'کون سی غیرت؟ قتل کرو گے تو بات اچھل کر اخبار تک جائے گی'

خیبر پختونخوا میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران غیرت کے نام پر قتل کی دو وارداتیں ہوئیں۔ انڈپینڈنٹ اردو نے اس معاملے کی بنیادی وجہ جاننے کے لیے مختلف سماجی طبقات کے نمائندوں سے بات کی۔

سول سوسائٹی کے ارکان اسلام آباد میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں (روئٹرز)

جب گھر والے نہ مانے تودونوں نے سب کی مرضی کے بغیر نکاح کر لیا۔ یہ جانتے ہوئےبھی  کہ اس کا انجام کس قدر خوف ناک ہو سکتاہے۔ اورآخر کار وہی ہوا۔ شادی کے صرف چند دن بعد دونوں کا قتل ہوا اور لاشیں کھیتوں میں پھینک دی گئیں۔

صوابی چھوٹا لاہور میں پچھلے ہفتے پیش آنے والے اس واقعے کی تفصیلات کے مطابق، مہمند قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنی نواسی اور ان کے شوہر کے قتل کی اطلاع پولیس کو دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں نے کچھ دن قبل پسند کی شادی کی تھی۔

مقامی پولیس سٹیشن نے لڑکی کے بھائی کےخلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ایک ہی ہفتے میں غیرت کے نام پر قتل کا دوسرا واقعہ ضلع سوات کےکبل  میں بھی پیش آیا، جس کا الزام مقتولہ کے سسر نے ان کے سابق شوہر پر لگایا ہے۔

 تفصیلات کے مطابق کبل کی رہائشی آسیہ بی بی نے کچھ عرصہ قبل اپنے شوہر سے طلاق لے کر پسند کی دوسری شادی کر لی تھی،جس کے بعد  دونوں میاں بیوی سوات چھوڑ کر کراچی منتقل ہوگئے۔  پچھلے ہفتے وہ سوات  آکر کسی کام کے غرض سے پشاور جارہے تھے کہ راستے میں پہلےسے  گھات لگائے قاتلوں نے  نئے شادی شدہ جوڑے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

عورت فاؤنڈیشن کے مطابق خیبر پختونخوا میں 2019 میں خواتین کے خلاف تشدد کےکُل 254  واقعات پیش آئے ،جن میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی شرح نوفی صد رہی۔  غیر سرکاری تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی یہ شرح 2009 میں دو فی صد تھی،  جس میں بتدریج اضافہ ہوتے  ہوئے 2016 میں یہ شرح پہلی مرتبہ نو فی صد تک پہنچ گئی۔

عورت فاؤندیشن کی صائمہ منیر نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ درحقیقت  شماریات میں اضافہ یا کمی ایسے واقعات کی رپورٹنگ یعنی  اطلاع دینے  پر منحصر ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا ان کے پاس صرف وہ تعداد ہے جو تھانوں اور اخباروں میں رپورٹ ہوتے ہیں۔

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون اگرچہ دسمبر 2004 میں نافذ ہوا تھاتاہم اس میں گنجائش باقی رہ جانے کی وجہ سے یہ قانون التوا کا شکار رہا، جس پر  انسانی حقوق اور حقوق نسواں کے اداروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس قانون کو ناقابل راضی نامہ قرار دیا جائے تاکہ ملزم سزا سے نہ بچ پائے۔

2016 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اس قانون کو متفقہ طور پر سینیٹ اور پارلیمنٹ سے پاس کروایا، جس کے بعد اب یہ جج کی صوابدید ہے کہ وہ فریقین کو راضی نامے کا حق دے یا ملزم کو عمر قید یا سزائے موت سنائے۔

صائمہ منیر نے بتایا کہ وہ اب بھی سمجھتی ہیں کہ یہ قانون مکمل طور پر نان- کمپاؤنڈیبل یعنی ٰناقابل راضی نامہ نہیں کیونکہ جج کی صوابدید سے دونوں خاندانوں کو راضی نامہ ملنے کی گنجائش ہے۔

اس بحث کو پشاور ہائی کورٹ کے وکیل مطیع اللہ مروت آگے لے جاتے ہوئے کہتے ہیں کہ دراصل جج کے صوابدید کا مطلب ہی یہی ہے کہ یہ ایک ناقابل راضی نامہ قانون ہے۔  ’اس قانون کے تحت اختیار دو خاندانوں سے لے کر جج کے پاس آگیا ہے لہٰذا راضی نامہ جج کے فیصلے کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے اس قانون میں جتنی اصلاحات کی ضرورت تھی وہ لائی جا چکی ہیں۔ ‘

وکالت کے طالب علم محمد عمران نے کہا کہ راضی نامہ ایک بنیادی انسانی حق اور ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اساسی اور شرعی قانون میں راضی نامہ اور دیت کو کسی صورت خارج نہیں کیا جا سکتا۔

غیرت کے نام پر قتل کے موضوع پر بحث مباحثے

غیرت کے نام پر قتل کے واقعات یوں تو پوری دنیا میں جنم لیتے ہیں تاہم حقوق انسانی  کے حامی بعض مصنفین کا خیال ہے کہ جن معاشروں میں پدرسرانہ نظام کو زیادہ ترجیح حاصل ہے اور جہاں رسم ورواج اور قبائلیت کا راج ہے وہاں پر اس قسم کے واقعات زیادہ جنم لیتے ہیں۔

2016 میں پشاور کے ایک مشہور ومعروف  تعلیمی ادارے میں ایک سیمینارمیں غیرت کے نام پر قتل کے موضوع پر بحث چڑھ گئی، تو اگلی صبح حقوق انسانی کے حامی یہ خبر میڈیا پر سن کر ششدر رہ گئے کہ سیمینار میں موجود  طلبہ کی اکثریت نے غیرت کےنام پر قتل کو ایک جائز فعل قرار دیا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ  سارا سیٹھی سمجھتی ہیں کہ نوجوان ذہنیت روزانہ سیکھنے کے عمل سے گزرتی ہے۔سیٹھی کہتی ہیں کہ والدین کو بھی سمجھنا چاہیے کہ بالغ اولاد کو  اپنے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے۔

’ہمارے والدین خود کو اولاد کی زندگی کا مالک سمجھتے ہیں اور اسی لیے وہ خود کو اولاد کے فعل کے لیے بھی جواب دہ سمجھتے  ہیں بلکہ اکثر تو چاچا، ماما اور تایا بھی یہ حق حاصل کر لیتے ہیں اور یوں وہ بھی ایک لڑکی کی زندگی کے فیصلوں کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔یہاں تک کہ قتل بھی کر دیتے ہیں۔ ‘

سارا سیٹھی پسند کی شادی کے حوالے سے اپنا  واقعہ بتاتی ہیں کہ ایک مرتبہ انہیں اپنی والدہ کے ساتھ ٹی وی پر ایسا ڈرامہ  دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں لڑکی کو پسند کی شادی کا حق نہ ملنے کی وجہ سے عین شادی کے دن گھر سے بھاگنا پڑا۔

سارا کہتی ہیں کہ ان کی والدہ کی تمام ہمدردیاں والدین کے ساتھ تھیں اور اس ڈرامے کا یوں اثر لیا کہ وہ ساراسے پوچھنے لگی کہ کبھی ان کی بیٹیاں تو اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کریں گی۔ جواب میں سارا نے بتایا ، ’نہیں امی ہم ایسا ہر گز نہیں کریں گے ۔اگر بابا اور آپ ہمارے ساتھ اس لڑکی کے والدین جیسا سلوک نہیں کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ضلع باجوڑ کے اختر گل کہتے ہیں کہ قبائلی اضلاع میں بہت سی خواتین کو صرف اس وجہ سے قتل کیا جاتا رہاہے کہ انہوں نے یا تو گھر میں پسندکی شادی کا اظہار کیا یا پھر وہ  کسی نامحرم کے ساتھ بات کرتے ہوئے پکڑی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ غیرت کے نام پر قتل کے خلاف ہیں کیونکہ اس میں بہت سی ناحق جانیں گئیں۔

اکرام اللہ کتابیں بیچنے کا کام کرتے ہیں۔ پسند کی شادی کے موضوع پر انہوں نےکہا کہ یہ بہت عجیب بات ہے کہ شریعت اور قانون نے تو عورت کو اس کا حق دیا لیکن بعض مرد خود کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں۔

خیبر ایجنسی کی مرجانہ شینواری نے کہا کہ خیبر میں ایسے کئی واقعات ہوئے جن میں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا  لیکن وہ کیسز رپورٹ نہیں ہوئے کیونکہ خاندان والے عزت بچانے کی خاطر خاموش ہو جاتے ہیں اور علاقے کے لوگ ایسے حساس معاملے میں بولتے نہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایف سی آر (فرنٹئیر کرائمز ریگولیشنز) کے کالے قانون میں تو اس جرم کی کوئی سزا ہی نہیں تھی کیونکہ جرگے کے مشران بھی یہی سمجھتے تھے کہ اگر غیرت کے نام پر قتل کیا ،  تو یہ جائز تھا۔ مرجانہ نے بتایا کہ اس وجہ سے بہت سی خواتین پر بے جا الزام لگا کر قتل کیا جاتا رہا ہے۔

مسئلہ کہاں ہے؟

سماجی کارکن صائمہ منیر کہتی ہیں کہ  ہمارے معاشرے میں مرد کبھی مذہب تو کبھی قومیت کا لبادہ اوڑھتے نظر آتے ہیں۔ ’لیکن میں سمجھتی ہوں کہ یہ مردوں کا قصور بھی نہیں، پورا معاشرہ ان کو یہی سکھا رہا ہے۔اب  جہاں اسلام ان کو وراثت میں حصہ دینےکی بات کرتا ہے تو یہ رسم وراج کی بات کرتے ہیں اور جب ایک خاتون موبیلیٹی کا حق استعمال کرنا چاہے تو ان کو اسلام یاد آجاتا ہے۔‘

صائمہ منیر کہتی ہیں کہ جب تک یہ کنفیوژن ختم نہیں ہوگی ، خواتین کے خلاف تشدد کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رویے بدلنےکے لیے بہت بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

پسند کی شادی کے حوالے سے انہوں نے کہا،’کسی بھی لڑکی کے لیے گھر چھوڑ کر اپنی مرضی کی شادی کرنا سب سے آخری آپشن ہوتا ہے۔ والدین ایسی نوبت آنے ہی کیوں دیتے ہیں! اگر والدین کو اتنا ہی معاشرے کا خوف ستاتا ہے تو بہتر ہے کہ پہلے ہی عزت و حیا میں وہ کام کر گزریں جس کا بعد میں سب کو پتہ چلے گا۔

'اگر قتل کروگے، تو بات اچھل کر اخباروں تک بھی جائے گی۔ پہلے گھر والوں کو پتہ ہوگا پھر پورے پاکستان کو پتہ چلے گا۔ تو پھر کون سی غیرت بچا رہے ہیں آپ؟‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین