سندھ حکومت اور نجی سکولوں کی ہٹ دھرمی

کرونا وائرس کی سبب سب سے زیادہ جو شعبہ متاثر ہوا ہے وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔ دنیا بھر میں چاہے وہ یورپ ہو یا ایشیا اس وبا کی وجہ سے سب سے پہلے حکومتوں نے تعلیمی ادارے بند کیے۔

سندھ حکومت نے بھی کرونا وائرس پھیلنے کے خدشہ کے باعث تعلیمی سرگرمیوں پر  فوری طور  پابندی عائد کی (فائل فومو: اے ایف پی)

کرونا وائرس کی سبب سب سے زیادہ جو شعبہ متاثر ہوا ہے وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔ دنیا بھر میں چاہے وہ یورپ ہو یا ایشیا اس وبا کی وجہ سے سب سے پہلے حکومتوں نے تعلیمی ادارے بند کیے۔

سندھ حکومت نے بھی کرونا وائرس پھیلنے کے خدشہ کے باعث تعلیمی سرگرمیوں پر  فوری طور  پابندی عائد کی اور سکولوں سے لے کر صوبہ بھر کی جامعات میں بھی تدریس کا عمل روک دیا گیا، اور ساتھ ہی نجی سکولوں کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں ان کو باور کرایا گیا کہ کرونا وائرس کی غیریقینی صورتحال کے پیش نظر اپنی فیسوں کی مد میں 20 فیصد رعایت دیں تاکہ طلبہ اور والدین کو کچھ ریلیف مل سکے۔

اس نوٹیفکیشن کے خلاف کراچی کے ایک  نجی سکول نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔ کورٹ نے پٹیشن کو سماعت کے لیے منظور کیا اور سندھ حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلبی کے لیے  14 مئی کو عدالت میں طلب کیا۔

اس کیس کی پہلی سماعت 14 مئی کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ندیم اختر اور جسٹس عبدالکریم میمن کی سربراہی میں ہوئی اور پہلی ہی سماعت میں اس نوٹیفکیش کو معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔

سماعت کے دوران نجی سکول کے وکیل نے یہ موقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت کسی بھی صورت میں نجی اداروں کو ایسا نوٹس دینے کا اختیار نہیں رکھتی کیوں کہ فیس کی مد میں والدین اور سکول کے درمیان  خالصتاً ایک نجی معاہدہ ہے اور اس معاہدے میں رد و بدل کا اختیار صرف سکول انتظامیہ ہی کے پاس ہے۔

’بنیادی طور پر یہ ایک بزنس ہے بالکل اس ہی طرح جیسے چارٹر اکاونٹنٹ، ڈاکٹر، نرس اور بینکر بھی ایک بزنس ہے اور کل کو یہ بھی رعایت کا تقاضہ کر سکتے ہیں اور صرف سکول سے رعایت مانگنا عجیب ہے۔‘

دوسری جانب نجی سکول میں پڑھنے والے طلبہ اور والدین کی نمائندگی کرتے ہوئے سینیئر وکیل نے بہت ٹھوس موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ڈائریکڑ پرائیویٹ سکول جو کہ ایک حکومتی ادارہ ہے اور یہ ادارہ ہر سال فیسوں کا تعین کرتا ھے۔

’بدقسمتی سے صرف کاغذی کارروائی ہوتی ہے۔ اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔‘

فاضل وکیل نے اپنے موقف کی مزید وضاحت  کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا حوالہ دیا کہ فیسوں کا تعین  نجی سکولز خود نہیں کرسکتے۔ مزید براں یہ کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہونے والے فورنسک آڈٹ کی رپورٹ بھی ایک چشم کشا حقیقت ہے جس کے مطابق نجی سکولز کے مالکان اپنی تنخواہوں کی مد میں کروڑوں روپے وصول کرتے ہیں اور انکم ٹیکس نہیں ادا کرتے۔ اور یہی سکول محض دو مہینے کی فیس کے لیے بے چین نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس موقع پر جج صاحبان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ فیسوں کا تعین ایک الگ چیز ہے اور حکومت سندھ کی جانب سے نجی سکولوں سے رعایت طلب کرنا نیا معاملہ ہے۔

’ہمیں  فیس اور رعایت کے درمیان فرق کو سمجھنا ہوگا۔‘

قانون کی مزید تشرہح کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ  نجی تعلیمی ادارے بنیادی طور پر ایک  کاروبار ہیں جیسے کہ دوسرے کارہوبار ہوتے ہیں۔ سکولز اور طلبہ کے درمیان ہونے والا معاہدہ بالکل ایک نجی معاہدہ ہے اسی طرح سکول اور اساتذہ کے درمیان بھی ہونے والا معاہدہ نجی نوعیت کاہوتا ہے۔

’اس لیے عدالت اس طرح کے نجی معاہدوں میں دخل اندازی کی مجاز نہیں اور نہ وہ کوئی ایسا جواز رکھتی ہے۔‘

عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے کہا کہ کیوں نہ درجہ بندی کر دی جائے سکولوں کی کہ وہ سکول جو پانچ ہزار سے کم فیس لیتے ہیں ان میں پڑھنے والے طلبہ کو رعایت دے دی جائے اور جو سکولز  پانچ لاکھ فیس لیتے ہیں ان طلبہ کو پابند کیا جائے کے وہ پوری فیس ادا کریں۔

سندھ ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے آخر میں یہ بھی کہا کہ صوبائی حکومت بجائے سکولوں سے رعایت طلب کرنے کے کیوں نہ وہ خود 20 فیصد کیش سکولوں کو  دے اور والدین کو حکومت کی جانب سے فیس کی مد میں ریلیف مہیا کیا جائے۔

سندھ حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے فاضل عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت ایسا کرنے سے قاصر ہے اور اس وقت حکومت سندھ کے پاس فنڈز کی کمی ہے۔ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومت سندھ ہر ممکن اقدام کر رہی ہے اور اسی کے پیش نظر نجی سکولوں سے رعایت کی درخواست کی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ  نے سماعت کے بعد فوری طور پر سندھ حکومت کے اس نوٹیفکیشن کو معطل کر دیا۔

دیکھا جائے تو اس وقت عدالت اور صوبائی حکومت  نجی سکولوں کے سامنے بے بس نظر آتی ہیں۔ کرونا وائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں جہاں بیروزگاری کا اژدھا سامنے کھڑا ہے وہیں نجی سکولوں کا سفاک رویہ  لاکھوں طلبہ کی تعلیم کو متاثر کر سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ نجی سکولوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر ملک بھر میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے اور پبلک سکولوں میں تعلیم کے معیار کو بلند کیا جائے۔

اس ضمن میں سب سے پہلے تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور اساتذہ کی تربیت کے پروگرام متعارف کروائیں جاییں تاکہ اساتذہ جدید تیکنک سے روشناس ہو سکیں اور  طلبہ کو بہتر انداز سے پڑھا سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس