بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی

ایک کام کریں، اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، کوئی نہ کوئی ضرور مل جائے گا جو کچھ کہنا چاہتا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں۔ تھوڑا وقت نکال کر اس کی بات سن لیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس وقت دنیا میں ساڑھے 26 کروڑ لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں۔(تصویر: پکسا بے)

سعدیہ کلاس کے بعد فوراَ میرے پاس آئی اور کہا کہ میڈم آپ سے بات کرنی ہے۔ تھوڑی دیر بیٹھی اور پھر گھر میں ہونے والی باتوں کا ذکر کرتے ہوئے رونے لگی، ’مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں ڈپریشن کا شکار ہوں اور خود اذیتی کی جانب مائل ہوں۔ ‘

طاہر بھی اسی طرح ایک دن آکر چپ چاپ بیٹھ گیا، ’میڈم مجھے کئی راتوں سے نیند نہیں آ رہی، ذہن پر ہر وقت کوئی بوجھ سا محسوس ہوتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں، ہر طرح سے کوشش کر چکا ہوں۔ اب میری ہمت جواب دے گئی ہے۔‘

عارف کا معاملہ بھی مختلف نہیں مگر پچھلے دو طالب علموں کو علم تھا کہ وہ کیوں اداس ہیں، ان کے پاس وجوہات تھیں۔ عارف کے پاس اداسی کی وجہ نہیں تھی مگر وہ زندگی سے خوش نہیں تھا۔ اچانک سے اداسی کی کیفیت طاری ہو جانا اور پھر کئی کئی دن اسی کیفیت میں گزر جانا۔ ایک اور ذہین طالب علم نے ایک دن پوچھا، ’میڈم میری زندگی سے دلچسپی ختم ہوتی جا رہی ہے، کسی کام میں دل نہیں لگتا، کیا سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے یا میں پاگل ہو رہا ہوں؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پچھلے آٹھ سالوں تک جامعہ میں پڑھاتے ہوئے یہ حقیقت خوب واضح ہوئی کہ ہمارے آس پاس ذہنی صحت کے بہت سے مسائل ہیں جنہیں ہم دیکھ کر اَن دیکھا کر دیتے ہیں۔ جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ یہ تمام وہ طالب علم ہیں جن کا شمار اپنی کلاسوں کے ذہین طلبہ میں ہوتا ہے۔ یہ بظاہر ہنستے کھیلتے ہیں۔ سب کے ساتھ گھل مل کر بھی رہتے ہیں۔ اسی لیے ان میں سے جب بھی کوئی طالب علم میرے پاس مدد کی غرض سے آیا تو کچھ دیر تک یقین نہیں آتا تھا کہ یہ اپنے اندر کس قدر طوفان برپا کیے ہوئے ہیں۔ میں نے جسے بھی ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی، اس نے صاف منع کر دیا۔

یہاں چند باتیں قابل ذکر ہیں۔

  • ہمیں سامع میسر نہیں جن سے ہم اپنے دل کی بات کہہ سکیں اور ہمیں یقین ہو کہ ہمارے جذبات سننے کے بعد ہماری باتیں ان کے دلوں میں محفوظ رہیں گی اور ہمیں برا نہیں سمجھا جائے گا۔
  • ذہنی صحت یا اس سے متعلق معاملات ہمارے معاشرے میں مسائل کی حیثیت نہیں رکھتے۔ جسمانی بیماری میں تو لوگ ڈاکٹر کے پاس بھاگیں گے مگر اسٹریس، اینگزائٹی اور ڈپریشن سے ہمیں خود ہی نمٹنا ہے کیونکہ ماہر نفسیات کے پاس جانے کا مطلب خود پر پاگل پن کا لیبل لگوانا ہے۔
  • اگر کوئی کہنے کی ہمت بھی کرتا ہے تو ہم صبر اور شکر کا لیکچر جھاڑ کر ایک طرف ہو جاتے ہیں۔
  • ہم یہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ ایک انسان جو بظاہر خوش اور کامیاب زندگی گزار رہا ہے، وہ بھی زندگی کے کسی موڑ پر ہمت ہار سکتا ہے اور اسے اپنے آس پاس سننے، سمجھنے اور مدد کرنے والوں کی ضرورت بھی ہو سکتی ہے۔ بالخصوص مردوں کو رونے، فکرمند ہونے اورکمزور پڑنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ مرد ’بہادر‘ ہوتے ہیں اور اس لیے ہم یہ انسانی جذبہ اور اس کا اظہار ان سے چھین لیتے ہیں۔
  • ماہر نفسیات نایاب ہیں اور ان کی فیسیں اتنی زیادہ ہیں کہ ہرایک کی جیب ان کے پاس جا کراپنے درد کا مداوا کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
  • جب کوئی انتہائی قدم اٹھا لیتا ہے تو ہم سلگ کر رہ جاتے ہیں کہ ہمیں بتایا ہوتا، کچھ کہا ہوتا، سنا ہوتا۔ جب کہ اس کی زندگی میں ہمارے رویے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔

اٹلی کی جس جامعہ میں میں زیر تعلیم ہوں، یہاں نفسیات کا شعبہ بہت فعال ہے اور سینکڑوں طالب علم یہاں سے تعلیم حاصل کر کے ملک کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں ماہر نفسیات بننے کے لیے کئی سالوں پر محیط تعلیم اور پھر عملی مشق درکار ہے، اس کے بعد ہی باقاعدہ لائسنس لیا جا سکتا ہے۔

میرے ساتھ رہنے والی دونوں لڑکیا ں ماریہ اور پاسکوالینا بھی نفسیات میں ماسٹرز کر رہی ہیں اور اس کے بعد تھراپی میں سپیشلائزیشن کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یہاں نفسیات کے طالب علم اتنے زیادہ ہیں کہ اکثر طالب علموں کو تعلیم کے بعد اپنی نوکری کے آثار مشکل ہی نظرآتے ہیں۔

میں نے ماریہ سے پوچھا کہ یہ سب جاننے کے بعد بھی وہ اسی مضمون میں ڈگری کیوں لے رہی ہیں؟ ان کا جواب تھا، ’میرا شوق مجھے یہاں تک لایا ہے۔‘

ایک پروفیسر نے کہا تھا کہ اٹلی میں نفسیات کے شعبے کوعوام میں قبولیت بھی نفسیات کے پروفیسروں اور ماہرین کی محنت کی وجہ سے ملی ہے ورنہ یہاں بھی صورت حال مختلف ہی ہوتی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں پر نفسیات کی کئی سپیشلائزیشن ہیں مثلاً بچوں کے لیے الگ، قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کے لیے مختلف، جیل میں قید مجرموں اور ان کے اہل خانہ کے لیے، کاروباری دنیا سے متعلق لوگوں اور ان کے کسٹمر کی نفسیات سمجھنے کے لیے اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

میری ایک کزن پچھلے چند دنوں سے آفس کے کچھ مسائل کی وجہ سے پریشان ہے اوراب اس کا خیال ہے کہ وہ یہ حالت مزید برداشت نہیں کر پا رہی۔ میں نے اسے فوری طور پر ماہر نفسیات سے مشورہ کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس کی فیملی سے رابطہ کرکے کہا کہ اس کا خیال رکھیں۔ دن میں ایک مرتبہ فون کر کے اس کی وہی بار بار دہرائی گئی باتیں پھر سے سنتی ہوں اور وہ تھوڑی ریلیکس ہو جاتی ہے۔ گوگل پر جو تدابیر ہیں، وہ بھی اسے بتاتی ہوں۔ ایک سامع بننے کی کوشش کر رہی ہوں اور وہ دل کھول کر اپنی بھڑاس نکالتی ہے۔

 ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس وقت دنیا میں ساڑھے 26 کروڑ لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں۔ آپ بھی ایک کام کریں، ذرا آس پاس نظر دوڑائیں، کوئی ایسا مل جائے گا جس کے لب کچھ بولنا چاہ رہے ہیں۔ شاید آپ کے لیے بے تکی، بے وجہ سی بات ہو۔ اس کے لیے بہت اہم ہو گی۔ سن لیں۔ ورنہ جون ایلیا تو شکوہ کر ہی چکے ہیں۔

ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی

(نوٹ: تحریر میں شامل تمام طالب علموں کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔)

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ