کرونا بلوچستان کے ادب کو بھی 'متاثر' کرنے لگا

بلوچستان کے ادیب، شاعر اور گلوکار کرونا وبا کے زندگی پر اثرات کو اپنا موضوع خیال بنانے لگے ہیں۔

ان دنوں ادیبوں کا موضوع سخن کرونا وبا ہ (تصویر پکسا بے)

کرونا (کورونا) وبا سے جہاں دنیا کے دیگر شعبوں میں تبدیلیاں آئی ہیں وہیں اس نے ادب کے سابقہ موضوعات کو بھی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔

اب ادیبوں کا موضوع سخن بھی یہی وبا ہے۔ درحقیقت آج کا ادب وبا سے مقابلے کے لیے شعور کا نام ہے۔ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا مستقبل میں لوگ فاصلے سے رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ صرف دلوں کا رشتہ ہوگا کیونکہ اس سے بچاؤ کے لیے ماہرین سماجی دوری کا اصول اپنانے کی تجویز دیتے ہیں۔

بلوچستان کے معروف ادیب، شاعر اور اکادمی ادبیات کے ریجنل ڈائریکٹر افضل مراد کے افسانے بھی اب موجودہ دور میں لوگوں کی کیفیات کو بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ افضل مراد کا موضوع کرونا اور اس کے اثرات ہیں، جسے انہوں نے اپنے دو افسانوں 'آخری آدمی' اور 'نوٹوں کی گنتی' کے ذریعے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔

افضل مراد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ افسانہ 'آخری آدمی' انہوں نے بنیادی طور پر انسان کے شعور کو مد نظر رکھ کر لکھا ہے، جس کا موضوع یہی ہے کہ اگر یہ وبا ساری دنیا کو کھا جائے گی تو جو شخص بچےگا وہ زندگی کا عمل آگے کیسے بڑھائے گا۔ ملاحظہ کیجیے 'آخری آدمی' سے ایک اقتباس:

'کوئی احتیاط نہیں، کوئی پری کاشنز (احتیاطی تدابیر) نہیں لے  رہے ہو ۔۔۔۔ اس صورت میں موت تو یقینی ہے ۔۔۔ یہ جراثیم ہے مگر تم لوگوں نے اسے ملک الموت بنا دیا ہے ۔۔۔ جسے دیکھو ۔۔۔ کرونا کا ورد کر رہا ہے۔'

دوسرے افسانے 'نوٹوں کی گنتی' کا موضوع بھی کرونا وبا ہی ہے، جس میں انہوں نے حد درجہ احتیاط اور کسی چیز کو ہاتھ لگانے سے مرض کے لگنے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ افضل مراد کے بقول: 'نوٹوں کی گنتی' کا خیال اس خبر سے آیا کہ نوٹ گنتے ہوئے زبان کے استعمال سے بھی کرونا پھیل سکتا ہے۔ 'میں نے اپنے افسانے میں اس پر تنقید کی ہے کہ اگر یہ خوف رہا تو کہیں ہمارا شیرازہ بکھر نہ جائے۔

انہوں نے بتایا 'جیسے کہا جاتا ہے کہ گاڑی کے سٹیئرنگ کو بغیر دھوئے ہاتھ نہ لگائیں، ڈیش بورڈ کو نہ چھوئیں، تو ان ہی خبروں کو سامنے رکھ کر میں نے افسانہ لکھا ہے۔ نوٹوں کی گنتی میں، میں نے یہ بتایا کہ زیادہ احتیاط ہمیں ایک دوسرے سے دور کر رہی ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ کل ہمیں ہماری اولاد بھی ہمیں قبول نہیں کرے۔'

ملاحظہ کیجیے 'نوٹوں کی گنتی' سے اقتباس:

'حامد میں بہت سے سارے عیب تھے مگر وہ رشتوں اور دوستوں کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا اور ان کو زندگی کا اصل سرمایہ کہتا تھا۔۔۔۔وقت کیسے کروٹ بدلتا ہے کوئی نہیں جانتا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'حامد با رہا کہہ چکا تھا کہ میں کرونا کے جراثیم سے پاک ہوں۔۔۔ میں صحت مند ہوں ۔۔۔!! مگر میڈیا کی خبروں اور لوگوں کی خوف کی فضا میں اس کی باتیں نہ کوئی سن رہا تھا، نہ سمجھنا چاہ رہا تھا۔'

ادیب سمجھتے ہیں کہ ادب بھی انسانی زندگی میں آنے والے نشیب و فراز، مشکلات، وباؤں اور آزمائشوں کو موضوع بناتا ہے اور یہ اس سے جڑا ہوا ہے۔ فضل مراد کے مطابق: 'اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ادیبوں نے جنگوں، وباؤں، تقسیم، فسادات، ناانصافیوں اور ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔'

افضل سمجھتے ہیں کہ ادیب اور شاعر کسی بھی قوم اور معاشرے کے اجتماعی شعور اور احساسات کا نمائندہ ہوتا ہے، اس لیے وہ اس کے مصائب اور مشکلات کو اپنے کرداروں کے ذریعے سامنے لاتا ہے۔

افسانوں کے علاوہ کرونا کے موضوع پر ناول بھی لکھے جا رہے ہیں اور معروف ادیب حسن منظر نے بھی 'وبا' کے نام سے ایک ناول لکھا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان میں براہوی زبان کی شاعری اور گلوکاری میں کرونا وبا کو موضوع بنایا جا رہا ہے۔

کرونا کا چونکہ کوئی علاج نہیں لہٰذا مقامی زبان میں گلوکار لوگوں کو ماسک لگانے اور سماجی دوری اختیار کرنے کی تلقین بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

افضل مراد سمجھتے ہیں کہ کرونا ادب کو متاثر کر رہا ہے اور کرچکا ہے، اب اس کے موضوعات میں یہ مرض زیادہ آ رہا ہے اور ادیب اور شاعر اسی پر لکھ رہے ہیں۔ 'اس کا خوف کینسر سے زیادہ خطرنا ک ہے کیونکہ آپ ایک ان دیکھے دشمن سے لڑتے ہیں۔ کرونا عرصے تک ادب کو متاثر کرتا رہے گا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ادب