کرونا وائرس نے یورپ اور امریکہ کے بعد روس کا رخ کر لیا

ایک طرف جہاں یورپی ملک لاک ڈاؤنز میں نرمی کی تیاریاں کر رہے ہیں وہیں روسی صدر نے عوام کو صورتحال خراب ہونے کی وارننگ دی ہے۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور اتوار تک اس مہلک وائرس سے دو لاکھ 45 ہزار اموات جبکہ 35 لاکھ سے زائد کیسز مثبت سامنے آچکے ہیں۔

تاہم ان میں سے اب تک 11 لاکھ سے زائد لوگ صحت یات ہو چکے ہیں۔ دنیا میں ساڑھے چار ارب سے زیادہ آبادی تاحال لاک ڈاؤن میں ہے۔

کئی ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن کے بعد کئی یورپی ممالک میں نرمی کے احکامات جاری ہوئے ہیں۔

ڈنمارک اور ناروے وہ ملک ہیں جہاں سب سے پہلے لاک ڈاؤن میں نرمی لائی گئی۔ اٹلی میں پیر سے لوگوں کے لیے پارک کھول دیے جائیں گے جبکہ کچھ فیکٹریاں 27 اپریل سے کھول دی گئی تھیں۔ تاہم سکول ستمبر تک بند رکھے جائیں گے۔

سپین میں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی لائی جا رہی ہے۔ پیر سے سپین میں چھوٹی دکانیں، جن میں حجام شامل ہیں، انہیں ایک، ایک کر کے گاہک دیکھنے کی اجازت ہوگی۔

برطانیہ میں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی لانے کی تیاریاں ہیں۔ وزیر اعظم بورس جانسن کے مطابق برطانیہ میں کرونا وائرس کی پیک جا چکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک طرف جہاں یورپی ملک لاک ڈاؤن میں نرمی کی تیاریاں کر رہے ہیں، وہیں روس میں کرونا وائرس کے ایک لاکھ 30 ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

صدر ولادمیر پوتن نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ سب اپنے گھروں میں رہیں کیونکہ ابھی کرونا وائرس کے کیسز میں مزید اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔

ادھرآج ایران میں صدر حسن روحانی نے ملک کے 132 ضلعوں میں مساجد کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ضلعوں میں وائرس پھیلنے کا خدشہ سب سے کم ہے، اس لیے وہاں مساجد کھولی جا سکتی ہیں تاہم لوگوں کو چاہیے کہ وہ پھر بھی احتیاط کریں۔

انہوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ ملک میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز میں کمی ہو رہی ہے۔

سال 2020 امریکہ کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس سال صدارتی الیکشن ہوں گے جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر الیکشن لڑیں گے۔ تاہم لوگ ان کے کرونا وائرس سے نمٹنے کے اقدامات سے ناخوش ہیں۔

دوسری طرف لوگ لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ لاک ڈاؤنز شروع ہونے کے بعد سے لے کر 30 اپریل تک بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواستیں دینے والے امریکیوں کی تعداد تین کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا