یوم تکبیر اور محسنوں کے ساتھ سلوک

دھماکوں کے 22 سال بعد یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس فیصلے سے جو توقعات تھیں کیا وہ پوری ہوئیں یا نہیں۔ دھماکے کے حق میں سب سے بڑی دلیل اس خطے میں پائیدار امن کا قیام اور اسلحے کی دوڑ میں کمی کی دی جاتی رہی۔ 22 سال بعد بھی خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

لاہور میں ایک پتنگ پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تصویر کے ذریعے یاد رکھنے کی ایک کوشش (اے ایف پی)

عاقل ندیم کا کالم ان کی آواز میں سننے کے لیے آپ پلئیر کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔

ہم نے پچھلے ہفتے جوہری دھماکوں کی 22 ویں سالگرہ منائی۔ بجائے اس کے کہ اس قومی وقار اور طاقت کو بلند کرنے والے دن کو قومی یکجہتی اور اتحاد کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا اس روز قوم کو مزید تقسیم کیا گیا۔

حکومت کی اور کچھ اداروں کی کوشش رہی کہ کہ کسی نہ کسی طرح اس کا سہرا اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے سر نہ باندھا جائے اور گول مول طریقوں سے وزرا کے ذریعے دوسرے کرداروں کی زیادہ پذیرائی کی کوشش کی گئی۔

ایٹمی دھماکوں نے بظاہر ہمارے دفاع کو مضبوط کیا اور برصغیر میں جنگ کے امکانات کو ختم تو نہیں لیکن بہت حد تک کم ضرور کیا۔ یہ اس خطے میں قیام امن کے لیے ایک بہت بڑا قدم تھا اور اس سنگ میل کو حاصل کرنے والے تمام پاکستان کے محسن اور سبھی کو اچھے الفاظ سے یاد رکھنے کی ضرورت تھی۔ ان سب کو عزت کا مقام ملنا چاہیے تھا۔ لیکن آیئے دیکھتے ہیں کہ ان سارے محسنان پاکستان کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا۔

ویسے ہمیں اس سلوک پر کسی حیرانی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ تو ہمارا قومی خاصہ ہے۔ قائد اعظم کی موت ائرپورٹ سے آتے ہوئے راستے میں ایک ناکارہ ایمبولینس میں ہوئی۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ہمارے پہلے آمر مطلق کے دور میں غدار قرار دیا گیا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر کرنے اور اسے پہلی اسلامی ایٹمی قوت بنانے کے جرم میں شریک مجرموں کو سزائیں نہ دیتے۔

ایٹمی پروگرام شروع کرنے والے پہلے سویلین رہنما ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے گھاس کھا کر زندہ رہنے کو ترجیح دیتے ہوئے ایٹمی پروگرام کے لیے انسانی اور مالی وسائل کا انتظام کیا۔ انہیں انتہائی بیدردی سے عدالتوں کو استعمال کرتے ہوئے ہمارے دوسرے آمر مطلق کے ہاتھوں پھانسی گھاٹ کا راستہ دکھایا گیا۔

اس منصوبے کے سائنسی خالق اور روح رواں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ساری قوم کے سامنے ٹیلیویژن پر رسوا کر کے معافی منگوائی گئی۔ ان پر وہ الزام لگائے گئے جب کہ دوسرے کرداروں کے مبینہ جرائم سے چشم پوشی کی گئی۔ وہ پچھلے تقریبا 18 سال سے اپنے ہی ملک میں نظر بندی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ انہیں اس حال پر پہنچا دیا گیا ہے کہ وہ آج کل سپریم کورٹ کے دروازے پر اپنی آزادی کے لیے دستک دے رہے ہیں۔

نیوکلیائی دھماکے کے انتظامات کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو بھی اس بدقسمت قوم کے منصفوں نے نہیں بخشا اور ثاقب نثاری عدالت کے انہیں چکر دلوائے گئے اور ان کی عزت خاک میں ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ عدالتی آمر ثاقب نثار نے انہیں بھی احتساب بیورو کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔

یہ دردناک کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ جس سویلین رہنما وزیر اعظم نواز شریف نے، جن کے بہت سارے فیصلوں اور حکومت چلانے کے طریقوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، سخت بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اس دلیرانہ فیصلے کی سعادت حاصل کی، انہیں صرف 17 ماہ بعد ایک اور آمر مطلق نے اٹک قلعہ میں نظر بند کیا اور بعد میں ملک بدر کر دیا۔

محسن کشی کی روایت ابھی بھی زور و شور سے جاری ہے۔ ملک کو 5.8 فیصد کی ترقی کی شرح پر لانے والے اور سی پیک جیسے تاریخ ساز منصوبے کی ابتدا اور اندھیروں کا خاتمہ کرنے والے وزیراعظم کو ایک بوگس الزام پر نثاری عدالت سے نااہل قرار دلوایا گیا اور پھر ایک اور عدالت اور ایک اخلاق باختہ منصف کی ذریعے ان کو ان کی فحش فلمیں دکھا کر مطلوبہ سزا دلوائی گئی۔

ایٹمی دھماکے کے فیصلے کے وقت دو راستوں پر غور و خوص تھا۔ پہلا راستہ دھماکہ نہ کرنے کا تھا جس کا ملک کو کافی بڑا معاشی فائدہ ہوسکتا تھا۔ صدر کلنٹن نے نواز شریف کو دھماکہ نہ کرنے کی صورت میں پانچ بلین ڈالرز کی اقتصادی امداد دینے کا وعدہ کیا۔ یہ بہت خطیر رقم تھی اور اس سے ملک کے کئی معاشی مسائل حل ہوسکتے تھے۔ دوسرا راستہ ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانا تھا اور اس وقت کی سویلین قیادت نے یہ راستہ چنا۔

سابق آرمی چیف چیف آصف نواز جنجوعہ مرحوم کے بھائی شجاع نواز نے اپنی کتاب Crossed Swords کے صفحہ نمبر 492 اور 493 میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’بھارتی دھماکوں کے وقت وزیراعظم نواز شریف ECO کی کانفرنس میں شرکت کے لیے لیے آلماتی میں تھے اور فورا دھماکوں کا جواب دینا چاہتے تھے لیکن میں نے انتظار کا مشورہ دیا اور کہا کہ ہم سارے مضمرات کا مکمل جائزہ لے لیں اور باقی لوگوں اور اداروں سے مشاورت کر لیں۔‘ اس انکشاف سے سابق وزیر اعظم کے خلاف کچھ سیاستدانوں اور اداروں کی جانب سے اس منفی پروپیگینڈا کی قلعی بھی اتر جاتی ہے کہ وہ دھماکوں کے خلاف تھے۔

دھماکوں کے 22 سال بعد یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس فیصلے سے جو توقعات تھیں وہ پوری ہوئیں یا نہیں۔ دھماکے کے حق میں سب سے بڑی دلیل اس خطے میں پائیدار امن کا قیام اور اسلحے کی دوڑ میں کمی کی دی جاتی رہی۔ بائیس سال بعد اس اسلحے کی دوڑ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور نہ ہی خطے میں پائیدار امن ہے بلکہ اس وقت خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

دھماکوں کے اگلے سال ہی کارگل کا واقعہ ہوا جس نے دونوں ملکوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کر دیا تھا اور صرف امریکی مداخلت سے اس خوفناک تنازع کا اختتام ہوا ورنہ یہ ایک بہت بڑی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا تھا۔

اسلحے کے اخراجات میں کمی کی بجائے نمایاں اضافہ ہوگیا ہے اور ’کولڈ سٹارٹ‘ جیسے نظریات اور ٹیکٹیکل ایٹمی میزائل کی ایک نئی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔ اس لیے ایسا لگتا ہے کہ ان دھماکوں نے ہمیں ایٹمی قوت تو بنا دیا لیکن نہ تو ہمیں پائیدار امن دیا اور نہ ہی ’امن منافع‘ حاصل ہوا جس سے دونوں ملکوں کے عوام کے لیے سماجی سہولتوں میں اضافہ ہو سکتا تھا۔

ایک اور دلیل یہ بھی تھی کہ دھماکے ہمیں بھارت کے ساتھ دفاعی میدان میں برابری کی سطح پر لے آئیں گے اور اس طرح ہم موثر طریقے سے بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بند باندھ سکیں گے۔ بھارت کے موجودہ توسیع پسندانہ ارادے اور کشمیر کی حیثیت بدلنے کے اقدامات نے اس دلیل کو بھی غیر مؤثر کر دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دھماکوں کی حمایت میں یہ بھی کہا گیا کہ اس سے دنیا میں ہمارے وقار میں اضافہ ہوگا۔ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود آج دنیا میں ہماری بات سننے کو کوئی بھی تیار نہیں ہے۔ FATAF بھارت کے اشاروں پر کام کر رہی ہے اور اس معاملے میں چین جیسے دوست ممالک بھی ہمارا ساتھ دینے کو تیار نظر نہیں آتے۔ ہمارے اپنے مسلمان دوست ممالک ہمارے مقابلے میں بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ایک اور کمزور دلیل یہ بھی دی جاتی رہی کہ جوہری طاقت بڑھانے سے ہمیں سستی بجلی مل پائے گی۔ ہماری کل بجلی کی پیداواری صلاحیت 29 ہزار میگاواٹ ہے اس میں صرف 355 میگاواٹ یعنی صرف 4.5 فیصد ایٹمی ذرائع سے پیدا کی جا رہی ہے۔

چین کے تعاون سے کراچی میں ایک اور ایٹمی بجلی گھر کا نومبر2013 میں افتتاح کیا گیا تھا اس کے پہلے مرحلے کے اختتام پر صرف 1161 میگاواٹ کا اضافہ ہوگا۔ 22 برس کے بعد بھی صرف 4.5 فیصد بجلی پیدا کرنا ثابت کرتا ہے کہ بجلی پیدا کرنا کوئی بہت وزنی دلیل نہیں تھی۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایٹمی طاقت ہونے کے کچھ فوائد ہیں اور شاید ہمارے خطے میں ہماری سلامتی کے لیے یہ قوت ضروری بھی ہوگی۔ لیکن تنہا یہ قوت ہماری مجموعی قومی طاقت اور ترقی کے لیے کافی نہیں ہے اور نہ ہی یہ ہماری قومی طاقت کا متبادل ہے۔ اس کے لیے کئی دیگر شعبوں میں بھی ہمیں ترقی اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

ہمیں اپنی قومی طاقت بڑھانے میں ناکامیوں کو اپنی ایٹمی طاقت ہونے میں نہیں چھپانا چاہیے اور دفاعی اخراجات پر غیر متناسب خرچ کرنے کی بجائے اس میں معقولیت کا عنصر لاتے ہوئے دوسرے ضروری شعبوں میں مناسب سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

ہماری قومی طاقت ہماری معاشی اور انسانی ترقی میں پوشیدہ ہے اور ایک ایٹمی طاقت کے لیے ان شعبوں کو نظرانداز کرنا اس کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ