بلوچستان میں ایرانی بارڈر: 215 قلعے اور باڑ لگانے پر کام میں تیزی

حکام کے مطابق سرحد پر باڑ لگانے کا مقصد ایران سرحد سے سمگلنگ،انسانی سمگلنگ اور شدت پسندی کو روکنا ہے ۔

(فوٹو کریڈٹ :سکیورٹی فورسز ذرائع )

پاکستان نے بلوچستان میں ایرانی سرحد سے متصل سرحدی علاقے میں باڑ لگانے کا کام تیز کردیا۔

پاکستان کا ایران سے متصل سرحدی علاقہ 950 کلومیٹر مشتمل ہے جس پر باڑ لگائی جارہی ہے۔ باڑ لگانے کے ساتھ ساتھ سرحد پر 215 قلعے بھی بنائے جائیں گے ۔

سکیورٹی فورسز کے ذرائع نے بتایا کہ تحصیل دالبندین سے منسلک پاک ایران سرحد پر 230 کلو میٹر کے علاقے باڑ لگانے کا کام 95 فیصدکام مکمل ہوچکا ہے ۔

ذرائع کے مطابق ،موسیٰ ناوڑ زارو سے رباط تک 350 کلو میٹر کے حصےپر باڑ لگانے کا کام جاری ہے اور اس پر 80  فیصد تک کام مکمل ہوچکا ہے ۔

واضح رہے کہ قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ماہ اپریل کے اجلاس میں  پاک ایران سرحد پر باڑ لگانے کے لیے تین ارب روپے (02۔3 بلین )کی سپلمنڑی گرانٹ کی منظوری دی گئی ہے ۔

دوسری جانب گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ کا دورہ کیا اور اس دوران انہوں نے پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا اور انہیں کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں شہری انتظامیہ کی معاونت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ۔

آرمی چیف کو سکیورٹی اجلاس میں پاکستان افغان اور پاکستان ایران سرحد پر باڑ لگانے کے انتظامات اور تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

اس موقعے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ایک پرامن اور خوشحال بلوچستان کی طرف حکومت اور عوام کی مدد کریں۔

آرمی چیف نے تما م کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں  لوگوں تک پہنچیں  تاکہ کرونا کی وجہ سے عوام کو درپیش مسائل کو کم کرنے میں مدد کی جاسک۔ 

حکام کے مطابق سرحد پر باڑ لگانے کا مقصد ایران سرحد سے سمگلنگ،انسانی سمگلنگ اور شدت پسندی کو روکنا ہے ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے کہ گزشتہ سال فروری کے مہینے میں  ایران کے سرحدی علاقے میں پاسداران انقلاب پر حملے کے بعد ایران نے الزام عائد کیا تھا کہ دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے ۔

اس کے بعد اسی سال اپریل میں بلوچستان کے علاقے مکران میں پاکستان نیوی کے اہلکاروں  کو بسوں سے اتار کر گولیان ماری گئی تھیں جس کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کرکے کہا تھا کہ واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کے ٹھکانے ایران میں ہیں جن کے بارے میں ایران کو آگاہ کردیا ہے ۔

شاہ محمود قریشی نے اس دوران دہشت گردی کو روکنے کے لیے پاک ایران سرحد پر خار دار تار لگانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا تھا ۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان