کیا بابر اعظم واقعی با اختیار کپتان ہوں گے؟

پی سی بی کی جانب سے ون ڈے ٹیم کا کپتان مقرر کیے جانے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بابر نے اس تاثر کی تردید کی کہ وہ بے اختیار کپتان ہیں اور انہیں ڈریسنگ روم کےاشاروں پر چلنا پڑتا ہے۔

بابر اعظم  نے ٹیسٹ کرکٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں ایک جیسی مہارت کا مظاہرہ کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو ون ڈے ٹیم کا کپتان مقرر کردیا ہے۔

پچھلے سالوں میں عالمی کرکٹ میں اگر کسی کھلاڑی نے ساری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے تو وہ بابر اعظم ہیں، جن کی بیٹنگ کا اعتراف اپنے ہی نہیں غیر بھی کرتے ہیں۔

گذشتہ ایک سال میں ان کی کارکردگی نے انہیں کئی بڑے کھلاڑیوں کے مقابل کھڑا کردیا ہے۔  ویرات کوہلی، سٹیو سمتھ اور جو روٹ کی صف میں کھڑے بابر اعظم اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ انہیں اس مقام تک پہنچنے کے لیے طویل انتظار نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں ایک جیسی مہارت کا مظاہرہ کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے۔

ان کے برعکس دوسرے کھلاڑیوں کو تینوں فارمیٹ میں پہنچنے کے لیے خاصی تگ و دو کرنا پڑی ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بابر اعظم کو جب گذشتہ سال ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا تو ماہرین نے شبے کا اظہار کیا تھا کہ کپتانی کی ذمہ داریوں سے ان کی بیٹنگ پر اثر پڑے گا لیکن بابر نے سب کے اندازے غلط ثابت کر دیے اور ان کا بلا اسی طرح رنز اگلتا رہا جیسے سرفراز کی کپتانی میں چل رہا تھا۔

پاکستان میں ہمیشہ سے روایت رہی ہے کہ جو سب سے اچھا کھیلتا ہے، اسے خود تو کپتانی کے خواب آتے ہی ہیں لیکن میڈیا بھی اس کی کپتانی کا شور کرنے لگتا ہے۔ اچھے بھلے کپتان فوراً آنکھوں سے اتر جاتے ہیں اور نئے کپتان کے نعرے لگنے لگتے ہیں۔

سرفراز احمد ایک اچھے اور محنتی کپتان تھے لیکن جیسے جیسے بابر اعظم بیٹنگ میں چمکنے لگے، ویسے ویسے سرفراز کا سورج ڈوبنے لگا۔

اب جبکہ اگلے چند مہینوں میں پاکستان کی کوئی ون ڈے سیریز نہیں ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے سرفراز احمد کو ہٹاکر بابر اعظم کو کپتان مقرر کردیا ہے۔ اس غیر ضروری فیصلے کی وجہ تو کوئی نظر نہیں آتی لیکن شاید بابر اعظم کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنانے کے لیے راہیں ہموار کی جارہی ہیں۔ اس لیے ان کو دو فارمیٹ میں کپتان بناکر ٹیم کو ایک پیغام دے دیا گیا ہے۔

بابر اعظم جو ایک کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والے کرکٹر سمجھے جاتے ہیں، ان کے لیے کپتانی بوجھ تو نہیں لیکن بھاری ذمہ داری ضرور ہے۔

'میں بے اختیار نہیں ہوں'

کپتان بننے کے بعد میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ وہ بے اختیار کپتان ہیں اور انہیں ڈریسنگ روم کےاشاروں پر چلنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کوچ مصباح الحق کے کردار کو اہم قرار دیا لیکن کہا کہ فیصلے وہ خود کرتے ہیں۔

جارح یا دفاعی کپتان؟

بابر اعظم عمران خان کی طرح جارح کپتان بننا چاہتے ہیں، مصباح الحق کی طرح سست اور دفاعی کپتان نہیں۔ لیکن وہ میدان میں جارحیت کے ساتھ دفاعی حکمت عملی غلط نہیں سمجھتے۔

وکٹ کیپر رضوان ہی ہو

بابر اعظم کو سرفراز اور کامران اکمل کے مقابلے میں رضوان پر زیادہ اعتماد ہے اور وہ ان کو تسلسل سے موقع دینا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں رضوان اس وقت سب سے اچھے وکٹ کیپر ہیں۔

محتاط گفتگو

بابر اعظم میڈیا سے بات کرتے ہوئے خاصے محتاط نظر آئے اور شرجیل خان کی شمولیت کے سوال پر جواب گول کرگئے جبکہ عامر اور وہاب کی شمولیت بھی مصباح الحق پر ٹال کرگئے۔

بابر اعظم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ٹیم میں بیٹنگ کا زیادہ تر بوجھ ان پر ہے اور آسٹریلیا سے شکست میں دوسرے بلے بازوں سےتعاون نہ ملنا بھی ایک وجہ تھی۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا کپتانی کے بوجھ سے ان کی بیٹنگ پر کوئی اثر پڑے گا؟ بابر نے نفی میں جواب دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کپتانی کوئی نئی چیز نہیں ہے، وہ انڈر 19 سے کپتانی کر رہے ہیں اور کپتانی کو انجوائے کرتے ہیں، اس سے ان کو اپنی بیٹنگ کی صلاحیتیں دکھانے کا اور موقع ملتا ہے۔

ویسے بھی بابر اعظم کو چیلنجز قبول کرنے کا شوق ہے، اب کپتانی بھی ایک چیلنج ہے جسے وہ بخوبی سر کریں گے۔

جولائی میں انگلینڈ کے دورے کے لیے وہ پُر عزم دکھائی دیے۔ ان کے خیال میں پی سی بی کا یہ احسن قدم ہے جو کورنا (کورونا) وائرس کی صورت حال میں بھی انگلینڈ کے دورے کے لیے رضامند ہے۔

ٹیم میں سینئیر کھلاڑیوں کی موجودگی میں کپتانی کسی ہمالیہ کو سر کرنے سے کم نہیں۔ ماضی میں جاوید میاں داد کو جب اسی طرح کپتان بنایا گیا تھا تو ان کے خلاف بغاوت ہوگئی تھی اور تین سیریز کے بعد ہی ان کو سبکدوش ہونا پڑا تھا۔

اب بابر اعظم کے سامنے اس وقت جیسے مہان کھلاڑی تو نہیں ہیں لیکن کھلاڑیوں کے پیچھے کام کرنے والی قوتیں اب بھی موجود ہیں۔ انہی قوتوں نے ماضی میں شعیب ملک، یونس خان اور شاہد آفریدی کو لوہے کے چنے چبوا دیے تھے۔

بابر اعظم اس نئی ذمہ داری کو بخوبی نبھا سکیں گے، یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن عالمی درجہ بندی میں تنزلی نے ان کی ٹی ٹوئنٹی کپتانی کو متاثر کیا ہے اور اب ون ڈے میں جہاں پاکستان پہلے ہی بہت نیچے ہے اس کو اوپر لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔

بابر اعظم کی بیٹنگ کے تو سب ہی معترف ہیں، اب کپتانی کے جوہر دکھانے کے لیے ان پر کتنا دباؤ ہوگا اس کا اندازہ بابر کو تو ہے لیکن ان سے زیادہ کوچ مصباح الحق پر ہے، جو کوچ اور چیف سیلیکٹر کی دوہری ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں

انگلینڈ کا دورہ بابر اعظم کے لیے اس لحاظ سے اہم ہوگا کہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی ناقدین کے ریڈار پر ہیں اور اگر پاکستان یہ سیریز ہار جاتا ہے تو کوئی بعید نہیں کہ اگلی سیریز میں ٹاس کرنے کے لیے بابر اعظم گراؤنڈ کے وسط میں ہوں ۔

بابر اعظم اپنے پیشرو سرفراز کے برعکس کم گو ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی یہ عادت ان کی کمزوری بنتی ہے یا پھر طاقت۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ