'ہمارے پکھراج کی قدر اس وقت ہو گی جب انگریز واپس آئیں گے'

امریکی اور یورپی لوگ مردان کے قریب ایک پہاڑ سے ملنے والے انتہائی قیمتی پتھر پنک ٹوپاز کے انتہائی قدر دان ہیں۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر مردان سے 25 کلومیٹردور کاٹلنگ غونڈوکے پہاڑمیں پایا جانے والا پنک ٹوپاز جیم سٹون پوری دنیا میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔

اس پہاڑ سے سفید، گلابی، گولڈن(سرخ) اور خاکی رنگ کے ٹوپازنکلتے ہیں لیکن سب سے بہترین اور قیمتی پنک ٹوپاز ہے۔پوری دنیا میں اپنے رنگ اور سختی کی وجہ سے مشہور یہ 'گلابی پکھراج' صرف اسی پہاڑ میں پایا جاتا ہے۔

پنک ٹوپازکے پہاڑکو لیز پرلینے والے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ وہ آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی پرانے طریقے سے اس پتھر کو نکالتنے پر مجبور ہیں ، جس سے بمشکل یہ قیمتی پتھرصحیح سلامت ملتا ہے۔

مصطفی کے مطابق ان کے پاس پنک ٹوپاز نکالنے کے لیے کوئی خاص ٹیکنالوجی ہے اور نہ ہی پروٹوکول۔'دنیا بھر میں اصلی حالت میں ملنے والے پنک ٹوپاز کی بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ صفائی کے ساتھ کام ہوجائے لیکن جو کام حکومت کی جانب سے جس طرح ملا ہے اسی طریقے سے کرنا پڑتا ہے۔'

انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں پتہ نہیں چلتا کہ پہاڑ میں پنک ٹوپاز کہاں پر موجود ہیں، جس کی وجہ سے یہ قیمتی پتھر اکثر ضائع ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  پتھر نکالنے کے کام میں بہتری لانے کے چکر میں اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ 'اس پہاڑ پر پنک ٹوپاز کی تلاش کے لیے پہلے بھی لوگ آئے لیکن وہ کام ادھورا چھوڑ کرچلے گئے کیونکہ ان کے اخراجات پورے نہیں ہوتے تھے۔'

انہوں نے اس قیمتی پتھر کو درست حالت میں نکالنے کے لیے حکومت سے ٹیکنالوجی اور مشینری فراہم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں چھ ماہ سے ایک سال تک مزدور کام کرتے ہیں لیکن اکثر کچھ ہاتھ نہیں آتا اور اگر آتا بھی ہے تو ٹوٹا ہوا پنک ٹوپاز، جس سے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے اور نقصان  الگ ہوتا ہے۔ 'ہمیں باہرسے لوگ رابطے کرتے ہیں کہ انہیں صاف پنک ٹوپاز چاہیے لیکن وہ بہت زیادہ مشکل سے ملتا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پنک ٹوپاز کے پہاڑ پر کام کرنے والے گل رشید کے خیال میں ان کے علاقے کے جیم سٹون کی قدر اس وقت ہو گی جب یہاں انگریز لوگ دوبارہ آئیں گے۔ 'دہشت گردی کے واقعات کے بعد وہ لوگ ہمارے علاقے میں نہیں آ رہے۔ پہلے انگریزمرد اورخواتین خود اس پہاڑ کودیکھنے اور پنک ٹوپاز خریدنے آتے تھے، جس سے قیمت کے ساتھ ہمیں حوصلہ بھی ملتا تھا۔'

تیس سال سے یہاں کام کرنے گل رشید نے بتایا کہ 10 سال پہلے کام کے دوران انہیں اس پہاڑ سے ایک پنک ٹوپاز ملا تھا جسے انہوں نے 20 لاکھ روپےمیں پشاورکے ایک بیوپاری کو بیچا، اب اُسی پتھر کی قیمت ایک کروڑ روپے سے زیادہ ہو گی۔

'انگریز پنک ٹوپاز کے بہت شوقین ہیں، جب وہ ہمارے پاس ٹوٹا ہوا پنک ٹوپاز دیکھ  لیتے تو انتہائی افسردہ ہوجاتے جیسا کہ ان کا ذاتی نقصان ہوا ہو۔'

گل رشید نے بتایا کہ انہیں آج بھی دو امریکیوں  لیٹا اور بوڈا کے نام یاد ہیں، وہ بہت تجربہ رکھتے تھے اور اصل پنک ٹوپاز کی پہچان یک دم کرلیتے تھے۔

پہاڑپر کام کرنے والے ایک اور مزدور مقبول الہٰی نے بتایا کہ پنک ٹوپاز نکالنا انتہائی نازک کام ہے کیونکہ یہ شیشے کی مانند ہوتا ہے اورہتھوڑے کے استعمال کی وجہ سے اس کے ٹوٹنے اور گم ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پنک ٹوپاز نکالنے کے لیے بڑے پتھروں میں ڈرل مشین کے ذریعے سرنگ بنانے کے بعد ہاتھوں سے اس کی صفائی کرکے اس سرنگ میں بارود اور دوسرے مواد ڈال کربلاسٹنگ(دھماکہ) کرتے ہیں، پھرہاتھوں سے باقی پتھر توڑتے ہیں اور پنک ٹوپازکی تلاش کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پتھرتوڑنے کے دوران پنک ٹوپاز ٹوٹ جاتا ہے، اس میں کریک آ جاتا ہے یا یہ ملبے میں گم ہوجاتا ہے، اس وجہ سے انتہائی احتیاط کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ 'اگر پنک ٹوپاز ٹوٹ جائے یا اس میں دراڑ آ جائے اور اپنی اصلی حالت میں نہ رہے تو اس کی قیمت  کم ہوجاتی ہے۔'

 جیم سٹون کا کاروبار کرنے والے مقامی ڈیلر مصنف شاہ نے بتایا کہ غونڈو پہاڑمیں پائے جانے والے پنک ٹوپازکی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ یہاں پر ملنے والے 10 گرام پنک ٹوپازکی قیمت 50 لاکھ سے کروڑوں روپے تک ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس قیمتی پتھر کے اصل خریدار یورپی اور امریکی لوگ ہیں جو پنک ٹوپازاور دوسرے جیم سٹونز کوجیولری میں استعمال کرتے ہیں۔

مصنف شاہ کے مطابق اس پہاڑ پر پنک ٹوپاز کی تلاش کا کام محکمہ معدنیات کی عدم توجہ کی وجہ سے گذشتہ کئی سالوں سے بند پڑا تھا، اب کچھ ماہ سے ایک ٹھیکے دار نے کام شروع کردیا ہے جس سے علاقے کے درجنوں لوگوں کو بھی روزگار ملا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا