’ایسے جنازے بھی پڑھائے جہاں کرونا مریض کے لواحقین نہیں تھے‘

عوام کے نام ایک پیغام میں ڈپٹی کمشنر پشاور نے بتایا کہ حکومت اور حکومت کے ادارے اس وائرس کی ترسیل کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کا کردار یوں تو عام حالات میں بہت سے انتظامی معاملات سے نمٹنا ہوتا ہے تاہم جب سے کرونا وائرس کی وبا آئی ہے۔ تب سے ضلعی انتظامیہ پر ذمہ داریاں معمول سے بڑھ گئی ہیں۔

چاہے کسی علاقے میں لاک ڈاؤن لاگو کرنا ہو، قرنطینہ مرکز کے اندر انتظامات کرنے ہوں یا پھرعوامی مسائل حل کرنا اور بازاروں کا جائزہ لینا ہو۔

یہ سب کام اور دیگر بہت سی ذمہ داریاں ضلعی انتظامیہ کے سپرد ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ وبا کے ان دنوں میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تدفین بھی انتظامیہ کے ذمہ لگی ہیں۔

اسی تناظر میں ضلع پشاور کے ڈپٹی کمشنر کا عہدہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور زیر بحث ہے۔

ڈپٹی کمشنر محمد علی اصغر کو اخبارات، سوشل میڈیا اور ٹی وی کی خبروں میں دیکھا جاسکتا ہے اور جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح وہ اور ان کی ٹیم خطرات کے باوجود روزانہ مستعدی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

اپنی ان ذمہ داریوں کو نبھانے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی حفاظت کو کیسے یقینی بناتے ہیں؟

انڈپینڈنٹ اردو کے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے حکومتی گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل کر رہے ہیں جس میں سماجی فاصل رکھنا اور ماسک وغیرہ پہننا  شامل ہیں۔

’یہ تمام اصول حکومت نے سوچ سمجھ کر وضع کیے ہیں، لہذا اگر ان پر سختی سے عمل پیرا ہوں تو کرونا وائرس سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ ’میں اور میرے تمام افسر ان ہی ہدایات کو فالو کر رہے ہیں اور اسی لیے ابھی تک سب محفوظ ہیں۔‘

گھر والوں کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اگرچہ گھر والے ان کے لیے بہت پریشان رہتے ہیں تاہم وہ ان کو بہت زیادہ سپورٹ بھی کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آج کل پورے پاکستان میں جہاں بھی ضلعی انتظامیہ کے دفاتر ہیں ان کے کندھوں پر بے پناہ ذمہ داریاں آگئی ہیں۔

’میرے خیال میں یہ ہمارے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ جس میں ہم کرونا رسپانس کو لیڈ کر رہے ہیں۔ ہیلتھ، ریسکیو، میونسپل ایجنسیز، پولیس، آرمی سب کے ساتھ مل کر ہم لاک ڈاؤن سے لے کر تدفین تک فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ایسے مریضوں کی بھی تدفین کی جن کے لواحقین موقع پر موجود نہیں تھے۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر اللہ نے ہمیں اس مقصد کے لیے منتخب کر لیا ہے تو عوام بھی اپنا کام احسن طریقے سے ادا کریں گے۔‘

عوام کے نام ایک پیغام میں ڈپٹی کمشنر پشاور نے بتایا کہ حکومت اور حکومت کے ادارے اس وائرس کی ترسیل کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

’اگر وہ کسی قسم کی ریگولیشنز لاتے ہیں یا سختی کرتے ہیں تو یہ صرف عوامی مفاد کی خاطر ہوتا ہے۔ لہذا ان سے درخواست ہے کہ وہ گھڑ بیٹھیں اور اپنے پیاروں اور معاشرے کی خاطر حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان