شادی مرگ سے مرگ امید تک

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک مزاحمتی استعارہ بن گئے ہیں جن کو دو نمبری سے فارغ کرنا آسان نہیں۔ وکیل، بہت سے جج، عوامی رائے کا بڑا حصہ اور سب سے اہم کہ تاریخ ان کے ساتھ ہے۔

(انڈپینڈنٹ اردو)

شاید ہی کبھی ایسے شادی مرگ مرگ امید میں بدلی ہو جیسے  پچھلے ہفتے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کیس کے فیصلے کے بعد ہوا۔

فیصلے کی ابتدائی خبر تو یہی تھی کہ جج صاحبان نے ایک ناکارہ اور بادی النظر میں بدنیتی پر مبنی ریفرنس کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر اپنے برادر جج کو سازش کے طوق سے آزاد کرا دیا ہے۔ اس خبر کی تصدیق سپریم کورٹ کے باہر وکلا کی خوشی سے بھرپور پریس کانفرنس سے بھی ہوئی۔

جب سپریم کورٹ بار کے صدر اور حامد خان جیسے مستند قانون دان اس کو ایک تاریخی فتح قرار دے رہے تھے اور جسٹس قاضی کے مرکزی وکیل منیر اے ملک ریفرنس کے خاتمے کو اپنے موقف کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کر رہے تھے تو ظاہر ہے کہ خبر مسرت کے جذبات سے ہی تحریر ہونی تھی۔

میں نے بھی اس دوران ان معلومات کے پیش نظر اپنے یو ٹیوب چینل پر ایک تحسین سے پُر تجزیہ کیا اور اس فیصلے کو تاریخی اور جمہوریت پرور قرار دیا، لیکن پھر مختصر فیصلے کا متن پڑھنے کو ملا۔ پہلے پیرائے کے بعد دل کو ملنے والی تسلی بھک سے اڑ گئی۔ ہر سطر کے اندر عجیب تضادات اور غیرمعمولی ہدایات سامنے آ رہی تھیں۔

ایک طرف حکومت کے سپریم جوڈیشل کونسل کے ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تو ساتھ ہی سات ججوں نے مل کر جسٹس قاضی کی اہلیہ اور بچوں کے اثاثوں کی چھان بین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حوالے کر دی۔ اس کے ساتھ پچھلی تمام ٹیکس سے متعلق کارروائیاں ساکت کر کے ایف بی آر کو پابند کر دیا کہ وہ دو ماہ میں اپنی تحقیق کے نتائج سپریم جوڈیشل کونسل کو پیش کر دے۔

جج صاحب کے خاندان کو ہر صورت تعاون کی شرط سے باندھ دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ اگر کوئی گڑبڑ نکلی تو سپریم جوڈیشل کونسل کیا کرے گی اور اگر نہ نکلی تو بھی یہی کونسل معاملے کا جائزہ لے گی۔ ذہن ماؤف ہو گیا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ جسٹس فائزعیسیٰ کے خلاف ریفرنس خارج ہوا یا ایک نیا داخل کرنے کا اہتمام  کیا گیا ہے؟

جسٹس فائز عیسیٰ کے خود کفیل اور خودمختار بچوں کے ٹیکس گوشوارے جو ایف بی آر کے پاس پہلے سے موجود ہیں اب سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس کیوں جائیں گے؟ یہ فورم تو صرف ججوں کے احتساب اور ان سے متعلق شکایات سننے کا ہے۔ کیا جسٹس قاضی کا احتساب بذریعہ بیگم اور بچوں کے ہوگا؟

ایسا تو پنجاب کے تھانوں میں ہوتا ہے۔ کسی کو دھرنے کے لیے سب سے پہلے اس کے خاندان پر دھاوا بول کر گھر والے دھر لیے جاتے ہیں۔ ویسے بھی اگر جج صاحبان نے ایف بی آر سے ریکارڈ طلب کرنا تھا تو ایک لمحے میں فائل منگوا کر دیکھ لیتے۔ ویسے کوئی ایسی مثال ہے کہ عام خود کفیل شہریوں کے ٹیکس گوشوارے اعلیٰ ترین عدالتی فورم بھجوانے کے لیے باقاعدہ احکامات جاری ہوں؟ نئی تحقیقات کی شرط کے ساتھ؟

تو کیا جسٹس فائز عیسیٰ اپنے برادر ججوں کے سامنے اپنی بیگم کے معاشی معاملات کے جوابدہ ہیں؟ ان سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ فیصلے کے دو گھنٹے بعد میں نے اپنے بلاگ میں یہ سب تضادات، غیرمعمولی ہدایات اور جاری کردہ عدالتی فیصلے کے متن میں چھپی ہوئی بھیانک حقیقت کو لکھ دیا۔

ابھی تک یہ امید باقی تھی کہ شاید جج صاحبان نے اس معاملے کو بردباری سے اختتام پزیر کرنے کے لیے ایف بی آر کی طرف رجوع کیا ہے اگرچہ جس جوش و خروش سے ابتدائی خبر کو خوش آمدید کیا تھا اب نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔

اصل دھچکہ اس وقت لگا جب بابر ستار نے، جو جسٹس فائز عیسیٰ کے قانونی ہراول دستے کے رکن تھے، اپنے ٹویٹس کے ذریعے بغیر لگی لپٹی اس فیصلے کا پوسٹ مارٹم کر دیا۔ پوسٹ مارٹم کیا تھا موت کا سرٹیفکیٹ تھا لہٰذا پوسٹ ماتم کہنا مناسب ہوگا۔

بابر ستار کے مطابق ایف بی آر کو پانچ سال کے پرانے ریکارڈ کی تحقیق کی خاص سہولت صرف اس عدالتی فیصلے کے ذریعے ہی دی گئی ہے اس کے علاوہ قانون میں اس کی گنجائش نہیں۔ ان کے مطابق حکومتی ادارے ایف بی آر کے ذریعے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف عملاً ایک نئی درخواست دائر ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں وہ تقریباً 75 دن کے بعد پھر اسی سپریم جوڈیشنل کونسل کے سامنے کھڑے ہوں گے جہاں سے حکومتی ریفرنس خارج ہوا ہے۔

بابر ستارکے مطابق ایف بی آر کو صرف اتنا ہی کرنا ہے کہ یہ مقدمہ بنائے کہ جسٹس فائز عیسی نے 100 پاؤنڈ اپنی اہلیہ کو تحفے میں دیئے تھے جو انہوں نے اپنے اثاثوں میں نہیں بتائے اور بس۔ اسی پر ان کو گھسیٹ گھساٹ کر فارغ کر دیا جائے گا۔

بابر ستار اس پر بھی حیران ہیں کہ ایف بی آر کی تحقیق شروع ہونے سے پہلے ہی سپریم جوڈیشل کونسل کو متحرک ہونے کا کہا گیا ہے۔ یہ کون جانتا ہے کہ ایف بی آر کی تحقیق کا کیا نتیجہ نکلے گا۔

بنیادی معاملہ یہ ہے کہ کسی میں ریاست اور حکومتی جبر کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات پیدا نہیں ہونے دینی۔ کون سی عدلیہ کی آزادی؟ کون سی خود مختاری؟ اس کے ساتھ ہی بابر ستار نے جسٹس فائز عیسیٰ کی قانونی نمائندگی کی ٹیم سے اپنی بیرون ملک مصروفیات کی وجہ سے علیحدہ ہونے کی اطلاع بھی دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یقیناً یہ غیرمعمولی طور پر تلخ حقائق پر مبنی تجزیہ ہے۔ ہمیں اس سے مکمل طور پر اتفاق نہ بھی ہو تو بھی اس کی باوزن منطق سے روگردانی ممکن نہیں۔ جج صاحبان چاہتے تو وہ قضیہ پاک کر سکتے تھے۔ ان کے سامنے قاضی فائز عیسیٰ کا ماضی بھی تھا اور موجودہ نظام کا حال بھی۔

انہوں نے انفرادی طور پر ان تمام کرداروں اور محرکات کو جانچا ہوا تھا جنہوں نے اس تنازعے کو کھڑا کیا اور جج صاحب کے گرد یہ جال بنا لیکن اس کے باوجود انہوں نے تاریخ بدلنا گوارا نہیں کیا اور ایک نئے روگ کی بنیاد رکھ دی۔

اب فقیہان حرم دست صنم چومیں گے

سر و قد مٹی کے بونوں کے قدم چومیں گے

فرش پر آج ہر اک صدق و صفا بندا ہو ا

عرش پہ آج ہر اک باب دعا بند ہوا

مگر کیا سب کچھ اتنا ہی خراب ہوا جیسا کہ سمجھا جا رہا ہے؟ شاید نہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے ایک ایسے ریفرنس کو مات دی ہے جس کو کامیاب کروانے پر مہینوں سے دن رات ایک کیے جا رہے تھے۔ ان کی قانونی ٹیم نے اس تمام وقت میں اپنے موکل کا قد اونچا کیا جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے، یہ جانتے ہوئے کہ ایسے مقدمات میں عمومی طور پر مقدمہ بھی ہاتھ سے جاتا ہے اور عزت بھی۔

اور پھر سب سے اہم، جسٹس قاضی ایک مزاحمتی استعارہ بن گئے ہیں جن کو دو نمبری سے فارغ کرنا آسان نہیں۔ وکیل، بہت سے جج، عوامی رائے کا بڑا حصہ اور سب سے اہم کہ تاریخ ان کے ساتھ ہے۔ ایف بی آر کی آڑ لے کر ایک اور داؤ کی کوشش ایک فضول اور مہنگی کوشش ہو گی۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ