پھگن مہینہ بنا۔

گندم کی کٹائی کے بعد بیساکھ میں کسانوں کا دن مخصوص کر کے دنیا کو کسان کی اہمیت کا پیغام دیا گیا۔ ساون کی گھنگھور گھٹاؤں اور بارش کی رم جھم کے ترانوں میں تیج کا تہوار منا کر عام و خاص کا ایک ساتھ جھولوں میں جھولنے کا آغاز کیا۔

رومان کی داستانیں اور راگ مھالا پیش کرنے کے لیے شاعروں، مصوروں اور موسیقاروں کی حوصلا افزائی کی گئی۔ ساون رت کے آخر میں موسم سرما شروع ہونے سے پہلے کاتک ماس میں گھر کی چوکھٹ پر دیا جلا کر روشنیوں کا تہوار منایا گیا۔ 

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسی کوئی بڑی تبدیلی آئی یا حادثہ رونما ہوا جس سے دریا کی روانی ٹوٹ گئی، ہاکڑا وادی کے میدانی علاقے نے خشک ہو کر ریگستانی ٹیلوں کا روپ اختیار کر لیا۔ ریت کی لہروں میں صحرا کی پیاس بڑنے لگی اور لوگوں کی معاشی زندگی کی ترجیحات تبدیل ہوئیں لیکن سماجی و ثقافتی رنگ نہیں بدلے۔

اس وجہ سے صحرائے تھر کے سماجی اور ثقافتی رنگوں میں آج بھی ہاکڑا وادی کی تہذیب وتمدن کے رسم و رواج ہزاروں سال گزرنے کے باوجود کثرت میں پائے جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کہا جاتا ہے کہ ہاکڑا تہذیب کے عروج کے دنوں میں کسانوں کے تہوار کے موقعے پہ دریا کے کنارے جل پوجا کر کے خوشحالی کی پرارتھنا کی جاتی تھی۔ آج فطرت کی قربت میں جا کر پیاسے صحرا پر بارش برسنے کے شگن دیکھے جاتے ہیں۔ بادلوں کے برسنے اور اچھا سال آنے کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

کسانوں کا تہوار تیں دن تک چلتا ہے۔ پہلا دن چیت کے کرشن پکش (کالی راتوں والے 15 دن) کے اماوس (اماس) کا دن ہوتا ہے۔ دوسرا بیساکھ کے شکل پکش (چاندنی راتوں والے دنوں میں) میں چاند رات کے دوسرے دن کسانوں کا تہوار (ہارین جو پربھ) اور چاند رات کے تیسرے دن آکھا ٹیج (آکھاٹی) مناتے ہیں۔

ان تینوں دنوں کی شروعات گھر کے آنگن میں بارانی فصلوں کے علامتی چھوٹے چھوٹے ڈھیر (جس کو کھرا کہا جاتا ہے) بنا کر کسان لوگ کھیتوں کی طرف جاتے ہیں۔ راستے میں جنگل کے فطری منظروں کا سینہ بہ سینہ چلتے ہوئے صدری علم کے تحت بہت قریب سے مشاہدہ کرے ہوئے بارش اور آنے والی سال کے شگن دیکھتے ہیں۔

شگن میں پرندوں کی بولی بھی شامل ہوتی ہے۔ ریگستان میں ایک چھوٹا سا شگن کا پرندہ پایا جاتا ہے جس کو مالہاری کہتے ہیں۔ مالہاری کی بولی سے شگن سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اس میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ مالہاری دائیں ہاتھ کی سمت پر بول رہی ہے یا بائیں ہاتھ کی سمت پر کس درخت پر بیٹھی ہے۔

بڑی عمر کے سگھڑ لوگ مالہاری کے شگن جانتے ہیں۔ مالہاری کے اچھے شگن کو سانگونی کہا جاتا ہے۔ کسانوں کے تہوار میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ گھر کے آنگن میں بنائے ہوئے ڈھیر سے چیونٹیاں کون سی فصل کے دانے کس سمت لےکر جاتی ہیں۔

گاؤں کے چھوٹے بچے لکڑی کے چھوٹھے چھوٹے ہل بنوا کر میدان میں چلاتے ہیں۔ ہل چلانے کے کھیل میں کوئی بچہ کسان بنتا ہے اور کوئی اونٹ، ان کے من کی تمنا ہوتی ہے کہ یہ سال اچھا ہو، بچوں کے اس کھیل کے منظر دیکھنے جیسے ہوتے ہیں۔ گاؤں کے بڑے جنگل سے واپس آ کر گاؤں کی ایک بیٹھک میں یا کسی بڑے درخت کے نیچے جمع ہوتے ہیں۔

تہوار کے دن کی کچہری کو رہان کہتے ہیں۔ وہاں ہر کسان اپنے اپنے شگن بیان کرتا ہے۔ رہان میں ساون رت کے چار مہینوں ہاڑ، ساون، بھادوں اور اسو کے نام پر مٹی کے علامتی ترایاں (تالاب) بنا کر پانی ڈالتے ہیں۔ جس نام کا تالاب پہلے ٹوٹے گا، اس مہینے میں بارش برسنے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی بھی تالاب نہیں ٹوٹتا۔ اس کو قحط کا شگن (بد شگن) تصور کیا جاتا ہے۔

رہان میں چائے، ساکر اور آفیم کی منوار ہوتی ہے۔ داستان گو سگھڑ، منگہار اور چارن کوی لوک شاعری اور داستانیں سناتے ہیں۔

بیجا سہے برچنا توں مت برچے میھ،
توں برچیا بھوپت ڈگے سجن جاوے تھے چھیھ.
(تمام لوگ ناراض ہو جائیں مگر اے برسات تو ناراض مت ہونا، اگر تو نے ایسا کیا تو راجا ڈگمگا جائے گا اور پریتم بھی بچھڑ کر چلا جائے گا)

گر موران بن کنجراں، آنبا رس سوئان،
سین کوچن جنم بھوم ایسا ویسرسی موئان،
(موروں کو پہاڑ، ہاتھیوں کو جنگل، طوطوں کو آم کا رس، دوست کی بری بات، پیدائشی جگہ، یہ تمام مرنے سے پہلے نہیں بھولتیں)

موراں میھ نہ ویسرے منگت نا ڈاتار،
مہلی پیہر نا ویسرے، جیوں ہاڑی نا بھتوار.
(مور برسات کو نہیں بھولتے، بھکاری سخی کو اور شادی شدہ عورت میکے کو اس طرح نہیں بھولتی، جس طرح کسان کھیت میں دوپہر کا کھانا لانے والی اپنے گھر کی عورت نہیں بھولتا، انتظار کرتا ہے)

رانی ساکھی ان تامنی، کا اج کرنی پنکھی،
اوے سرے، ہوں گھر اپنے، دونوں نا میلی انکھی
(اے سکھی، رات تالاب کے اوپر کسی پنچھی نے شور کیا، نہ اس کی تالاب میں آنکھ لگی، نہ میری اپنے گھر میں)

کونجاں رات کریڑیو، ٹولی ٹولی تیس،
میں ستی ساجن ساریو، ارلی بھاگی ایس،
(اے سکھی، رات کو کونجیں کرلا رہی تھیں، ٹولی ٹولی میں تیس تھیں، میں نے اپنے ساجن کو یاد کیا، چھاتی سے چارپائی کی پائنتی کو توڑ دیا۔)

اکتھ کہانی پریم کی مکھ سے کہی نا جا،
گونگے کا سپنا بھیا، سمر سمر پچھتا،
(اے سکھی، پیار کی کہانی بڑی مشکل ہوتی ہے، زبان سے کہی جا نہیں سکتی، گونگے کے خواب کی طرح ہے، جو کسی کو بتا نہیں سکتا، یاد کر کے پچھتاتا ہے)

تہوار کے موقعے پر چاول کی طرح باجرے کا خصوصی طعام تیار کیا جاتا ہے، جس کو باجرا کا بھت کہتے ہیں۔ باجرا کا بھت سچے گھی اور گڑ سے کھایا جاتا ہے۔ باجرے کا خاص طعام ایک دوسرے کے گھروں میں بانٹتے ہیں۔ بیٹھک کی رہان میں شریک ہونے والوں کو بھی کھلایا جاتا ہے۔ تہوار کے آخری دن (آکھا ٹیج) پر گڑ کی ربڑی خصوصی طور پر تیار کی جاتی ہے۔ روٹی کے ساتھ کنڈی کے درخت کی پھلی سنگری سبزی طور پکائی جاتی ہے۔

کسانوں کا تہوار آج سے صحرائے تھر میں شروع ہو رہا ہے۔ ہندو آبادی کے کسان گھر کے آنگن میں اناج کا ڈھیر بنانے سے لے کر کھیتوں کی طرف جانے تک شگن کی رسمیں ادا کریں گے لیکن کرونا کی وجہ سے گاؤں کی بیٹھک میں رہان کی رسم نہیں منائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین