حج کب کب منسوخ یا متاثر ہوتا رہا ہے؟

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حج کو محدود کر دیا گیا ہو۔ تاریخ میں درجنوں ایسے واقعات کا ذکر ہے جب حج یا تو مکمل طور پر معطل کرنا پڑا یا بری طرح متاثر ہوا۔

19ویں صدی میں کعبے کا ایک منظر (پبلک ڈومین)

بالآخر سعودی عرب کی جانب سے وہ اعلان آ ہی گیا جس کا مسلمان ملکوں میں حج کا انتظار کرنے والے لاکھوں حاجیوں کو خدشہ تھا۔ سعودی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2020 کا حج صرف ملک میں مقیم افراد ہی ادا کر سکیں گے اور بیرونِ ملک کسی سے کسی کو یہ فریضہ ادا کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ 

یہ اعلان  ایک لحاظ سے متوقع بھی تھا، کیوں کہ اس وقت دنیا کے حالات اس قابل نہیں کہ حج جیسا فریضہ ادا کیا جا سکے جہاں دنیا کے ہر خطے سے دسیوں لاکھ لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔

امتِ مسلمہ کے لیے یہ واقعہ کتنا ہی  افسوس ناک کیوں نہ ہو، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ حج نہ ہو سکا ہو یا اسے محدود نہ کر دیا گیا ہو۔ سعودی عرب کے ملک عبدالعزیز سینٹر کے مطابق اب تک تاریخ میں 40 ایسے مواقع آئے ہیں جب حج متاثر ہوا ہے۔ اس کی وجوہات میں وباؤں کے علاوہ جنگیں اور علاقائی عدم استحکام شامل ہیں۔

ہم نے تاریخ کے ورق چھان کر کچھ ایسے واقعات ڈھونڈ نکالے ہیں جب حج کا فریضہ تعطل کا شکار ہوا ہے۔

حجرِ اسود کی چوری

سب سے پہلا اور سب سے بڑا واقعہ 930 میں پیش آیا جب قرامطیوں نے نہ صرف حج زبردستی روک دیا بلکہ بڑی تعداد میں حاجیوں کو قتل کیا اور حجرِ اسود کو اکھاڑ کر اپنے ملک لے گئے۔

اس واقعے کی تفصیل سلطنتِ عثمانیہ کے تاریخ دان قطب الدین نے بیان کی ہے جس کا خلاصہ یہاں پیش کیا جاتاہے۔

قرامطی ایک فرقہ تھا جس کے عقائد مرکزی اسلام کے دائرے سے بہت ہٹے ہوئے تھے۔ اس فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک جنگی سردار ابو طاہر الجنابی نے  بحرین کے شہر ہجر (موجودہ نام قطیف) میں ایک عمارت بنوائی اور اس کا نام دارالہجرہ رکھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ مکہ جا کر خانۂ کعبہ کا حج ترک کر دیں اور اس کی بجائے اس کے دارالہجرہ میں آیا کریں۔

اس مقصد کے لیے اس نے 930 میں اپنی فوج کے ساتھ مکہ کا رخ کیا اور حج کے پہلے روز اپنےمسلح سپاہیوں سمیت گھوڑے پر سوار ہو کر حرم میں داخل ہو گیا اور سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ طواف کرتے ہوئے حاجیوں کو تلوار کے گھاٹ اتارتے جائیں۔

اس کی فوج نے حاجیوں کی لاشوں سے آبِ زم زم کا کنواں پاٹ دیا۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس قتلِ عام میں 30 ہزار کے قریب حاجی مارے گئے۔

قطب الدین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ابوطاہر اس وقت نشے میں دھت تھا اور اس نے اسی حالت میں کعبے کا دروازہ اکھاڑ ڈالا اور چیخا، ’بخدا یہ میں ہوں۔ خدا پیدا کرتا ہے اور میں مارتا ہوں۔‘

ابو طاہر نے حاجیوں کا مال اسباب لوٹ لیا اور ان کی عورتوں کو بچوں کو اپنے سپاہیوں میں تقسیم کر دیا۔

اب اسے مقامِ ابراہیم کی تلاش تھی لیکن کعبہ کے متولیوں نے اسی افراتفری کے دوران اسے چھپا دیا تھا اس لیے وہ اسے نہیں ملا۔

مشہور مفسر اور مورخ ابنِ کثیر کی مشہور تاریخ کی جلد 11 میں اس کے بعد کے واقعے کا ذکر کرتے ہیں: ’پھر اس نے حجرِ اسود کو اکھاڑنے کا حکم دیا۔ اس وقت ایک شخص نے آ کر اپنے ہاتھ کی ایک بھاری چیز سے اس پر ضرب لگائی، اور کہا، ’کہاں ہے وہ طیرا ابابیل؟ اور کہاں ہے وہ حجارۃ من سجیل؟‘

ابو طاہر حجرِ اسود کو اونٹ پر لدوا کر اپنے شہر کی طرف چل پڑا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں: ’جب قرمطی اس حجرِ اسود کو لے کر اپنے شہر کو روانہ ہوا تو اس وقت امیر مکہ اور اس کے اہلِ بیت سب اس کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے اور اس سے درخواست کی، سفارشیں پہنچائیں کہ وہ حجرِ اسود واپس کر دے تا کہ اپنی جگہ پر اسے رکھ دیا جائِ، اور اس کے عوض اپنی ساری جائیداد دینے کی پیش کش کی، مگر اس نے ایک نہ سنی ۔۔۔ اور سب کو ہلاک کر ڈالا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ابو طاہر  حجرِ اسود کو اپنے ساتھ بحرین لے گیا اور اسے اپنی تعمیر کردہ عمارت میں رکھوا دیا۔ حجرِ اسود 22 سال تک اس کی تحویل میں رہا ۔ تاہم ابوطاہر کی یہ امید کہ اب لوگ اس کے شہر آ کر حج کیا کریں گے، پوری نہیں ہوئی۔ لوگ اب بھی خانۂ کعبہ جاتے رہے اور حجرِ اسود کی خالی جگہ کو چومتے رہے۔

آخر جب ابوطاہر چیچک کا شکار ہو کر 38 برس کی عمر میں مر گیا تو اس  کا  جانشین سنبر ابن الحسن قرامطی 20 مئی 951 کو حجر الاسود لے کر مکہ لے کر آیا۔ اس موقعے پر مکہ کے حکمران جعفر محمد ابن عبدالعزیز بھی موجود تھے جنہوں نے دیکھا کہ حجرِ اسود کو چاندی کی تاروں سے باندھا ہوا ہے کیوں کہ اس دوران اس میں پانچ دراڑیں پڑ گئی تھیں۔  حسن ابن المرزوق نامی معمار نے یہ پتھر اپنی جگہ پر نصب کیا۔ سنبر نے اس موقعے پر کہا، ’ہم اسے خدا کی طاقت سے لے گئے تھے اور اسی کی مرضی سے واپس کر رہے ہیں۔ وہ اسے اپنے حکم سے لے گیا تھا اور اپنے حکم ہی سے واپس کر دیا۔‘

دوسری کتابوں میں آتا ہے کہ اس وقت کے عباسی خلیفہ المقتدر نے قرامطیوں کو حجرِ اسود واپس کرنے کے لیے 50 ہزار درہم کی پیشکش کی تھی مگر انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔  حجرِ اسود کی غیر موجودگی کے 21 برسوں کے دوران حج بڑی حد تک معطل رہا کیوں کہ قرامطی حاجیوں کے قافلوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔

مشہور و معروف مورخ ابنِ خلدون نے بھی اپنی تاریخ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ وہ اس کتاب کی جلد چہارم میں لکھتے ہیں  کہ قرامطیوں نے ’خانۂ کعبہ کا دروازہ توڑ ڈالا۔ ایک شخص میزاب اتارنے کے لیے خانۂ کعبہ پر چڑھا، گر کر مر گیا۔ مقتولین کچھ تو چاہِ زم زم میں پھینک دیے گئے باقی ماندگان کو مسجدِ حرام میں جو جہاں مارا گیا اسی مقام پر بلا غسل وہ نماز جنازہ اور کفن دفن کر دیا۔ غلافِ کعبہ کو اپنے ہمراہیوں میں تقسیم کر دیا اور اہلِ مکہ کے مکانات کو لوٹ لیا۔‘

البتہ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب حج کے موقعے پر کسی منحرف فرقے نے حملہ کیا ہو۔  شاہ عبدالعزیز مرکز کے مطابق اس سے پہلے 865 میں اسمٰعیل ابن یوسف علاوی نے عین حج کے دوران حملہ کر کے سینکڑوں حاجیوں کو قتل کر دیا تھا، جس کی وجہ سے حج رک گیا تھا۔ اس واقعے کو ’بالائی عرفات کا قتلِ عام‘ کہا جاتا ہے۔

حالیہ حج کرونا کی وبا کے باعث منسوخ ہوا ہے، لیکن اس سے پہلے بھی وبائیں حج پر اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔ ملک عبدالعزیز سینٹر کے مطابق 967 میں حجاز کے علاقے میں طاعون پھیل گیا  تھا جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر لوگ ہلاک ہونے لگے، جس کی وجہ سے حج منسوخ کر دیا گیا تھا۔  

اس کے بعد  بھی کئی ایسے واقعات ایسے پیش آتے رہے ہیں جن کی وجہ سے حج نہیں ہو سکا، یا ہوا بھی تو بہت محدود پیمانے پر۔  

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ