عیدروس الزبیدی: ’بےتاج بادشاہ‘ سے ’سنگین غداری‘ کے الزام تک

الزبیدی پر عائد فردِ جرم طویل ہے۔ ان پر ’مسلح جتھوں کی تشکیل،‘ ’جمہوریہ کی سیاسی اور عسکری ساکھ کو نقصان پہنچانے‘ اور ’فوجی بغاوت کی قیادت‘ کرنے کے الزامات ہیں۔

برسوں تک جنوبی یمن کے ’مردِ آہن‘ کہلانے والے الزبیدی اب ’سنگین غداری‘ کے الزامات اور گرفتاری کے خوف سے روپوش ہیں، جبکہ ان کے اور سعودی عرب کے درمیان خلیج وسیع ہو چکی ہے۔

بدھ، سات جنوری 2026 کو یمن کے سیاسی منظر نامے میں اس وقت بھونچال آ گیا جب صدارتی لیڈرشپ کونسل (پی ایل سی) کے چیئرمین رشاد العلیمی نے ایک غیر معمولی فرمان جاری کیا۔ اس فرمان کے ذریعے الزبیدی کو نہ صرف کونسل کی نائب صدارت اور رکنیت سے برطرف کیا گیا بلکہ ان کا استثنیٰ ختم کرتے ہوئے ان پر ’سنگین غداری‘ کا مقدمہ چلانے کا حکم بھی صادر ہوا۔

الزامات اور فرار کا معمہ

الزبیدی پر عائد فردِ جرم طویل ہے۔ ان پر ’مسلح جتھوں کی تشکیل،‘ ’جمہوریہ کی سیاسی اور عسکری ساکھ کو نقصان پہنچانے‘ اور ’فوجی بغاوت کی قیادت‘ کرنے کے الزامات ہیں۔

اس سیاسی زلزلے کے ساتھ ہی سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ الزبیدی ریاض میں طلبی کے سمن کو نظر انداز کرتے ہوئے عدن سے ’کسی نامعلوم مقام‘ کی طرف فرار ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب ان کی جماعت ’جنوبی عبوری کونسل‘ (ایس ٹی سی) نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا ہے کہ ان کے رہنما عدن میں اپنے لوگوں کے درمیان ہی موجود ہیں اور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تنازع کی اصل وجہ کیا بنی؟

الزبیدی اور صدارتی کونسل کے درمیان دراڑیں گذشتہ ماہ اس وقت پڑنا شروع ہوئیں جب ایس ٹی سی نے حضرموت اور المہرہ کے صوبوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنی فورسز کو حکم دیا، حالانکہ یہ علاقے دیگر سرکاری حامی دھڑوں کے پاس تھے۔ سعودی عرب نے اس اقدام کی مذمت کی تھی۔

تاہم، فوری اشتعال کا باعث دو جنوری 2026 کو الزبیدی کا جاری کردہ وہ ’آئینی اعلامیہ‘ بنا جس میں انہوں نے جنوبی یمن کی آزادی کے ریفرینڈم کی راہ ہموار کرنے کے لیے دو سالہ عبوری مدت کا اعلان کیا۔ یہ اقدام بظاہر 1990 سے پہلے کی جنوبی ریاست کی بحالی کی طرف حتمی قدم تھا، جسے مرکزی حکومت نے ’غداری‘ سے تعبیر کیا۔

ایک باغی سے حکمران تک کا سفر

عیدروس الزبیدی کی زندگی جنوبی یمن کی ہنگامہ خیز تاریخ کا آئینہ دار ہے۔ وہ 1967 میں صوبہ الضالع کے علاقے زبید میں پیدا ہوئے۔ 1988 میں انہوں نے ایئر فورس اکیڈمی سے گریجویشن کی اور ایئر ڈیفنس اور سپیشل فورسز میں خدمات انجام دیں۔

جلاوطنی اور واپسی کے بعد جنوبی عبوری کونسل کا قیام

1994 کی خانہ جنگی میں جب شمالی یمن نے جنوبی علیحدگی پسندوں کو کچلا تو الزبیدی کو جبوتی میں جلاوطنی اختیار کرنی پڑی۔ 1996 میں وہ واپس آئے اور ’حق خود ارادیت کی تحریک‘ کی بنیاد رکھی۔ اس دوران انہیں سزائے موت بھی سنائی گئی جو بعد میں معاف کر دی گئی۔

2015 میں جب حوثی باغیوں نے پیش قدمی کی تو الزبیدی نے جنوبی مزاحمتی جنگجوؤں کی کمان سنبھالی اور عدن کو آزاد کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس بہادری کے صلے میں انہیں عدن کا گورنر بنایا گیا۔ 2016 میں گورنر رہتے ہوئے وہ داعش اور القاعدہ کی جانب سے کیے گئے کم از کم دو قاتلانہ حملوں میں بال بال بچے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2017 میں برطرفی کے بعد انہوں نے ’جنوبی عبوری کونسل‘ (ایس ٹی سی) بنائی اور یو اے ای کی حمایت سے ایک مضبوط نیم فوجی قوت تشکیل دی۔

اسرائیل سے تعلقات کا عندیہ

الزبیدی اپنے موقف میں ڈٹ جانے والے رہنما ہیں۔ انہوں نے نہ صرف دو ریاستی حل (شمالی اور جنوبی یمن) پر اصرار کیا بلکہ ستمبر 2025 میں یو اے ای کے اخبار ’دی نیشنل‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک متنازع بیان بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی جنوبی ریاست قائم ہوئی اور فلسطین کا مسئلہ حل ہو گیا تو وہ اسرائیل کے ساتھ ’معاہدہ ابراہیمی‘ کا حصہ بننے کے لیے تیار ہوں گے۔

حتمی ٹکراؤ

صورت حال اب سنگین رخ اختیار کر چکی ہے۔ اتحادی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے الضالع میں ایس ٹی سی کی فورسز کے خلاف ’محدود حفاظتی حملے‘ کیے ہیں۔ دوسری جانب ایس ٹی سی کا دعویٰ ہے کہ ریاض میں موجود ان کے مذاکراتی وفد سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور انہوں نے سعودی حکام سے وفد کی حفاظت کا مطالبہ کیا ہے۔

عدن کا یہ سابق حکمران، جس نے کبھی حوثیوں کے خلاف جنگ میں اتحادیوں کا ساتھ دیا تھا، اب اپنی ہی آزادی کی تحریک کی بھینٹ چڑھ کر ’غدار‘ کے لقب اور عسکری کارروائیوں کا سامنا کر رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا