لاک ڈاؤن میں نرمی اور وائرس کی دوسری لہر کا خطرہ

دنیا کے کئی ممالک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی تو کی جا رہی ہے لیکن وہیں کرونا وائرس کے دوبارہ حملہ آور ہونے کا خطرہ بھی درپیش ہے۔

ایران میں جہاں کرونا وائرس سے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے وہیں کچھ ایرانی شہری وبا کی دوسری لہر کی وجہ سے خوف زدہ ہیں۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد لوگ قطاروں میں قریب قریب کھڑے دکھائی دے رہے ہیں اور دکانوں اور سڑکوں پر خوب رش ہے۔

ایک ایرانی شہری نے بتایا کہ دارالحکومت تہران میں شاید ہی 50 فیصد لوگ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد احتیاطی تدابیر پر عمل کر رہے ہوں۔

ان کے مطابق لوگ یا تو کرونا وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے یا پھر ان میں ماسک پہننے کی برداشت ختم ہوگئی ہے۔

ایران نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا اعلان 21 اپریل کو کیا تھا۔ ایرانی حکومت کے مطابق امریکہ کی طرف سے ملک پر لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے کرونا وائرس کے دور میں ملک کی معاشی حالت مزید خراب ہو رہی تھی۔

ملک میں مارچ کے بعد دو مئی کو سب سے کم کرونا وائرس کے مثبت کیسز سامنے آئے تھے لیکن گذشتہ روز ایران میں 1500 کیسز کی نشاندہی کی گئی جس سے ملک میں وائرس کے کیسز کی تعداد اب ایک لاکھ چھ ہزار پر جا پہنچی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسعود مردانی، جو ایران کی وزارت صحت میں وائرس ایکسپرٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں نے کہا کہ کرونا کیسز میں دوبارہ اضافہ اس لیے ہوا ہے کیونکہ سب نے کرونا کو سنجیدگی سے لینا بند کر دیا اور معمول کے مطابق زندگی دوبارہ شروع کر دی۔

’کچھ اضافہ اس لیے بھی ہوا ہے کیونکہ کاروبار کھول دیے گئے ہیں اور لوگ شاپنگ پر جا رہے ہیں۔‘

دوسرے جانب جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں بھی وبا کی دوسری لہر کے خدشے سے ریسٹورانٹ وغیرہ بند کر دیے گئے۔

جنوبی کوریا کو کرونا وائرس سے نمٹنے میں کامیابی حاصل کرنے کی وجہ سے عالمی سطح  پر ماڈل ملک قرار دیا گیا تھا۔

سیول کے ایک علاقے جہاں سب سے زیادہ بازار اور ریسٹورانٹ تھے، وہاں گذشتہ روز ایک ہی علاقے سے 12 سے زائد کیسز مثبت آگئے۔ ملک کے محکمہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے ہفتے میں مزید سات ہزار کیسز سامنے آنے کا خدشہ ہے۔

شہر کے میئر پارک وون سون نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ احتیاط کریں کیوں کہ بے پروا ہونے سے وائرس مزید پھیلے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا