پاکستان میں کرونا سے صحافی پریشان، 40 متاثر

بین الاقوامی میڈیا تنظیم آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ پاکستانی صحافیوں میں متاثرین کا تناسب کافی زیادہ اور تشویشناک ہے۔

جی این این کا سٹاف پولیس ہسپتال میں اپنے ٹیسٹ لیے جانے کا انتظار کر رہا ہے۔ (ابراہیم خان)

کرونا وائرس کے بارے میں پل پل کی خبر دینے والے پشاور کے تین صحافی کرونا کا مثبت ٹیسٹ آنے پرخود خبر بن گئے۔ اس طرح اب تک مجموعی طور پر پورے ملک میں 40 صحافی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم بعض کو خدشہ ہے کہ یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

صحافیوں میں اس کے بعد خوف بڑھ گیا ہے۔ اس خوف کی وجہ سے پشاورمیں دوالیکٹرانک میڈیا چینلز کے بیورو جبکہ اسلام آباد میں ایک دفتر عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں اورخدشہ ہے کہ جس انداز سے کرونا وائرس پھیل رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے مزید بھی بند ہوسکتے ہیں۔

بین القوامی میڈیا تنظیم آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں میں متاثرین کا تناسب کافی زیادہ اور تشویشناک ہے۔ نجی ٹی وی چینلز اے آر وائے نیوز، دنیا اور 24 نیوز کا عملہ متاثرین میں شام ہے۔ 

پشاورمیں صحافی برادری میں بےچینی بدھ کو اس وقت پھیلی جب مختلف چینلز میں کام کرنے والے دو سگے بھائیوں (آصف شہزاد اور واجد شہزاد) کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی دونوں بھائیوں کے دفاتر میں تھرتھلی پھیل گئی اور ان کے باقی ماندہ سٹاف نے پولیس ہسپتال کا رخ کیا جسے حکام نے کرونا وائرس کے ٹیسٹ اور قرنطینہ کے لیے مختص کر رکھا ہے۔

پشاورکے صحافیوں میں روز نیوزکے کیمرہ پرسن شہزاد کاظمی پہلا شکار بنے جن کا 22 اپریل کو کرونا وائرس کاٹ یسٹ مثبت آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے بخار تھا اور سانس لینے میں تکلیف محسوس ہو رہی تھی جس پر میں نے ٹیسٹ کرایا تو مجھے اگلے دن ہسپتال سے فون آگیا کہ آپ کا ٹیسٹ پازیٹو ہے، خود کو گھر میں محدود کر لیں۔‘

شہزاد نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ میں چند روز قبل پشاور کے اندرون شہر کے علاقے میں کرونا وائرس کے ایک مریض کی کوریج کے لیے گیا تھا جہاں سے یہ جوثومہ انہیں لگا ہوگا۔ ’اگرچہ میں مریض کے زیادہ قریب نہیں گیا لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں وہیں سے انفیکٹ ہوا ہوں۔‘

اس کوریج کے بعد سے انہیں پہلے بخار اور پھرسانس کی تکلیف کی شکایت ہوئی۔ 

اس کہانی کی عجیب بات یہ ہے کہ 22 اپریل کو مثبت نتیجے کی زبانی خبر پانے والے شہزاد کو 29 اپریل تک اس کے ٹیسٹ کی تحریری رپورٹ نہیں دی گئی۔ شہزاد کو کہا گیا کہ وہ 14 روز کے لیے گھر کے اندر ہی خود کو الگ تھلگ کرلیں، انہیں دوائی کابتادیا گیا کہ خرید کر استعمال کر لو۔یہ سب کام زبانی ہوئے اور کسی قسم کی تحریری رپورٹ نہیں دی گئی۔

انہیں یہ رپورٹ پشاور پریس کلب کی طرف سے کہنے سننے کے بعد ملی تاہم ابھی ان کا  دوسرا ٹیسٹ ہونا باقی ہے جس سے ان کی بیماری  کی تازہ ترین صورت حال کا پتہ لگے گا۔

پشاور کی صحافی برادری میں کرونا وائرس کے شہر میں تیزی سے پھیلنے کے حوالے سے خدشات تو پہلے سے ہی موجود تھے لیکن 29 اپریل کو نیوز چینل سچ کے ہیلتھ رپورٹر واجد شہزاد اور جی این این چینل میں کام کرنے والے ان کے بھائی  رپورٹرآصف شہزاد  کے ٹیسٹ مثبت آنے پر تو گویا بھونچال آگیا۔ دونوں چینلز کے باقی ماندہ سٹاف نے اپنے ٹیسٹ ایک ساتھ پولیس ہسپتال میں دے دیے۔

ان چینلز میں کام کرنے والا دیگر سٹاف بھی پریشان ہے کہ ان کا ٹیسٹ کیا آئے گا؟

اس حوالے سے واجد شہزاد نے انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ ہم دونوں بھائی ہیلتھ  رپورٹنگ کرتے ہیں اس لیے متاثر ہونے کا خطرہ  تو تھا لیکن کام تو کرنا پڑتا ہے۔ میں رمضان سے پہلے پشاور کے محلہ ہودا میں کرونا وائرس سے متاثرہ ایک خاندان کی کوریج کے لیے گیا تھا جہاں اسلام آباد سے شادی میں آنی والی ایک خاتون کی وجہ سے کئی لوگ متاثر ہوئے اور میں نے ان کی کوریج کی تھی۔

واجد کے مطابق اس کوریج کے کچھ دن بعد انہیں سر میں درد محسوس ہوا اور پھر ہلکا ہلکا بخار ہوا تو ٹیسٹ کے لیے گئے جومثبت آگیا۔

کم وبیش اسی قسم کے حالات کا سامنا جی این این کے رپورٹر اور دونوں بھائیوں میں بلحاظ عمر بڑے بھائی آصف شہزاد کو بھی رہا۔

ابھی چند روز قبل ان کے بہنوئی کا بھی انتقال ہوا جہاں تدفین میں دونوں بھائی پیش پیش تھے اور اسی بنیاد پر بعض صحافی یہ بھی کہہ رہے تھے کہ شاید اس دوران کوئی بداحتیاطی ہوئی ہو لیکن واجد شہزاد کا کہنا ہے کہ ان کے باقی افراد خانہ کا ٹیسٹ منفی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کرونا وائرس کوریج کے دوران ان کو لگا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کوریج کے دوران انہوں نے احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی تھیں تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بچاؤ کے ممکنہ اقدامات کر رکھے تھے لیکن پھر بھی کرونا لگ گیا۔

واجد اور آصف شہزاد اپنے گھر کے دو علیحدہ علیحدہ کمروں میں محدود ہو چکے ہیں لیکن ان کے دفتر کے باقی ساتھی بدھ کو ہی پولیس ہسپتال جا کراپنا ٹیسٹ جمع کروا آئے، جس کی رپورٹ آنا باقی ہے۔

اجتماعی طورپر ٹیسٹ کے لیے جانے والوں میں شامل سینئیر کیمرہ پرسن سید عامر علی شاہ  نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ میں خوفزدہ ہوں لیکن اللہ پر یقین ہے کہ وہ ان کی مدد کرے گا اور ساتھیوں کی دعاؤں سے وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’لیکن ابھی جو وقت گزر رہا ہے وہ خاصا پریشان کن ہے۔ ادارے پوچھتے نہیں کہ کیا سہولت درکار ہے لیکن کام چاہیے ہوتا ہے اس لیے ہمیں ہمہ وقت خطرات کا سامنا ہے لیکن پھر بھی کام جاری ہے۔‘

پشاور کے صحافیوں کو درپیش ان حالات کی بابت پشاور پریس کلب کے صدر سید بخار شاہ  کی رائے لی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ کلب کی انتظامیہ نے اپنے ممبران کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس سلسلے میں کلب کی ہیلتھ کمیٹی کوششیں کر رہے ہے۔ ’ہم نے ممبران کی حفاظت کے پیش نظر کلب کو لاک ڈاؤن بھی کیا اور اپنے صحافیوں پر زور دیتے ہیں کہ اپنی جان کی حفاظت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت سے حفاظتی کٹس بھی لی گئیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان حفاظتی اقدامات میں میڈیا ہاؤسز کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہو گا اور جہاں ممکن ہو سٹاف کو ریلیف دینا ہوگا کیونکہ پشاورمیں حالات نازک ہوتے جا رہے ہیں۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دو جبکہ لاہور میں تین اور کراچی میں ایک مثبت آیا ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی صحافیوں کے بچاؤ کے لیے ہدایات:

  1. صحافیوں کو ایسی جگہ نہ بھیجا جائے جہاں بہت زیادہ رش کے امکانات ہوں۔
  2. بازاروں یا رش والی جگہ سے لائیو کوریج کے لیے صحافیوں کو احکامات نہ دیے جائیں۔
  3. کیمرہ مین اور ڈی ایس این جی سے تعلق رکھنے والے ٹیکنیشنز کو اس بات کی یاد دہانی باربار کروائی جائے کہ کہ ان کے پاس سینیٹائزر، صابن اور ہاتھ دھونے کے لیے پانی گاڑی میں موجود ہے۔
  4. نیوز روم میں موجود صحافی اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ہر ایک گھنٹے بعد اپنا چہرہ اور اپنے ہاتھ کم از کم 15 سیکنڈ تک جاکر دھوئیں اور واپس آئیں۔
  5. تمام صحافیوں کو اس بات کی یاد دہانی کروائی جائے کہ وہ اپنا کمپیوٹر اور دیگر سامان صاف رکھیں اور اسے سینیٹائز کرتے رہیں۔
  6. صحافیوں کو ایسی پریس کانفرنسوں میں بھیجنے سے اجتناب کیا جائے جو اتنی زیادہ اہم نہیں ہیں۔
  7. کوشش کی جائے کہ ویڈیو میسج اور ویڈیو پریس کانفرنس پر انحصار کیا جائے۔
  8. ٹی وی سٹوڈیو میں آنے والے تمام مہمانوں کا درجہ حرارت ان کی آمد کے وقت چیک کرنا یقینی بنایا جائے۔
  9. کینٹین یا کیفے ٹیریا میں محدود عملے کی آمدورفت یقینی بنائی جائے اور ان کی ذاتی صفائی سمیت جراثیم کش دوائیوں کی وہاں موجودگی یقینی بنائی جائے۔
  10. کھانا تیار کرنے کی جگہوں پر صفائی کو یقینی بنایا جائے۔
  11. تمام صحافیوں کو خصوصی کرونا لائف انشورنس کی ممبرشپ دی جائے تاکہ کرونا کا ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں انہیں تمام میڈیکل اخراجات مہیا کیے جا سکیں۔
  12. اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ میڈیا ملازمین کی میڈیکل انشورنس کے تمام کاغذات مکمل ہیں۔
  13. پریس کلب اور یونین کی سطح پر ایسے فنڈ بنائے جائیں جس میں وہ تمام صحافی حصہ ڈالنے کے پابند ہوں جن کی تنخواہ ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔
  14. وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ میڈیا آرگنائزیشنز وقت پڑنے پر جب اپنے کرونا سے متاثر ملازمین کا علاج کرائیں تو ان کی طرف سے ہر ممکن تعاون مہیا ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت