شہباز گل کی کایبنہ میں شمولیت: کابینہ کی ففٹی اپ

وزیر اعظم کی جانب سے اطلاعات کے حوالے سے وزرا، ترجمانوں اور یا معاونین خصوصی کی تعیناتیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیر اعظم اس شعبے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سمجھتے ہیں کہ کابینہ میں سیاسی لوگوں سے زیادہ بہتر ٹیکنوکریٹ اور پروفیشنل ہوتے ہیں۔ (تصویر: عمران خان فیس بک)

وزیر اعلی پنجاب کے سابق ترجمان ڈاکٹر شہباز گل کو اب وفاقی کابینہ میں بطور معاون خصوصی شامل کیا گیا ہے جس کے بعد کابینہ میں اراکین کی تعداد 50 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق وفاقی کابینہ میں اس وقت 27 وفاقی وزرا، 4 وزرائے مملکت، 5 مشیر اور 14 معاونین خصوصی ہیں۔ ویب سائٹ پر ڈاکٹر شہباز گل کا نام ابھی معاونین کی فہرست میں نہیں ڈالا گیا مگر ان کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جا چکا ہے۔ شہباز گل کی شمولیت سے کابینہ اراکین کی کل تعداد 51 ہو گئی ہے۔ اگر وزیر اعظم کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جائے تو تعداد 52 ہو جائے گی۔

پاکستان میں ویسے تو جو بھی حکومت بنتی ہے وہ سیاسی اور انتظامی طور پر خود کو مضبوط اور موثر کرنے کے لیے وزرا اور مشیروں کی تعیناتی کرتی ہے۔ لیکن موجودہ حکومت کی جانب سےتقرریوں کو اس لیے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ دور اپوزیشن میں پی ٹی آئی سابقہ حکومتوں کی کابینہ میں تقرریوں پر شدید تنقید کرتی رہی ہے۔ اور بڑی کابینہ کو عوامی وسائل کا ضیاع قرار دیتی رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موجودہ حکومت کی جانب سے منتخب اراکین کو وزارتوں کے ساتھ غیر معمولی تعداد میں مشیر اور معاون بھی تعینات کیے جاتے رہے ہیں۔ کابینہ میں ردوبدل بھی معمول سمجھا جاتا ہے لیکن اس حکومت کو اقتدار میں آئے دوسال بھی مکمل نہیں ہوئے اور کابینہ کے کئی وزرا اور مشیروں کی تقرریاں و تنزلیاں معمول بنتی جا رہی ہیں۔

موجودہ حکومت کی جانب سے سب سے زیادہ تبدیلیاں اطلاعات کے شعبہ میں ہوئیں ہیں۔ وزیر اعظم کی جانب سے اطلاعات کے حوالے سے وزرا، ترجمانوں اور یا معاونین خصوصی کی تعیناتیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیر اعظم اس شعبے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

وزارت اطلاعات میں پہلے فواد چودھری کی جگہ معاون خصوصی بنائی گئی فردوس عاشق اعوان کو ہٹا کر شبلی فراز اور جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو اطلاعات کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اگر پچھلے 21 ماہ کا اگر جائزہ لیا جائے تو آپ کو اطلاعات کے حوالے سے کئی نام یاد آئیں گے۔ یوسف بیگ مرزا اور افتخار درانی باضابطہ طور پر میڈیا امور کو ماضی میں دیکھتے رہے ہیں۔ ان کے علاوہ ندیم افضل چن وزیر اعظم کی ترجمانی کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں اور نعیم الحق سے بھی وزیر اعظم کے حوالے سے بیانات کے لیے رجوع کیا جاتا تھا۔ سینیٹر فیصل جاوید بھی وزیر اعظم کی اطلاعات ٹیم کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم کی پریس سیکریٹری بھی موجود ہیں مگر وہ عہدہ کابینہ کا حصہ نہیں۔

ہر حکومت کی جانب سے وزیروں اور مشیروں کی تعیناتی کا اختیار استعمال کرنا آئینی حق تصور کیا جاتا ہے۔

وزیروں مشیروں کی تعداد بڑھانا ضروری کیوں؟

حکومتی ریکارڈ کے مطابق وزیر اعظم کے علاوہ وفاقی وزرا کی تعداد 27 وزیر مملکت 4وزیر اعظم کے مشیر5ہیں جبکہ وزیر اعظم کے معاونین خصوصی 15 ہو چکے ہیں۔ یوں وفاقی کابینہ کی کل تعداد پچاس سے زائد ہو چکی ہے۔

اس کے برعکس نواز شریف کے آخری دور حکومت میں کابینہ کے اراکین کی کل تعداد 43 تھی جن میں 23 وفاقی وزرا، 14 وزرائے مملکت اور وزیر اعظم کے مشیروں کی تعداد چھ تھی۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سمجھتے ہیں کہ کابینہ میں سیاسی لوگوں سے زیادہ بہتر ٹیکنوکریٹ اور پروفیشنل ہوتے ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان انٹرویوز میں بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکی صدر کی طرز پر منتخب نمائندوں کی بجائے مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والوں کو اپنا مشیر بنانا بہتر سمجھتے ہیں۔ انکے خیال میں وزیر اعظم جن شعبوں میں اپنے لوگوں کو بہتر سمجھتے ہیں ان سے کام لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

سہیل وڑائچ کے مطابق کارکردگی کا چھوٹی یا بڑی کابینہ سے زیادہ تعلق مہارت سے ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر ہوتا ہے کہ پارلیمانی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے منتخب نمائندوں کو مشاورت و پالیسی سازی اور پروفیشنلز کو عمل درآمد کے لیے رکھا جائے کیونکہ منتخب نمائندوں کو زمینی حقائق کا بہتر اندازہ ہوتا ہے اور لوگوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انکی ذاتی رائے میں منتخب نمائندوں کو ہی کابینہ میں شامل کرنا مناسب رہتا ہے۔

کابینہ کا حجم کتنا ہو سکتا ہے؟

اس سوال کا جواب جب صدر سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن قلب حسن شاہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم رولز اینڈ بزنس پروسیجر کے تحت اپنی مرضی سے مشیروں کی تقرری کر سکتے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنے حامیوں کو نوازنے کا طریقہ اپنا رکھا ہے جو ان کی سیاست کے لیے تو ٹھیک ہوسکتا ہے لیکن مسائل ایسے حل نہیں ہونگے۔

انہوں  نے کہا کہ مشیروں اور معاونین کی بڑی تعداد جمع کر لی گئی ہے، کسی کو ہٹایا جا رہا ہے کسی کو لگایا جا رہا ہے، اس کا فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ناتجربہ کار لوگ محکموں میں بہتری نہیں لاسکتے۔ اسی لیے ان کی کارکردگی جلد ہی ظاہر ہوجاتی ہے۔ ان کے خیال میں ایسے اقدامات پر تنقید کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کو بھی اپنی پڑی ہے اور ایوان میں بھی حکومت کو ایسے اقدامات سے روکنے میں کوئی سنجیدہ حکمت عملی دیکھنے میں نہیں آئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست