لاک ڈاؤن: کشمیری خواتین کو سینیٹری پیڈز دینے والی عرفانہ زرگر

عرفانہ زرگر کہتی ہیں کہ خدا نے انہیں وادی میں ماہواری کے متعلق بیداری پیدا کرنے اور حالت ماہواری سے گزر رہی غریب اور شرمیلی خواتین کی مدد کے لیے چنا ہے۔

عرفانہ زرگرسری نگر میونسپل کارپوریشن میں عارضی بنیادوں پر ملازمت کر رہی ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کرونا (کورونا) وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذ سخت لاک ڈاؤن کو دو ماہ مکمل ہوگئے ہیں۔ وہاں اب تک کرونا کے 1100 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ 13 مریضوں کی موت واقع ہوچکی ہے۔

سترہ مارچ کو جب وادی میں کرونا کا پہلا کیس رپورٹ ہونے کے ساتھ ہی لاک ڈاؤن کے باعث معمول کی زندگی ایک بار پھر تھم گئی تو کئی فلاحی ادارے فیس ماسک و پی پی ایز بنانے اور لوگوں تک اشیائے ضروریہ پہنچانے میں جٹ گئے۔

تاہم کوئی ایسا سرکاری یا غیر سرکاری ادارہ سامنے نہیں آیا جو ماہواری یا حیض کے ایام سے گزر رہی خواتین تک ان کی حفظان صحت کی مصنوعات جیسے سینیٹری پیڈز پہنچاتا۔

ایسے میں کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ خاتون عرفانہ زرگر سامنے آئیں اور اپنی تنخواہ میں سے نصف رقم ضرورت مند خواتین تک سینیٹری پیڈز، پینٹیز، ہینڈ سینیٹائرز اور ہینڈ واش پہنچانے میں خرچ کرنے لگیں۔

عرفانہ زرگر جو سری نگر میونسپل کارپوریشن میں عارضی بنیادوں پر ملازمت کر رہی ہیں، گذشتہ دو ماہ کے دوران قریب 1750 ضرورت مند خواتین میں ماہواری کے دوران استعمال کی جانے والی مصنوعات پہنچا چکی ہیں یا پہنچا رہی ہیں۔

بقول ان کے خدا نے انہیں وادی میں ماہواری کے متعلق بیداری پیدا کرنے اور حالت ماہواری سے گزر رہی غریب اور شرمیلی خواتین کی مدد کے لیے چنا ہے۔

عرفانہ زرگر نے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ تفصیلی گفتگو کے دوران کہا کہ ’لاک ڈاؤن شروع ہوتے ہی میں نے ٹھان لی کہ ان ضرورت مند خواتین کے لیے کچھ  نہ کچھ کروں گی جو حالت حیض میں ہیں۔ کیونکہ ایک تو تمام دکانیں بند تھیں اور دوسرا غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے لاک ڈاؤن میں سینیٹری مصنوعات حاصل کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔‘

’میں نے فیس بک اور ٹوئٹر پر پوسٹس مع تصویریں اپ لوڈ کیں جن میں، میں نے لکھا کہ اگر کسی خاتون کو سینیٹری پیڈز اور حالت حیض میں استعمال ہونے والی دیگر مصنوعات کی ضرورت ہے تو وہ مجھے کال کرسکتی ہیں یا مسیج بھیج سکتی ہیں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ابتدائی طور پر انہوں  نے سری نگر کے ایک محدود علاقے کو کوور کیا لیکن اب وہ اپنے دیگر کچھ ساتھیوں کی مدد سے سری نگر کے بیشتر علاقوں تک پہنچ پا رہی ہیں۔

کشمیر میں رمضان کے دوران سوجی کی پھیرنی تقریباً ہر گھر میں بنتی ہے لیکن عرفانہ زرگر نے پھیرنی بنانا بھی بند کی ہے تاکہ یہ پیسے سینیٹری پیڈز خریدنے پر خرچ کیے جاسکیں۔

اس بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ’میرے مرحوم والد کو پھیرنی بہت پسند تھی۔ ہمارے گھر میں ہر روز پھیرنی بنتی تھی اور پڑوسیوں میں تقسیم بھی ہوتی تھی لیکن پہلی بار ایسا ہوا کہ میں نے پھیرنی بنانا بند کیا ہے۔ میں اس سے بچت ہونے والے پیسے بھی سینیٹری پیڈز خریدنے پر صرف کرتی ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرفانہ کے مطابق کشمیر میں غربت کی وجہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد سینیٹری پیڈز کا استعمال نہیں کر پاتی ہیں اور ان خواتین کو بیماریوں سے بچانے کے لیے حکومت اور صاحب ثروت افراد کا سامنے آنا ضروری ہے۔

’اس لاک ڈاؤن کے دوران میرا بعض ایسے گھروں میں بھی جانا ہوا جہاں میں نے دیکھا کہ ایک باپ کی چار سے بھی زیادہ بیٹیاں ہیں۔ غربت کی وجہ سے ان کے لیے سینیٹری پیڈز خریدنا ناممکن ہے۔ وہاں مجھے احساس ہوا کہ کشمیر کو مجھ جیسی سینکڑوں لڑکیوں کی ضرورت ہے۔‘

عرفانہ بتاتی ہیں کہ ’لاک ڈاؤن کے دوران کئی این جی اووز لوگوں کی مدد کے لیے سامنے آئیں۔ وہ ضرورت مندوں کو اشیائے ضروریہ فراہم کررہی ہیں۔ میری ان کے لیے تجویز ہے کہ وہ لوگوں کو فراہم کی جانے والی چیزوں میں سینیٹری پیڈز بھی شامل کرلیں۔‘

’ماہواری گاڈ گفٹ ہے‘

عرفانہ زرگر، جنہیں خود پہلے پہلے ماہواری کے دوران شرم سمیت کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، کا ماننا ہے کہ ماہواری یا حیض خدا کی طرف سے خواتین کو عطا کردہ ایک تحفہ ہے۔

’خواتین میں حالت سفر کے دوران بھی ماہواری شروع ہوسکتی ہے اور جس جگہ پر وہ بیٹھیں گی وہاں خون کے دھبے بھی لگ سکتے ہیں لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ کچھ لوگ طرح طرح کے طعنے اور فقرے کستے ہیں۔ ماہواری ایک قدرتی عمل ہے جس سے کوئی بہن، بیوی اور ماں مستثنیٰ نہیں ہے۔ درحقیقت یہ گاڈ گفٹ ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’بھارت کے کچھ حصوں میں اب بھی ماہواری سے گزر رہی خواتین کو علیحدہ رکھا جاتا ہے۔ اُن کے برتن، کپڑے اور دیگر چیزیں الگ رکھی جاتی ہیں۔ یہ زیادتی ہے۔ ماہواری کے دوران کوتاہی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔‘

عرفانہ کے مطابق کشمیر کے دیہات میں اب بھی زیادہ تر خواتین ماہواری کے دوران عام کپڑا استعمال کرتی ہیں جس سے وہ کئی طرح کی بیماریوں کو دعوت دیتی ہیں۔

’میں اس مہم کے دائرہ کار کو دیہات تک وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہوں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ بھائی لوگ سامنے آ رہے ہیں۔ ان کی مدد سے ہم اس مہم کو بہت آگے تک لے جا سکتے ہیں۔‘

عرفانہ زرگر کا کہنا ہے کہ سینیٹری پیڈز اور دیگر متعلقہ مصنوعات مفت میں تقسیم کرنے کے پیچھے ان کا سب سے بڑا مقصد ماہواری سے جڑی شرمندگی کو دور کرنا ہے۔

’سینیٹری مصنوعات زیادہ مہنگی بھی نہیں ہوتیں۔ آج اگر کسی بھائی یا شوہر نے سینیٹری پیڈز پر آنے والا خرچہ بچایا تو وہی بھائی یا شوہر کل اپنی بہن یا بیوی کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ کرے گا۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خواتین کی سینیٹری مصنوعات پر آنے والے خرچے سے مستقبل محفوظ کیا جاسکتا ہے۔‘

عرفانہ کو زیادہ خوشی اس بات سے ملتی ہے جب مذہبی سکالر انہیں فون کرکے شاباشی دیتے ہیں۔

’سب سے اہم بات اور میرے لیے سب سے خوش کی بات یہ ہے کہ مجھے کچھ مذہبی سکالروں نے بھی فون کرکے شاباشی دی اور یہ کام جاری رکھنے کی صلاح دی۔ ان کا دو ٹوک الفاظ میں کہنا تھا کہ ماہواری پر بات کرنا کوئی عیب نہیں ہے۔‘

عرفانہ زرگر ’پیڈ وومن‘ کیسے بنیں؟

عرفانہ زرگر نے رواں برس مارچ کے اوائل میں ’ایوا سیفٹی ڈور‘ نامی ایک مہم شروع کی جس کے تحت انہوں نے سری نگر کے اطراف میں قائم عوامی بیت الخلا میں سینیٹری پیڈز رکھنا شروع کر دیے تاکہ حاجت مند خواتین وقت ضرورت ان کا استعمال کرسکیں۔

’میں اپنے مرحوم والد کے ایصال ثواب کے لیے ہر ماہ غریبوں میں اشیائے ضروریہ تقسیم کرتی تھی۔ پھر میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اُن خواتین کے لیے کچھ کروں جنہیں سری نگر کی سڑکوں پر حالت حیض میں سینیٹری پیڈ بدلنے کی ضرورت پڑتی ہے۔‘

عرفانہ زرگر کا کہنا ہے کہ انہیں ڈر تھا کہ بیت الخلا میں سینیٹری پیڈز رکھنے پر انہیں بہت کچھ سننا پڑے گا لیکن عوامی ردعمل اس کے برعکس تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ’جب میں پہلے دن سری نگر کے تاریخی لال چوک میں واقع عوامی بیت الخلا میں خواتین کی سینیٹری مصنوعات رکھنے کے لیے پہنچیں تو میں بہت ڈری ہوئی تھی۔‘

’لیکن مجھے حیرت اس وقت ہوئی جب لوگوں بالخصوص نوجوان لڑکوں نے فون اور سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے مجھے شاباشی دی۔ کچھ لوگوں نے مدد کی بھی پیشکش کی لیکن میں نے فی الحال ایسی کوئی پیشکش قبول نہیں کی ہے۔‘

پھر جب مارچ میں ہی کرونا وائرس لاک ڈاؤن شروع ہوا تو عرفانہ زرگر نے اپنی مہم روکنے کے بجائے ضرورت مند خواتین کے گھروں تک سینیٹری پیڈز اور دیگر متعلقہ مصنوعات پہنچانا شروع کردیا اور اس طرح سے ’پیڈ وومن آف کشمیر‘ کہلائی جانے لگیں۔

عرفانہ کا کہنا ہے کہ اُن کی مہم تبدیلی لانے لگی ہے اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اب ضرورت مند خواتین کے مرد افراد خانہ سینیٹری پیڈز لینے کے لیے میرے پاس آرہے ہیں۔

وہ لاک ڈاؤن کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ’حول میرا ایک پڑوسی علاقہ ہے۔ وہاں سے ایک لڑکی نے مجھے سینیٹری پیڈز کے لیے فون کیا۔ جب میں گھر سے پیڈز ساتھ لے کر نکلی تو مذکورہ لڑکی نے مجھے کال کرکے بتایا کہ آپ یہاں کیسے پہنچیں گے تو میرا جواب تھا کہ میں پیدل آرہی ہوں۔‘

’اس نے مجھے بتایا کہ آپ جہاں ہیں وہیں پر رکیں اور میں اپنے والد صاحب کو بھیجوں گی۔ پھر ان کے والد نے مجھ سے سینیٹری پیڈز حاصل کیے اور پیڈز لینے کے لیے والد کا آنا مجھے بہت اچھا لگا۔‘

مخیر افراد سامنے آئیں

عرفانہ زرگر کے مطابق کشمیر میں مخیر افراد کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں غریب خواتین کے لیے حفظان صحت کی مصنوعات کی فراہمی کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے۔

’میں خود غریب ہوں کیونکہ میرے والد حیات نہیں ہیں۔ اب جو یہاں پر سخی اور مخیر افراد ہیں وہ غریبوں کی مدد کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے ہیں لیکن انہیں غریب خواتین کی حفظان صحت کی مصنوعات کی مفت فراہمی کے لیے بھی کچھ کرنا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین