ہوم نرسنگ مریضوں کے لیے نعمت سے کم نہیں

ایک نجی ادارے میں ہوم نرسنگ سروس کے سپروائزر ریاض احمد کے مطابق: 'میری بڑی خواہش تھی کہ یہاں سرکاری سطح پر کوئی ایسا سسٹم بنایا جائے کہ لوگوں کے گھروں تک ہوم نرسنگ کیئر کی سہولت فراہم کی جائے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔'

ریاض احمد ایک نجی ادارے میں ہوم نرسنگ سروس کے سپروائزر اور مینیجر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔(تصویر: فاطمہ علی)

عالمی ادارۂ صحت نے 2020 کو نرس اور مڈوائف کا سال قرار دیا ہے۔ اسی مناسبت سے انڈپینڈنٹ اردو نے ایک خصوصی سیریز تیار کی ہے اور مندرجہ ذیل رپورٹ اسی کا حصہ ہے۔ اس سیریز کے دوسرے حصے یہاں پڑھے جا سکتے ہیں۔


'میرے ابا روتے تھے، شاید سوچتے تھے کہ وہ بیٹیوں پر بوجھ بن گئے ہیں۔ دراصل وہ شرم محسوس کرتے تھے کہ بیٹیاں انہیں غسل خانے لے کر جاتی ہیں اور وہ سب کام کرتی ہیں جو شاید ایک بیٹے سے کرواتے ہوئے انہیں جھجھک یا شرم محسوس نہ ہوتی، ہمارے تو وہ ابا تھے مگر ہمیں بھی ان کے چہرے کا کرب دیکھ کر تکلیف ہوتی تھی۔'

نادیہ (فرضی نام کیونکہ خاتون اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتیں) کی والدہ بچپن میں ہی وفات پاگئی تھیں اور ان کے والد چند برس قبل فالج کا شکار ہو کر بستر سے لگ گئے۔ نادیہ کی دو بہنیں اور بھی ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'جب ہم ابا کو ہسپتال سے گھر لائے تو معلوم ہوا کہ ان کی دیکھ بھال کرنا آسان نہیں ہوگا۔ وہ چل نہیں سکتے تھے اور فالج نے ان کے جسم کا دایاں حصہ بے جان کر دیا تھا۔ انہیں واش روم لے جانا، نہلانا اور اس سب سے پہلے انہیں اٹھا کر اپنے کندھوں کے سہارے کھڑا کرنا یا وہیل چیئر پر بٹھانا کسی امتحان سے کم نہیں تھا۔ ابا کا اور ہمارا یہی خیال تھا کہ ان سارے کاموں کے لیے کوئی مرد ہونا چاہیے، ہمیں مدد صرف انہیں واش روم لے جانے اور نہلانے کے لیے چاہیے تھی۔'

نادیہ کے مطابق: 'ارد گرد کے لوگوں سے بات کی تو معلوم ہوا کہ ایک نجی ہسپتال کا ڈسپنسر ہماری مدد کرنے کو تیار ہے۔ مرد نرس ڈھونڈنے کی بھی کوشش کی مگر وہ ہمیں نہیں مل سکا، ڈسپنسر کے اپنے مسئلے تھے کیونکہ وہ ساتھ نوکری بھی کرتے تھے تو وہ پورا دن نہیں دے پاتے تھے مگر پھر بھی ہمیں کچھ مدد مل گئی، تین ماہ جیسے تیسے کاٹے اور پھر وہ بھی چلے گئے، اس کے بعد پھر ہمارے جاننے والوں نے گاؤں سے ایک فیملی بھجوائی جس میں میاں بیوی اور ان کے دو بچے تھے، ہمیں یہ تسلی تھی کہ کم از کم ایک مرد چوبیس گھنٹے گھر میں موجود ہے جو کسی بھی وقت ضرورت پڑنے پر ابا کا  کوئی بھی کام کر سکتے ہیں۔'

نادیہ کہتی ہیں کہ نوے کی دہائی میں ہوم نرسنگ کا رواج اتنا زیادہ نہیں تھا اور نہ ہی اس زمانے میں مرد نرس زیادہ تھے اسی لیے انہیں بھی اپنے والد کی مدد کے لیے مرد نرس ڈھونڈنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صوبہ پنجاب میں ہوم نرسنگ کی سہولت کا رواج آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے مرد یا خواتین نرسز کو تو ڈیوٹی آوورز کے دوران ہوم نرسنگ کے لیے نہیں بھیجا جاتا مگر ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد وہ انفرادی حیثیت میں یہ کام پارٹ ٹائم کے طور پر کرسکتے ہیں یا پھر کچھ نجی ہسپتال یا ادارے اس وقت ہوم نرسنگ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

ریاض احمد ایک نجی ادارے میں ہوم نرسنگ سروس کے سپروائزر اور مینیجر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے پاس 150 کے قریب مرد و خواتین نرسز اور پیرا مڈیکل سٹاف کی  ٹیم ہے۔  

ریاض نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'ہم ہوم نرسنگ کی سہولت زیادہ تر ان مریضوں کو مہیا کرتے ہیں جنہیں فالج ہوا ہو، کچھ ایسے ہوتے ہیں جوایک لمبے عرصے سے بستر پر ہوتے ہیں یا پھر ایسے مریض جو کوما میں ہوتے ہیں۔ ان مریضوں کے دو مسائل ہوتے ہیں ایک تو ان کے کھانے پینے کا یا سانس لینے  کا معاملہ ٹھیک نہیں ہوتا یا پھر وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔'

 ریاض نے بتایا کہ 'یہ سروس دو طرح کی ہے۔ ایک 24 گھنٹے اور دوسری 12 گھنٹےکی اور اس میں بھی شفٹوں میں کام کیا جاتا ہے۔ 12 گھنٹے کی شفٹ ان ضعیف العمر لوگوں کے لیے ہوتی ہے جنہیں دن میں معمول کے کاموں میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ رات کو انہیں سونا ہی ہوتا ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'ہوم نرسنگ کی سہولت کا خرچہ مختلف ہوتا ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ مریض کتنا بیمار ہے اور  انہیں کیسی مدد کی ضرورت ہے، لیکن اندازاً اگر ہم آئی سی یو تربیت یافتہ نرس کی 12 گھنٹے کی شفٹ دے رہے ہیں تو ہم یومیہ 3 ہزار روپے لیتے ہیں۔'

ریاض نے بتایا کہ 'ہمارے ساتھ جتنی نرسسز کام کر رہی ہیں وہ سب پاکستان نرسنگ کونسل کی رجسٹرڈ نرسیں ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری کیٹیگری ہمارے پاس اسسٹنٹ نرسوں کی ہے جس میں ایک یا دو سال کی ڈپلوما ہولڈرز سٹاف نرسسز مرد اور خواتین شامل ہیں۔ ان میں ڈسپنسرز، مڈ وائف، کلینیکل اسسٹنٹ، ایل ایچ وی وغیرہ شامل ہیں اور تیسری کیٹگری ہیلپرز کی ہے جو مریض کو اٹھانے بٹھانے یا ان کے کپڑے وغیرہ تبدیل کروانے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں مریض کی کسی قسم کی طبی مدد کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔'

ریاض نے بتایا کہ ایک سیریس مریض کے لیے ہم دو لوگوں کی ٹیم بھیجتے ہیں، ایک مرد یا خاتون نرس اور دوسرا ہیلپر سٹاف جبکہ وہ مریض جو نارمل ہوتے ہیں ان کے لیے ہم 12 گھنٹے کی شفٹ میں ایک نرس بھیجتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوم نرسنگ کیئر میں مریض کے لواحقین کا تعاون بہت اہم ہے وہ جتنے زیادہ اخلاق کے ساتھ سٹاف کے ساتھ پیش آئیں گے، سٹاف بھی اتنے ہی دل اور ایمانداری سے ان کے ساتھ کام کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو بلاوجہ ہم پر نکتہ چینی کرتے ہیں، جس سے سٹاف تھوڑا چڑ جاتا ہے۔

ریاض احمد نے بتایا کہ ان کے پاس 150 کے قریب مرد و خواتین نرسز اور پیرا مڈیکل سٹاف کی  ٹیم ہے۔ (تصویر: فاطمہ علی)


انہوں نے بتایا کہ 'جب ہم نرسز کو گھروں میں بھیجتے ہیں تو ہمیں دو چیزوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے، ایک سٹاف کی سکیورٹی دوسرا سٹاف کی طرف سے مریض کے گھر والوں کی سکیورٹی۔ ہم اس کے لیے فیملی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرواتے ہیں جس کے تحت دونوں فریقین پابند ہوجاتے ہیں۔'

ریاض کہتے ہیں کہ ہوم نرسنگ کی سہولت زیادہ تر وہی لوگ لے سکتے ہیں جن کے پاس پیسہ ہے جبکہ کچھ ایسی بھی فیملیز ہیں جو اپنے بزرگ مریضوں یا ضعیف والدین کے لیے ہوم نرسنگ کی سہولت صرف اپنی ذمہ داری کو گلے سے اتارنے کے لیے حاصل کرتے ہیں، جو کبھی کبھار ہمارے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ مگر دوسری طرف میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو اپنے بزرگوں کو سہولت دینے کے لیے ہمارے ساتھ خود بھی کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے لیے مریض کی زندگی کو آسان تر بنانا ہی واحد مقصد ہوتا ہے۔'

ریاض نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان میں ہوم نرسنگ سروس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ 'میری بڑی خواہش ہے کہ یہاں سرکاری سطح پر کوئی ایسا سسٹم بنایا جائے کہ لوگوں کے گھروں تک ہوم نرسنگ کیئر کی سہولت فراہم کی جائے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اسی لیے پھر میں نے ایک نجی ادارے کے ساتھ منسلک ہونا پسند کیا کیونکہ  میں لوگوں کی مدد کرنا چاہتا تھا۔'

ریاض کا کہنا ہے کہ کچھ نجی ہسپتال ہوم نرسنگ سروس دے رہے تھے مگر پھر اس میں بھی مسائل پیدا ہوگئے جیسے انہوں نے کچھ غیر تربیت یافتہ نرسیں بھرتی کیں، مریضوں کی شکایات آئیں تو انہیں یہ سروس بند کرنی پڑی۔ دوسری جانب  کچھ لوگ ایسے ہیں جو انفرادی طور پر لوگوں کو ایسی سہولیات مہیا کر رہے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی کمپنی بنائی ہوئی ہے، اگرچہ وہ خود تو سٹاف نرس ہیں مگر آگے انہوں نے غیر تربیت یافتہ سٹاف رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2013 تک لاہور کے اندر کوئی ایسا ادارہ نہیں تھا جو ہوم نرسنگ کی سہولت فراہم کر رہا ہو، لیکن اب لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں یہ ٹرینڈ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے مگر بدقسمتی سے ہم تو سرکاری  ہسپتالوں میں بھی نرسوں کی کمی پوری نہیں کر پا رہے تو ہوم نرسنگ تو بہت بعد کی بات ہے۔

رہاض کے مطابق پنجاب میں مرد نرسوں کے لیے کوئی ادارہ ہی نہیں تھا جہاں وہ نرسنگ کی تعلیم حاصل کر سکیں ، 1984 کے بعد پہلی مرتبہ 2020 میں مرد نرسوں کے لیے نرسنگ کی تعلیم کا آغاز کیا گیا ہے جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ نرسز کی کمی کچھ حد تک کم ہو جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت